نماز ميں توجہ – تين تراكيب

مصنف : عظیم الرحمن عثمانی

سلسلہ : اصلاح و دعوت

شمارہ : مئی 2026

اصلاح و دعوت

نماز ميں توجہ – تين تراكيب

عظيم الرحمان عثمانی

دوران نماز ممکنہ دنیاوی خیالات سے نکلنے کیلئے تین سادہ ترکیبوں کو اختیار کیجیئے۔

1۔ نماز کی نیت کرتے وقت کم از کم خود کو یاد ضرور دلائیں کہ آپ بارگاہ الٰہی میں حاضر ہونے کیلئے کھڑے ہوئے ہیں۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں واضح الفاظ میں بتادیا ہے کہ 'انما الاعمال البنیات' - یعنی اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے۔ لہٰذا نیت سب سے زیادہ اہم ہے اور ہم نیت افسوسناک طور پر ایسی سرسری سی کرتے ہیں جیسے گویا اسکی کوئی درکار ہی نہیں۔

2۔ جب قیام، رکوع یا سجدوں کے دوران تکبیر یعنی اللہ اکبر کہیں تو یہ سوچیئے کہ آپ کا اللہ سب سے بڑا ہے ، صرف سمندر پہاڑ آسمان کائنات ہی سے بڑا نہیں بلکہ ان متفرق خیالات سے بھی بڑا ہے جو عین اس وقت آپ کے ذہن میں دوران نماز پیدا ہورہے ہیں۔ یہ سوچتے ہی آپ کو لازماً محسوس ہوگا کہ توجہ واپس عبادت کی جانب لوٹ آئی ہے اور یوں ہر رکن پر اللہ اکبر کہتے ہی ارتکاز گہرا ہوتا چلا جائے گا۔

3۔ ہر رکن جیسے رکوع، سجدے یا قعدے میں اذکار و تسبیحات کے بعد کچھ دیر خاموشی سے اسی حالت میں بس موجود رہیں۔ صرف خود کو یاد دلائیں کہ آپ کیا کررہے ہیں؟ جیسے میں اس وقت رب العالمین کو سجدہ کررہا ہوں یا اس سچے شہنشاہ کے سامنے ادب سے رکوع میں جھکا ہوا ہوں یا بارگاہ الٰہی میں قعدہ کی حالت میں دوزانو بیٹھا مناجات کررہا ہوں۔

یہ تینوں سادہ سے طریق خشوع و خضوع کے واسطے بہت ہی کارآمد اور آزمودہ ہیں۔ لہٰذا انہیں ضرور اپنائیں۔ باقی اور بھی ڈھیروں طریق ہیں جو اپنی نماز کو بہتر سے بہترین بنا دیتے ہیں۔ ان میں سب سے بڑھ کر میرے نزدیک معنی و مطالب سمجھ کر الفاظ کی ادائیگی ہے۔ مگر یقین جانیئے اوپر درج یہ تین تراكيب کسی تحفے سے کم نہیں۔