نعت رسول كريم
ہوا ہے دل کا تقاضا کہ ایک نعت کہوں
میں اپنے زخم کے گلشن سے تازہ پھول چنوں
پھر ان پہ شبنم اشک سحر گہی چھڑکوں
پھر ان سے شعروں کی لڑیاں پرو کے نذر کروں
میں ایک نعت کہوں سوچتا ہوں کیسے کہوں
میں تیرہ صدیوں کی دوری پہ ہوں کھڑا حیراں
یہ ایک ٹوٹا ہوا دل یہ دیدۂ گریاں
یہ منفعل سے ارادے یہ مضمحل ایماں
یہ اپنی نسبت عالی یہ قسمت واژوں
میں ایک نعت کہوں سوچتا ہوں کیسے کہوں
یہ تیرے عشق کے دعوے یہ جذبۂ بیمار
یہ اپنی گرمئ گفتار دستیٔ کردار
رواں زبانوں پہ اشعار کھو گئی تلوار
حسین لفظوں کا انبار اڑ گیا مضموں
میں ایک نعت کہوں سوچتا ہوں کیسے کہوں
پہن کے تاج بھی غیروں کے ہم غلام رہے
فلک پہ اڑ کے بھی شاہین اسیر دام رہے
بنے تھے ساقی مگر پھر شکستہ جام رہے
نہ کارساز خرد ہے نہ حشر خیز جنوں
میں ایک نعت کہوں سوچتا ہوں کیسے کہوں
یہاں کہاں سے مجھے رفعت خیال ملے
کہاں سے شعر کو اخلاص کا جمال ملے
کہاں سے قال کو گم گشتہ رنگ حال ملے
حضور ایک ہی مصرع یہ ہو سکا موزوں
میں ایک نعت کہوں سوچتا ہوں کیسے کہوں
نعيم صديقی