چراغِ آخر شب

مصنف : نورالرحمان ہزاروی

سلسلہ : یادِ رفتگاں

شمارہ : مئی 2026

ياد رفتگاں

چراغِ آخر شب!

نورالرحمان ہزاروی

میں وہ اندوہ گین شام کبھی نہیں بھول سکتا، جب خبر ملی کہ میرِ کارروانِ علم وادب حضرت مولانا مسعود باللہ ، المعروف ’’ابن الحسن عباسی ‘‘صاحب قدرے طویل علالت کے بعد اس دارِ فانی سے کوچ کرگئے ہیں۔خبر کیا تھی ، گویا غم کا ایک پہاڑ دل پر ٹوٹ پڑا ہو۔ ان کے ’’غمِ ہجر‘‘ کے نتیجے میں پیدا ہونےوالے ’’زہرِ غم‘‘ سے دل میں ایک ایسا کانٹا چُبھ کر رہ گیا جو شاید عمر بھر نہ نکل سکے۔

راقم الحروف کو حضرت کا پہلا شرفِ نیاز ۱۹۹۵ ء میں حاصل ہوا، جب انہیں جامعہ فاروقیہ میں درجہ رابعہ کی ایک اہم اور مشکل ترین ادبی کتاب ’’مقاماتِ حریری‘‘ پڑھانے کی ذمہ داری تفویض ہوئی، یہ ان کی تدریس کا پہلا سال تھا۔میں کلاس کے بالکل آخر میں بیٹھا کرتا تھا، ان کی عادت تھی، پڑھانے کے بعد ایک ، دو طالبعلموں سے ضرور سبق سنا کرتے، ایک دن اچانک راقم پر ’’نظرِ کرم‘‘ پڑی، فرمایا: ’’اٹھو! سبق سناؤ‘‘۔ میں اٹھا، اور ان کا سبق بعینہ انہی کے الفاظ میں فرفر سنادیا، ان کا ترجمہ بھی ٹھیٹھ ادبی اردو پر مشتمل ہوتا، بہت زیادہ خوش ہوئے، بس اس کے بعد سبق دہرائی کی ذمہ داری میرےناتواں کاندھوں پر آپڑی، جوں ہی سبق پڑھادیتے، فرماتے: ہاں، اَنوار الرحمن پڑھو! شروع شروع میں انوار الرحمن کہہ کر پکارتے تھے۔ ’’درسِ مقامات‘‘ نامی شرح انہوں نے اسی سال کے دروس کی تیاری کے دوران مرتب فرمائی، جس کی نوک پلک سنوارنے اور طباعت کے جان گسل مراحل مکمل ہونے میں دو تین برس لگ گئے، اسی عرصہ میں انہوں نے ’’متاعِ وقت اور کاروانِ علم‘‘ نامی ایک ایسا شاہکار تالیف کیا، جس سے ان کے مرغِ شہرت کی پرواز پاکستان کی فضا سے نکل کر ہندوستان اور دیگرممالک تک پھیل گئی، اور پھر باوجودکشاکش دردِ پنہاں کے کبھی نہ رکی۔

راقم کا ان سے تعلق ’’باپ، بیٹے‘‘ والا تھا، میری علمی واصلاحی تربیت میں ان کا کلیدی کردار رہا ہے۔ واقفانِ حال بخوبی جانتے ہیں، کہ راقم ان کا ’’ اخص واقرب‘‘شاگرد تھا۔ ایک بار بتانے لگے: ایک صاحب کہ رہے تھےکہ: حضرت! آپ ہمیں توجہ نہیں دیتے، جبکہ نور الرحمن ہمیشہ سے آپ کی توجہ کا خصوصی مرکز ہے۔تو میں نے جواب دیاکہ تم نور الرحمن بن جاؤ تو تمہیں بھی اتنی ہی توجہ دوں گا۔

