نعت رسول كريم

مصنف : نعيم صديقی

سلسلہ : نعت

شمارہ : جون 2026

نعت رسول كريم

ہوا ہے دل کا تقاضا کہ ایک نعت کہوں

میں اپنے زخم کے گلشن سے تازہ پھول چنوں

پھر ان پہ شبنم اشک سحر گہی چھڑکوں

پھر ان سے شعروں کی لڑیاں پرو کے نذر کروں

میں ایک نعت کہوں سوچتا ہوں کیسے کہوں

میں تیرہ صدیوں کی دوری پہ ہوں کھڑا حیراں

یہ ایک ٹوٹا ہوا دل یہ دیدۂ گریاں

یہ منفعل سے ارادے یہ مضمحل ایماں

یہ اپنی نسبت عالی یہ قسمت واژوں

میں ایک نعت کہوں سوچتا ہوں کیسے کہوں

یہ تیرے عشق کے دعوے یہ جذبۂ بیمار

یہ اپنی گرمئ گفتار دستیٔ کردار

رواں زبانوں پہ اشعار کھو گئی تلوار

حسین لفظوں کا انبار اڑ گیا مضموں

میں ایک نعت کہوں سوچتا ہوں کیسے کہوں

پہن کے تاج بھی غیروں کے ہم غلام رہے

فلک پہ اڑ کے بھی شاہین اسیر دام رہے

بنے تھے ساقی مگر پھر شکستہ جام رہے

نہ کارساز خرد ہے نہ حشر خیز جنوں

میں ایک نعت کہوں سوچتا ہوں کیسے کہوں

یہاں کہاں سے مجھے رفعت خیال ملے

کہاں سے شعر کو اخلاص کا جمال ملے

کہاں سے قال کو گم گشتہ رنگ حال ملے

حضور ایک ہی مصرع یہ ہو سکا موزوں

میں ایک نعت کہوں سوچتا ہوں کیسے کہوں

نعيم صديقی