نعت رسول كريم

مصنف : سراج الدين ظفر

سلسلہ : نعت

شمارہ : مئی 2026

نعت رسول كريمﷺ

سبوئے جاں میں چھلکتا ہے کیمیا کی طرح

کوئی شراب نہیں عشقِ مصطفیٰ کی طرح

وہ جس کے لطف سے کھِلتا ہے غنچہء ادراک

وہ جس کا نام نسیمِ گرہ کشا کی طرح

طلسمِ جاں میں وہ آئینہ دارِ محبوبی

حریمِ عرش میں وہ یارِ آشنا کی طرح

وہ جس کا جذب تھا بیداریِ جہاں کا سبب

وہ جس کا عزم تھا دستورِ ارتقا کی طرح

سوادِ صبحِ ازل جس کے راستے کا غبار

طلسمِ لوحِ ابد جس کے نقشِ پا کی طرح

خزاں کے حجلہء ویراں میں وہ شگفتِ بہار

فنا کے دشت میں وہ روضہء بقا کی طرح

وہ عرش و فرش و زمان و مکاں کا نقشِ مراد

وہ ابتدا کے مطابق وہ انتہا کی طرح

بسیط جس کی جلالت حمل سے میزاں تک

محیط جس کی سعادت خطِ سما کی طرح

شرف ملا بشریت کو اس کے قدموں میں

یہ مشتِ خاک بھی تاباں ہوئی سُہا کی طرح

اسی کے حسنِ سماعت کی تھی کرامتِ خاص

وہ اک کتاب کہ ہے نسخہء شفا کی طرح

بغیرِ عشقِ محمد کسی سے کھل نہ سکے

رموزِ ذات کہ ہیں گیسوئے دوتا کی طرح

ریاضِ مدحِ رسالت میں راہوارِ غزل

چلا ہے رقص کناں آہوئے صبا کی طرح

نہ پوچھ معجزہء مدحتِ شہِ کونین

مرے قلم میں ہے جنبش پرِ ہما کی طرح

جمالِ روئے محمد کی تابشوں سے ظفر

دماغِ رند ہوا عرشِ کبریا کی طرح

سراج الدين ظفر