۲۰۰ء میں جس سال’’جامعہ بنوری ٹاؤن‘‘ سے میری فراغت ہوئی، اس سال وفاق المدارس کے امتحان میں راقم کی ملکی سطح پر پہلی پوزیشن آئی تو انہوں نے مجھے ’’جامعہ بنوری ٹاؤن‘‘ ہی میں تدریس کرنے کا مشورہ دیا ، حضرت مفتی نظام الدین شامزئیؒ کی بھی یہی خواہش تھی، مگر کچھ اسباب کی بنا پر مجھے یہی بہتر لگا کہ کسی اور جامعہ سے علمی سفر کی ابتدا کروں؛ چنانچہ قرعہ ٔ فال ’’جامعہ ندوۃ العلم‘‘ کے نام نکل آیا، جو ان کے بڑے بھائی جناب مفتی معتز باللہ صاحب کا ادارہ ہے۔ تقریبًا سات سال تک وہاں نظامتِ تعلیم وتدریس کے فرائض انجام دیے۔ اس دوران ان کی رہنمائی مسلسل میرے ساتھ شامل رہی، تقریبًا ہر روز فون فرماتے اور طویل گفتگو کرتے، کبھی اپنے پاس جامعہ فاروقیہ بلالیتے۔ عمومًا اسفار میں مجھے ساتھ لے کر جاتے۔ ہمارے آپس کے معاملات بغیر حساب وکتاب کے ہوتے۔ میرے پاس کوئی چیز ہوتی ، انہیں پسند آجاتی ، اپنی سمجھ کرلے لیتے، اچھی عِطر کبھی میرے پاس مل جاتی تو فورًا لگاکر جیب میں ڈال دیتے، اور یہی حال میری جانب سے بھی تھا۔ میری صحت کے حوالے سے کافی فکر مند رہتے، خدمت پر مامور طالب علم سے کہا ہوا تھاكہ مجھ سے ہفتہ وار پیسے لے جایا کرو، مگر اس کو مت بتانا، کہ یہ کسی کتاب وغیرہ میں اڑا دےگا، اور اس کے لئے پابندی سےموسمی پھل لایا کرو، اور خود کھلایا کرو، اگر رقم قبل از وقت ختم ہوجایا کرے تو مجھے بتادیا کرنا۔

ایک مرتبہ سعودی عرب سے میرے چھوٹے بھائی شبیر خان عربی ادیب علامہ طنطاویؒ کی ’’ذکریات‘‘ میرے لئے لائے ، میں بہت خوش ہوا، فوراً حضرت استاذ جی کو دکھانے لے گیا، حالانکہ مجھے پتہ بھی تھا کہ استاذجی کو پسند آ گئی تو واپس نہیں ملے گی۔ اور ہوا بھی ایسا ہی۔ ان کے پاس کچھ جلدیں پرانی پڑی ہوئی تھیں، میری والی کے بدلے انہوں نے وہ مجھے تھمادیں!! سبحان اللہ! دراصل جب بھی وہ میری کوئی چیز لیتے ، تو دل و جان خوشی سے سرشار ہو جاتے کیونکہ اس کا مطلب یہ ہوتا تھا کہ وہ مجھے اپنا ہی سمجھتے ہیں۔

بہت زیادہ ذہین تھےاور غضب کا حافظہ پایا تھا، ایک مرتبہ ہم سفر میں تھے ، انہوں نے جامعہ فاروقیہ جلدی پہنچنا تھا؛ کیونکہ ظہر کے بعد انہوں نے ’’بیضاوی‘‘ کا گھنٹہ پڑھانا ہوتا تھا،مجھے ’’بیضاوی‘‘ پر شیخ زادہ کا حاشیہ دے کر فرمایا کہ اس مقام سے اسے پڑھو، میں سنوں گا ، میں چند منٹ تک عبارت پڑھتا رہا، ایک مقام پر پہنچنے کے بعد فرمایا : بس کافی ہے۔ میں نے پوچھا: آپ نے مجھ سے عبارت کیوں پڑھوائی؟ فرمایا: ابھی جاکر گھنٹہ پڑھانا ہے۔ میں نے کہا: آپ نے پہلے مطالعہ کیا تھا؟ فرمایا: احمق! اگر مطالعہ کیا ہوتا تو تم سے کیوں پڑھواتا؟ !

