قرآنيات
قرآن كی بلاغت- معطوف اور معطوف عليہ كا فاصلہ
ثناء اللہ حسين
کسی نے شیخ پروفیسر ڈاکٹر جمال فاروق الدقاق سے سوال کیا:"اے ہمارے شیخ! اللہ تعالیٰ نے یہ کیوں فرمایا:"وإذيرفع إبراهيمُ القواعدمن البيت وإسماعيلُ(اور جب ابراہیم بیت اللہ کی بنیادیں اٹھا رہے تھے اور اسماعیل بھی)"اور یہ کیوں نہیں فرمایا:"وإذيرفع إبراهيم وإسماعيل القواعدمن البيت-(اور جب ابراہیم اور اسماعیل بیت اللہ کی بنیادیں اٹھا رہے تھے)؟شیخ ( رحمہ اللہ) نے نہایت خوبصورت جواب دیتے ہوئے فرمایا:جب معطوف (جس کا ذکر بعد میں ہو) اپنے معطوف علیہ (جس پر عطف کیا گیا ہو) کے فوراً بعد آ جائے، تو وہ اس حکم میں برابر کی نسبت سے شریک ہوتا ہے۔لیکن اگر ان دونوں کے درمیان کوئی فاصلہ (جیسے کوئی لفظ یا جملہ) آ جائے، تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ وہ حکم میں تو شریک ہیں مگر اس حکم کے تحقق کی نسبت میں دونوں کے درمیان تفاوت (فرق) ہے۔
اس مقام کی حکمت:اس آیت میں اصل اور حقیقی تعمیر کرنے والے (البانی الحقيقي) سیدنا ابراہیم علیہ السلام ہیں، جبکہ سیدنا اسماعیل علیہ السلام ان کے معاون اور مددگار تھے۔ چنانچہ حضرت اسماعیل علیہ السلام تعمیر کے حکم (فعل) میں تو شریک تھے، لیکن شرکت کی وہ نسبت اور درجہ برابر نہ تھا جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کا تھا۔
اس کی ایک اور مثال:اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان:ءامن الرسول بماأنزل إليه من ربه والمؤمنون-(رسول اس پر ایمان لائے جو ان کے رب کی طرف سے ان پر نازل ہوا، اور مومنین بھی -اللہ نے یہ نہیں فرمایا:(ءامن الرسول والمؤمنون بما أنزل إليهم من ربهم)(رسول اور مومنین اس پر ایمان لائے جو ان کے رب کی طرف سے ان پر نازل ہوا)
وجہِ فرق:اس کی وجہ یہ ہے کہ مومنین، نبی کریم ﷺ کے ساتھ "ایمان" کے حکم میں تو شریک ہیں، لیکن وہ ایمان کی نسبت اور یقین کی اس قوت میں آپ ﷺ کے برابر نہیں ہو سکتے۔اللہ اکبر قرآنِ کریم کی اس بلاغت، باریکی اور درستگی کو دیکھیے!