اصلاح و دعوت
وسوسہ
واصف علی واصف
ورلڈ کی جتنی Classics ہیں اُن میں ايك”ولن“ ہوتا ہے جس کا کام یہ ہوتا ہے کہ
شریف آدمیوں کے درمیان ایک ایسا ”وسوسہ ڈالنا“ جس سے وہ ایک دوسرے کو دیکھنے سے ”نفرت“ کرنے لگ جائیں ۔مثلاً ایک بڑا مشہور واقعہ Othelloکا واقعہ ہے ، وہ ایک نوجوان ہے ، حبشی ہے بہادر جرنیل ہے - دلیری اور فتوحات کی وجہ سے ایک white لڑکی سے اس کا شادی ہو گئی ۔لڑکی کے باپ کی مرضی کے بغیر ۔ اس کو گورنر بنا دیا گیا اپنے علاقے كے ايك جزیرے میں ۔يہاں تک یہ واقعہ ہے اب آگے اس کا نوکر ، وہ ولن بن جاتا ہے ۔نوکر جا کے اس بہادر حبشی کے کان میں کہتا ہے بھئی بات سنو ، تم نے شادی تو کر لی اس خوبصورت لڑکی سے اس کے باپ کی مرضی کی بغیر ، میں تو آپ کا نوکر ہوں نمک خوار جسے کہتے ہیں -میں تو کچھ نہیں کہہ سکتا ۔ بلند مرتبے کی باتیں ہیں ، غریب نا چیز ہوں " جو لڑکی باپ کی وفادار نہیں وہ تمھاری وفا دار کیسے ہو گی "۔۔۔؟ناچیز کو معاف کر دینا ۔بس اتنی سی بات اس کے کان میں ڈال دی ، بس اس وسوسے میں اس بہادر کی راتیں بے تابئ میں گزر گئیں ۔سوچتا رہا كہ جوباپ کے ساتھ وفا دار نہیں----اب دوسری طرف اس معصوم لڑكی کو پتہ ہی نہیں کہ اس کے ساتھ كيا ہونے والا ہے ۔ایک دن وہ اپنے گھر ميں چہل قدمی کر رہی تھی كہ اس کا رومال گر گیا - اُس نوكر نے وہ رومال اُٹھا لیا ، کہتا ہے (مالک سے ) اس ناچیز کو معاف کر دینا میں تو آپ کا نمک خوار ہوں ، میں یہاں سے چلا جاتا ہوں کیونکہ میں اپنی گناہ گار آنکھوں سے دیکھ نہیں سکتا كہ جو مصيبتیں آپ پر آرہی ہیں -اُس نے کہا کیا ہوا ۔۔۔؟۔ کہنے لگا كہ وہ جو دوسرا آدمی ہے نا اس کے گھر میں میرا جانا ہوا ، میں کیا بتاؤں ۔اچھا ۔۔۔معاف کر دیں پھر کبھی بتاؤں گا ۔ تجسس ۔۔۔اُس نے کہا اچھا ایک شرط پہ بات بتاتا ہوں كہ آپ اپنی بیوی کو معاف کر دیں ۔(مالک )کہتا ہے ہاں ہاں معاف کر دوں گا ۔ بتاؤ کیا بات ہے ۔۔؟کہنے لگا كہ وہ وہاں جاتی تو روز ہی تھی لیکن رومال آج وہاں چھوڑ آئی ہے ۔اس نے رومال پہچان لیا ۔بس پھر وہ گھر گیا ۔شور مچایا اُس نے رومال ، رومال ، اُس معصوم ( بیوی ) کو تو پتہ ہی نہیں کیا واقعہ ہوا ہے ، اور رومال کدھر ہے ۔۔؟ کیا کہہ رہے ہو ۔۔؟؟شوہر نے تکیہ دیا منہ پر suffocate کر دیا ۔مار دیا ، اس نے جب چیخ ماری مرتے ہوئے تو اُس نوكر ولن کی بیوی آگئی ۔کہنی لگی کیا کیا تم نے ۔۔؟کیوں مارا ۔۔۔؟ کہنے لگا كہ یہ رومال شُمال وہاں پھینک آئی ۔ وہ عورت كہنے لگی یہ بکواس ہے سب ۔تُومیرے خاوند کے دا م ميں آ گيا- یہ رومال تو یہيں تھا میرے خاوند نے مجھ سے مانگا تھا- وہ تو بہت ولن ہے بدمعاش آدمی ہے ۔ولن (نوکر)کو پکڑا گيا- وہ كہنے لگا كہ میں تواپنا کام کر چکا ۔۔آپ نے مجھے مارنا ہے تو مار دو ، میں اپنا کام کر چکا ۔كہنے لگا كہ مجھ سے يہ برداشت نہیں ہو سکاكہ آپ اتنے خوش رہتے ہو ، بس مجھے حسد ہو گيا-اس بہادر حبشی نے اس نوكر كو بھی مار دیا ۔ بعد میں كہنے لگا کہ میں کتنا برا انسان ہوں کہ میں نے ایک ایسا ہيرا ضائع کر دیا ۔جو میرے خاندان ، میرے قبیلے ، میری نسلوں میں سب سے زیادہ قیمتی تھا ۔اب جو مرضی كہو چيخو چلاؤ ، وسوسے نے اپنا كام كر ديا-
“ يوَُ سْوسُ فىُ صُدُوْرالناس “ یہ شیطان بھی ہو سکتا ہے ، یہ آدمی بھی ہو سکتاہے ، آپ کا اپنا اندیشہ بھی ہو سکتا ہے ۔ اس لئے بار بار کہا گیا ہے ۔ یا اللہ ہمیں وسوسوں سے بچا ، یہ قرآن کا دوسرا اعجاز ہے کہ اگر آپ وسوسوں سے نجات چاہو گے تو وہ وسوسے جو انسانی شکل میں آتے ہیں ، یا انسانوں کی شکل میں آتے ہیں یا جو اندر سے پیدا ہوتے ہیں اندیشے ، أن سے بھی اللہ تعالی آپ کو بچا دے گا ۔یہ قرآن کا اعجاز ہے ۔کہ آپ پڑھو تو وسوسے ختم ہو جائیں گے ۔آپ یہ پڑھو تو جو یہ جنات ہوتے ہیں اس سے آپ نجات پا جاؤ گے ۔قرآن کی یہاں تلاوت ہو رہی ہو، جنات کے قافلے سن کر نکل جاتے ہیں شرارتیں نہیں چھوڑ جاتے ۔ ورنہ یہ فتنہ ساز ہوتے ہیں چھیڑ خانی کرتے رہتے ہیں ۔
ایسے ایسے وسوسے ہوتے ہیں ایسے ایسے واقعات ہوتے ہیں کہ انسان چھوٹی چھوٹی باتوں میں آ کے تباہ ہو جاتا ہے ۔یہ اندیشے کون ڈالتا ہے ۔۔۔؟ آپ کا اپنا خیال ڈال سكتا ہے ، بتانے والا ڈالتا ہے ، کوئی اور ڈال سکتا ہے ۔اس لئے باتوں کی بڑی احتیاط کرو ۔ آپ پر جتنی بھی تاثیرNegative ہوتی ہے وہ قرآن پاك پڑھنے سے ختم ہوجاتی ہے-
“ وسوسہ “ وہ آپ کو پتا ہے ۔۔۔۔؟ وہ کہاں گیا ۔۔، بس اتنی بات كہنا كافی ہے ۔ جو گھر میں بیٹھے ہوئے ہیں ۔وہ آپ کا خادند ۔۔۔ بیوی ۔۔۔کہاں جاتی ہے ۔۔۔۔۔؟ ؟پتہ ہے آپ کو ۔۔۔۔؟؟ کہتا ہے مجھے نہیں پتہ ۔ کہتا ہے پھر کیا پتا ہے تجھے ۔۔۔؟؟؟
بس اتنی بات کہہ دينا كافی ہے ۔ تباہی کیلئے کہتا ہے آپ کو کیا بتا یا جائے ؟ آپ تو بندے ہی بڑے درویش ہیں ۔بتانے والی بات ہی نہیں ہے ۔
یہ قرآن پاک کا اعجاز ہے ، اس سے ہر قسم كے وسوسے ختم ہو جاتے ہيں-