۲۰۰۷ء میں خرابیٔ صحت کی بنا پر مجھے جامعہ ندوۃ العلم کو خیرباد کہنا پڑا ، تب انہوں نے اپنا ادارہ بنانے کا فیصلہ کیا، فرمایا: یہ ادارہ تمہارے لئے بنا رہا ہوں؛ اس لئے نام بھی تم ہی رکھوگے۔ خیر کافی سوچ بچار کے بعد میں نے ’’تراث الاسلام‘‘ نام تجویز کیا، جسے انہوں نے بھی پسند فرمایا۔لکھنے کافن میں نے انہی سے سیکھا، شروع شروع میں جب میں کوئی تحریر لکھتا تو وہ اس کی نوک پلک سنوار دیتے ، ایک عرصہ تک یہ سلسلہ چلتا رہا، یہاں تک کہ میری تحریر میں نکھار پیدا ہونا شروع ہوگیا۔ بعد ازاں انہی کے حکم پر میں نے ماہنامہ ’’وفاق المدارس‘‘ میں ’’وہ کتابیں اپنے آبا کی!‘‘ کے عنوان سے عالَمِ اسلام کے اہم مصادر پر تفصیلی ناقدانہ تعارف لکھنا شروع کیا، مجھ سے پہلے حضرت مولانا نور البشر صاحب کے پاس یہ سلسلہ ہوتا تھا۔جسے الحمد للہ ملک بھر میں بہت زیادہ سراہا گیا۔ بعد ازاں اس کے کچھ مضامین کتابی صورت میں بھی شائع ہوئے، جس کا پیشِ لفظ خود حضرت استاذجی نے لکھا تھا۔

وہ سخنور، سخن شناس، سخن سنج، سیر چشم، خود دار، نہایت فیاض، اور وسعتِ نظر سے مالامال تھے، ان کی مثال اس سمندر کی سی تھی، جس کی بالائی سطح ساکن، مگر اندرونی سطح یواقیت ولآلی کے گراں قیمت خزانوں سے معمور ہوتی ہے،وہ نہ صرف یہ کہ بہترین عالم تھے، ایک منجھے ہوئے مدرس اور مایہ ناز وصاحبِ طرز ادیب بھی تھے۔ ان کے سدا بہار قلم سے نکلنے والے کئی علمی شہہ پارے اہلِ علم وادب سے داد وتحسین کا خراج وصول کرچکے ہیں، جن میں کشف الباری شرح صحیح بخاری -کتاب المغازی تا کتاب الرقاق- چھ جلدیں، متاعِ وقت اور کاروانِ علم، التجائے مسافر، کرنیں، داستان کہتے کہتے، کتب نما، کتابوں کی درس گاہ میں، درسِ مقامات، توضیح الدراسہ فی شرح الحماسہ، قلم نما، وفاق المدارس العربیہ پاکستان -ساٹھ سالہ تاریخ، کچھ دیر غیر مقلدین کے ساتھ، قابلِ ذکر ہیں۔

ان کا اندازِ نگارش انتہائی جاندار وپرکشش ہے، جس میں ارتجال وبے ساختہ پن، سلاست وروانی، بلاغی استعاروں کا تڑکہ اور ادبی چاشنی کا وہ سامان ہوتا ہے کہ قاری پڑھتا چلا جاتا ہے، آگے بڑھتا چلاجاتا ہے، مگر ہاتھ لگی تحریر چھوڑنے کو اس کا دل آمادہ نہیں ہوتا، تمنا ہوتی ہے کہ یہ قلم یوں ہی رواں رہے اور قاری اپنی تشنگی بجھاتا رہے۔ گاہے گاہے اپنی تحریر میں پشتو کا تڑکا بھی لگاتے، جس سے تحریر کا لطف دو آتشہ ہوجاتا ۔ ان کی تحریر میں تصنع، تکلف، اور تعسف وغیرہ خامیاں نہیں ہوتیں۔ اردو تشبیہات، استعارات وتمثیلات پر ان کی گرفت قابلِ داد ہے۔ سالِ نو کی ابتدا پر ان کی ایک سدا بہار تحریر پڑھیں اور سر دھنیں:

