نعت رسول كريمﷺ
جب تخیل کو گریے سے روشن کیا٬ نعت ہونے لگی
بانجھ سینے میں اک سبز غنچہ کھلا٬ نعت ہونے لگی
مجھ پہ جیسے ہی قرآن کھلتا گیا٬ دل مدینہ بنا
شوقِ دیدار پھر حد سے بڑھنے لگا٬ نعت ہونے لگی
میں مدینے گیا تو نہیں پر ازل سے مدینے میں ہوں
جب بھی چاہا تو آنکھوں میں نقشہ کھچا٬ نعت ہونے لگی
اس قدر تشنگی تھی کہ بچنے کا کوئی بھی چارا نہ تھا
پھر مجھے سامنے جامِ کوثر دکھا٬ نعت ہونے لگی
خشک کاغذ ہُوا آب دیدہ٬ سمندر میں ڈھلنے لگا
جب سرِ ورق میں نے یہ جملہ لکھا: "نعت ہونے لگی"
اُن کے روضے پہ میرے مکمل بدن کو لگے لب اویسؔ
ہر مسام ایک پختہ سخن ور بنا٬ نعت ہونے لگی
محمد اویس رشید