نعت رسول كريمﷺ
میری قسمت کا میرے خدا تو اگر ، دور کر دے اندھیرا تو کیا بات ہے
ہجر کی تند و تاریک راتوں کا اب ، ہو حرم میں سویرا تو کیا بات ہے
اس سے بڑھ کر بھی کیا کوئی اعزاز ہے ان کی حرمت پہ کٹ جاۓ گردن میری
لطف سے اپنے کر دے کسی روز یہ پورا ارمان میرا تو کیا بات ہے
میرے ہونٹوں سے ہر دم رہیں پھوٹتے ، اپنے آقا کی توصیف کے زمزمے
اس کے بدلےمجھے قبر اور حشر میں،رحمتوں نےہو گھیرا تو کیابات ہے
نیکیوں سے تو دامن ہے خالی میرا ، ایک امید پر آسرا ہے فقط
حشر میں شافع حشر کے فیض سے کام بن جاۓ میرا تو کیا بات ہے
اے خدا جسم پر بازوؤں کی جگہ اپنی قدرت سے تو پر لگا دے مجھے
دن تو اڑتا پھروں گرد کعبے کے شب ہو مدینے بسیرا تو کیا بات ہے
اے خدا اپنے محبوب برحق کی تو خواب میں ہی زیارت کرا دے کبھی
مستحق تو نہیں میں اس اعزاز کا فضل ہو جاۓ تیرا تو کیا بات ہے
اب تو جی میں ہے جا کر وہیں جا بسوں موت آئے تو آئے وہیں پر مجھے
ہو مدینے کی گلیوں کا اس مرتبہ اس طرح کا جو پھیرا تو کیا بات ہے
سبز گنبد کو مشتاق نظروں سے میں ٹکٹکی باندھ کر ایسے تکتا رہوں
لب پہ صلے علیٰ کا میرے ورد ہو دم نکل جاۓ میرا تو کیا بات ہے
رشک میرے مقدّر پہ کرنے لگیں سب فرشتے بھی حوریں بھی غلمان بھی
کملی والے کے قدموں میں یوں جا کے میں ڈال دوں اپنا ڈیرہ تو کیا بات ہے
روز محشر کرم یوں ہو سلمان پر ، جب پریشاں کھڑا ہو وہ میزان پر
آ کے خود وہ فرشتوں سے کہہ دیں وہاں ، یہ ثناء خواں ہے میرا تو کیا بات ہے
سید سلمان گیلانی