’’فانی زندگی کا ایک اور یخ بستہ دسمبر گزر گیا، سلسلہ روز و شب کا ایک اور برس بیت گیا، زندگی کی چالیس سے زیادہ بہاریں دیکھنے والا مسافر مڑ کر نظر دوڑاتا ہے تو بچپن کی شرارتوں، لڑکپن کی شوخیوں اور جوانی کی شادمانیوں اور ناکامیوں کی ایک فلم ذہن و دماغ میں چلنے لگتی ہے جس میں وہ سب کچھ گردش کر رہا ہوتا ہے جو انسان کی بےثبات زندگی کا ازل سے حصہ ہے۔ کہیں اجڑی اجڑی سی منزلیں، کہیں ٹوٹے پھوٹے سےبام و در …کہیں سرد موسموں کی ٹھنڈی ہوائیں،کہیں زرد پتوں کے اداس شجر…کہیں رکتے قافلے ہم سفر…کہیں چلتےمسافر خاک بسر…کوئی پہاڑوں میں ،کوئی بیابانوں میں، کوئی شہروں میں نہ جانے کون دیار زیست میں کہاں کہاں بچھڑ گیا…کہیں خوشیوں کی رونقیں، کہیں غموں کی مجلسیں… کبھی حسرتوں کے ہجوم کے ساتھ،کبھی آرزؤں کے نجوم کے ساتھ ،کبھی تمناؤں کے خون کے ساتھ…کبھی وصال یار کا زیرو بم، کبھی ہجر و فراق کا نالہ غم : اے وائے دلم ، وائے دلم، وائےدلم …کبھی صبح زندگی، کبھی شام زندگی ، کبھی تپتی ساعتوں والی آلام زندگی، بس پلک جھپکنے میں تمام زندگی : عبرت نشان زندگی … !! اس چندروزہ حیات مستعار کا سب سے حسین تحفہ،حسن خاتمہ ہے ،جس کے لیے زبان رسالت مآب صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے نکلی ہوئی یہ دعا کتنی خوبصورت دعا ہے، اسے اپنی معمول کی دعاؤں میں شامل کرلینا چاہیے: اللهمّ أحْسِنْ عَاقِبَتَنَا فِی الأُمُورِ كُلِّهَا، وَأجِرْنَا مِنْ خِزْي الدُّنْیَا وَعَذَابِ الآخِرَةِ ۔ اے اللہ!تمام امور میں ہماری عاقبت کو سنواردیں اور دنیا کی رسوائی اور آخرت کے عذاب سے ہمیں نجات عطا فرمادیں‘‘۔

غرض وہ ایک سخنور تھے ، جو اپنا سحر دکھا کرچل دیے ۔۔واعظ تھے، جو سوتوں کو جگا کرچل دیے۔۔۔عالم وادیب تھے، جو علم وادب کا دریا بہا کرچل دیے۔۔۔وہ ایک حدی خواں تھے، جو بھٹکتے قافلوں کو نشانِ منزل دکھاتے رہے۔۔۔ وہ کارواں کے ان سالاروں میں سے تھے، کہ جن کی بلند حوصلگی سے قافلوں کی رفتار برق بن جاتی ہے۔۔۔ جن کے علم وادب کا گہرا بادل برسہابرس اقلیمِ پاک وہند پر پیہم مصروفِ بارش رہا، کتنی بار یہ بادل، ابر نیساں بن کر برسا اور اس عجائب زار پاک وہند کا دامن لعل وگہر اور سرخ یواقیت سے بھرگیا ۔۔۔وہ ایسے چراغِ آخرِ شب تھے کہ جن کے بعد تاریکی نہیں، اجالا ہی اجالا ہے!!

