صبر كا پھل

مصنف : مولانا روم

سلسلہ : اصلاح و دعوت

شمارہ : مئی 2026

اصلاح و دعوت

صبر كا پھل

مولانا روم

مولانا رومی رحمتہ الله علیہ بیان کرتے ہیں کہ طالقان کے علاقے کا رہنے والا ایک شخص جس کو شیخ ابو الحسن خرقانی رحمتہ الله علیہ کی زیارت کا بےحد شوق تها لیکن راستے کی دوری اور سفر کی مشکلات کا خیال آتا تو خرقان جانے کی ہمت نہ پڑتی،خیر آخر ایک دن شوق زیارت نے اس کو بےتاب کردیا رخ زیبا کی زیارت کے لئے سامان سفر باندھ لیا- راستہ کٹهن و دشوار گزار تها لیکن وہ ہمت کا پکا تها کئی دن تک پہاڑی اور جنگلی راستے سے ہوتا ہوا ایک طویل اور پر صعوبت سفر کے بعد آخر کار منزل مقصود تک پہنچ گیا-

شہر خرقان میں آ کر اس نے شیخ ابوالحسن خرقانی رحمتہ الله علیہ کے گهر کا پتا دریافت کیا وہاں جا کر نہایت ادب سے دروازے کی زنجیر ہلائی تهوڑی دیر بعد ایک عورت نے گهر کی کهڑکی سے جانک کر پوچها کون ہے ؟؟اس نے جواب دیا میں حضرت شیخ ابوالحسن رحمتہ الله علیہ کی قدم بوسی کے لئے شہر طالقان سے حاضر خدمت ہوا ہوں-اس عورت نے کہا واہ میاں درویش بهلا یہ بهی کوئی مقصد تها کہ جس کے لئے تو نے اتنا طویل و کٹهن سفر طے کیا ہے معلوم ہوتا ہے تو نے دهوپ میں اپنی داڑھی سفید کی ہے تمہاری عقل و دانش پر رونے کو جی چاہتا ہے کیا تجهے اپنے وطن میں کام دهندہ نہ تها؟؟

عقیدت مند یہ ماجرا دیکھ کر ہکا بکا رہ گیا اور اس کی آنکهوں سے آنسو بہنے لگ گئے تاہم اس نے ہمت کرکے پوچها حقیقت حال کچھ بهی ہو یہ بتائیے کہ شیخ صاحب ہیں کہاں ؟ چونکہ وہ عقیدت کا ہاتھ تهام کر آیا تها اس لیے اس عورت کی باتوں پر خاموش رہا-عورت نے جواب دیا ارے وہ کہاں کا شیخ و شاہ بن گیا اس نے تو دهوکے کا جال بچها رکها ہے تجھ جیسے احمقوں کو اپنی ولایت کے جال میں پهنساتا ہے اب بهی وقت ہے جہاں سے آیا ہے الٹے پاؤں واپس چلا جا ،ورنہ اس دغا باز کے چکر میں پهنس کر تباہ و برباد ہو جائے گا نہ دین کا رہے گا نہ دنیا کا- وہ بڑا حضرت ہے اس کی زبان و آنکهوں میں ایسا جادو ہے کہ اچها خاصا عقل مند بهی اس کے فریب میں آ جاتا ہے -اب تو شیخ کے معتقد کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا اور کہنے لگا "چراغ تلے اندهیرا بی بی شیخ کے انوار فیوض سے ایک دنیا جگمگا رہی ہے اور ان کی عظمت نے افلاک کی رفعتوں کو چهولیا ہے"،"چاند پر تهوکنے والا اپنے منہ پر ہی تهوکتا ہے" کتا دریا میں گر جائے تو پانی ناپاک نہیں ہوتا آفتاب عالم تاب لاکھ پهونکیں ماریں وہ کبهی نہیں بجھ سکتا چمگادڑ رات کے اندهیرے میں اڑنے والی سورج کو نکلنے سے کیسے روک سکتی ہے غرض درویش نے شیخ کی اہلیہ کو ایسی کهری کهری سنائیں کہ وہ اپنا سا منہ لے کر رہ گئی-

وہ آدمی وہاں سے نکل کر شہر کے لوگوں سے شیخ کا پوچهنے لگا کسی نے بتایا کہ وہ جنگل کی طرف گئے ہوئے ہیں یہ سنتے ہی وہ راہ حق کا مسافر دیوانہ وار شیخ کی تلاش میں جنگل کی طرف روانہ ہو گیا -راستے میں شیطان نے اس کے دل میں وسوسے ڈالنے شروع کر دئیے سمجھ میں نہیں آتا تها کہ آخر شیخ نے ایسی بےہودہ بدتمیز و زبان دراز عورت کو اپنے گهر میں کیوں رکها ہے -عجیب معاملہ ہے یہ میاں بیوی آپس میں کس طرح زندگی گزارتے ہوں گئے "ایک آگ ہے اور دوسرا پانی" ان مجموعہ اضداد میں محبت کیسے ہو سکتی ہے ایسے وسوسے آتے بےچارہ گهبرا کر لاحول پڑهتا اور کانوں کو ہاتھ لگاتا-شیخ کے بارے میں ایسے خیالات کو دل میں جاگزیں کرنا نادانی ہے انہی سوچوں کا تانا بانا بنتا چلا جا رہا تها کہ آخر دل نے کہا کہ اس میں کوئی بهید ہو گا وہ انہیں خیالات کی دنیا میں گم تها کہ اس کی نظر ایک شخص پر پڑی جو شیر کی پیٹھ پر اس شان سے سوار تها کہ پیچهے لکڑیوں کا گٹها لدا ہوا ہے اور ہاتھ میں سیاہ سانپ کا کوڑا ہے عقیدت مند سمجھ گیا کہ یہی شیخ ابو الحسن خرقانی رحمتہ الله علیہ ہیں اس سے پہلے کہ یہ کچھ عرض کرتا شیخ صاحب نے دور سے ہی مسکراتے ہوئے فرمایا،عزیزم اپنے فریبی نفس کی باتوں میں نہ آ اور ان پر دهیان نہ دے -ہمارا اکیلا پن اور جوڑا ہونا نفس کی خواہش کے لئے نہیں ہے الله کے حکم کی تعمیل کے لئے ہے- ہم اس جیسے سینکڑوں بےوقوفوں کا بوجھ برداشت کرتے ہیں یہ گفتگو میں نے تمہاری خاطر کی ہے تاکہ تو بهی بدخو ساتهی سے بنائے رکهے تنگی کا بار ہنسی خوشی برداشت کر کیونکہ صبر کشادگی کی کنجی ہے-الله نے مجهے یہ بلند مقام اپنی بیوی کی بدزبانی پر صبر کرنے کی وجہ سے عطا فرمایا ہے اگر میں اس کی ہرزہ سرائی برداشت نہ کرتا تو یہ شیر میرا مطیع کیسے ہوتا-

گر نہ صبر میکشیدے بار زن --کے کشیدے شیر نر بیگار من

"اگر میرا صبر اس عورت کا بوجھ نہ اٹها سکتا تو یہ شیر میرا بوجھ کیسے اٹهاتا"!!.

مولانا رومی رحمتہ الله علیہ اس واقعہ سے یہ درس دے رہے ہیں کہ انسان کو ہر حال میں راضی بہ رضائے الہی رہنا چاہیئے اور صبر و شکر سے کام لینا چاہیئے یقیناً صبر کرنے سے ہی اعلی مقامات عرفان حاصل ہوتے ہیں-(حکایات رومی،،،مثنوی مولانا روم)