ہمیں خبر ہے کہ ہم ہیں چراغِ آخرِ شب--ہمارے بعد اندھیرا نہیں ، اجالا ہے

طالبانِ علوم ِ نبوت میں کون سا شخص ہے، جس کی گردن اس گوہر نایاب کی شخصی یا علمی منت سے گراں بار نہیں، پاکستان کا مایہ ناز ادارہ جامعہ فاروقیہ کا شعبہ ٔ تصنیف وتالیف ان کے احسانات کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے اور رہے گا، کہ وہ تاہنوز ان کے خوانِ منت کا ریزہ چین ہے۔

گذشتہ عید الاضحیٰ پر میں حسبِ معمول کراچی گیا ہوا تھا، استاذ جی سے بھی ملنے کا ارادہ تھا، مگر اشغال شاغلہ آڑے آرہے تھے، آج  کل کرتے کافی دن گزر گئے، اسی دوران میرے عزیز ترین دوست اور بھائی شیخ القرآن والحدیث مولانا ثناء اللہ صاحب جو استاذجی کے بھانجے ہیں، اور شیخ الحدیث جامعہ حقانیہ اکوڑہ خٹک حضرت مولانا مغفور اللہ صاحب أطال اللہ بقاءہ فی عافیۃ وعلی طاعتہ کے بھتیجے ہیں - کا فون آگیا ، کہ استاذجی کا پتہ چلا؟ وہ سخت بیمار ہیں، ان کو فالج کا اٹیک ہوا ہے، اور شنید ہے کہ کینسر بھی ہے، تم ان سے ملے؟ یہ بات سننا ہی تھی کہ دل ڈوب ڈوب سا گیا، گویا دل پر ایک بجلی سی گر پڑی، فورًا فون بند کرکےاستاذجی سے رابطہ کیا، مگر فون رسیو نہیں کررہے تھے، میسج کیا، کچھ دیر بعد جواب آیا ، عرض کیا: زیارت کے لئے آنا چاہتا ہوں، فرمایا: آجاؤ۔ اگلے دن حاضری ہوئی، کچھ دیر ڈرائنگ روم میں انتظار کیا، اتنے میں تین چار افراد انہیں کرسی پر اٹھائے لے آئے، حالت دیکھی، بے اختیار رونا آگیا، اٹھا، ہاتھ ملایااور پیشانی کو بوسہ دیا۔ پھر قدرے لڑکھڑاتی ہوئی آواز میں اپنے مرض کی تفصیل سنائی۔ میرے ساتھ جامعہ صدیقیہ ناتھا خان گوٹھ کے مہتمم مولانا شفیق الرحمن کاشمیری صاحب بھی تھے۔ کافی دیر بیٹھے رہے، پھر بادلِ نخواستہ اجازت چاہی، رخصت لے کر نکل گئے۔ کیا پتہ تھا کہ یہ ان سے آخری ملاقات ہوگی!!اگلے دن یا اس سے اگلے دن پشاور واپسی تھی، واپس آیا، اور اپنی مصروفیات میں مگن ہوگیا، مگر دل استاذجی کے ساتھ ہی اٹکا رہا، اس دوران ان کے صاحبزادہ سعود عباسی سے مسلسل رابطہ میں رہا، کچھ دنوں بعد اطلاع ملی کہ ان کا کامیاب آپریشن ہوگیا ہے، بہت زیادہ خوشی ہوئی، مگر یہ خوشی عارضی تھی، معلوم ہوا کہ حضرت کی طبیعت آہستہ آہستہ دوبارہ بگڑ رہی ہے، ان کے بھائی مفتی معتز باللہ عباسی صاحب سے رابطہ کیا، انہوں نے تسلی دی، مگر میں بہت پریشان تھا، میں نے کہا: حضرت! میں ان کو دیکھنے کے لئے کراچی آنا چاہتا ہوں، انہوں نے بہیترا کہا: ضرورت نہیں ہے، وہ اب پہلے سے بہتر ہیں، مگر دل کو سکون کہاں تھا! بہرحال کافی اصرار کے بعد انہوں نے کہا: ٹھیک ہے، آپ پیر ، منگل تک آجاؤ۔ میں دوتین دن بعد روانہ ہوگیا۔ جب پہنچا ، تو مفتی معتز باللہ صاحب سے رابطہ کیا تو ان کا فون بند جارہا تھا، پتہ چلا ، وہ گاؤں گئے ہوئے ہیں، استاذجی کی اہلیہ ، ہماری اہلیہ کی رشتہ دار ہیں، ان کے ذریعے معلوم کیا، انہوں نے بتایا، حضرت کی حالت بہت خراب ہے، ملاقات ممکن نہیں۔ بہت دکھ ہوا، کہ ملاقات نہ ہوسکی۔کچھ دنوں بعد واپس پشاور آگیا۔ قریبی لوگوں سے پتہ چلا کہ حضرت اب کسی بھی وقت رخصت ہوسکتے ہیں۔ دن بھی اداس ہوگیا اور میری راتیں بھی اداس ہوگئیں، من کی نگری اجڑ سی گئی، ہوش گم، نظر اداس اور دل سرد ہوگیا، چین وسکون کو گویا ایک گھن سا لگ گیا اور آخر اللہ تعالی کی مرضی پوری ہوئی، خبر آگئی کہ استاذجی نے ہم سب کو الوداع کہہ دیا۔

ان کی وفات ایک ایسا جاں گداز حادثہ ہے، جس پر قدیم وجدید دونوں گروہ یکساں رنج والم کے ساتھ ماتم کریں گے۔ ان کے جانے سے پیدا ہونے والا خلا شاید کبھی پُر نہ ہوسکے۔ بلاشبہہ ان کا سانحۂ ارتحال ،ایک خاندان کا ماتم نہیں ، ایک ادارہ کا ماتم نہیں، ایک ملک کا ماتم نہیں، پورے عالَمِ اسلام کا ماتم ہے، فضل وکمال کا ماتم ہے، علم وادب کا ماتم ہے، عقل ورزانت اور فکر واصابت کا ماتم ہے، طالبانِ علوم اسلامیہ کے طالع وبخت کا ماتم ہے، گویا:مرثیہ ہے ایک کا اور نوحہ ہے ساری قوم کا

وہ بلا نزاع پاکستان کا فخر اور مذہبی حلقہ کی آبرو تھے، ان کے فانی جسم نے مفارقت کی، مگر ان کی ابدی زندگی ان شاء اللہ تعالیٰ ہمیشہ قائم وباقی رہے گی اور مدارسِ دینیہ کے درودیوار سے ایک مدت تک ان کے ماتم کی صدائے بازگشت آتی رہے گی کہ:

ہرگز نمیرد آنکہ دلش زندہ شد بعشق--ثبت است بر جریدۂ عالم دوام ما

وہ اکثر بہادر شاہ ظفر کے یہ اشعار گنگنایا کرتے تھے:

لگتا نہیں ہے جی مرا اُجڑے دیار میں--کس کی بنی ہے عالمِ ناپائدار میں

بُلبُل کو باغباں سے نہ صَیَّاد سے گلہ--قسمت میں قید لکّھی تھی فصلِ بہار میں

کہہ دو اِن حسرتوں سے کہیں اور جا بسیں--اتنی جگہ کہاں ہے دلِ داغدار میں

ایک شاخ گل پہ بیٹھ کے بلبل ہے شادمان--کانٹے بچھا دیے ہیں دل لالہ زار میں

عُمْرِ دراز مانگ کے لائے تھے چار دن--دو آرزو میں کٹ گئے دو انتظار میں

دِن زندگی کے ختم ہوئے شام ہو گئی--پھیلا کے پاؤں سوئیں گے کُنجِ مزار میں

کتنا ہے بدنصیب ظفر دفن کے لیے--دو گز زمین بھی نہ ملی کوئے یار میں

آہ!!! کہ بہت کچھ کہنا ہے، لیکن کیا کیا جائےکہ ہمارے سینوں میں جو وسعتیں ہیں، قلم، الفاظ، روشنائی اورکا غذ کے صفحات ان میں روح ڈالنے سے عاجز ہیں!!!! استاذ جی کا جانا میرے لیے ایک ایسا صدمہ ہے، جس کا اثر دیر تلک اور دور تلک رہے گاعلم وادب کی یہ روشن شمع بجھ گئی، مگر اس کے دھویں کی سیاہی سے جریدۂ عالم پر یہ ہمیشہ لکھا نظر آئے گا:

رفتم واز رفتنِ من عالَمے تاریک شد--مَن مگر شمعم چو رفتم، بزم برہم ساختم