نعت رسول كريمﷺ
برہنہ سر ہوں، عطا ہو ردا مدینے کی
بچائے دھوپ سے مجھ کو گھٹا مدینے کی
بجھی بجھی سی ہیں آنکھیں، دھواں دھواں ہے نظر
لگا دو اِن میں ذرا خاکِ پا مدینے کی
ہر ایک زخم پہ رکھا ہے ریشمی مرہم
مرے طبیب! ہے کیسی شفا مدینے کی!
میں طاقِ جاں میں سجائے ہوں حسرتوں کے دیے
کہ اِن چراغوں میں اترے ضیا مدینے کی
جھکا کے آنکھ کی چلمن میں دل میں رکھ لوں اسے
جو میری سانس میں مہکے فضا مدینے کی
مہک اٹھی ہے مری روح کی قبا اِس سے
مجھے بھی چھو کے گئی ہے ہوا مدینے کی
مِرے گناہ بھی، میری حیا بھی لرزاں ہے
مجھے اوڑھا دو خدارا، ردا مدینے کی
ہر ایک سانس ہے مہرہ، حیات ہے تسبیح
پرو رہی ہے اسے بس رضا مدینے کی
میں کاتتا ہوں جو چرخے پہ سوت سانسوں کا
سنائی دیتی ہے اِس میں صدا مدینے کی
فنا کے ہاتھ بھی یہ رنگ تو مٹا نہ سکے
مری دعا پہ سجی ہے حنا مدینے کی
تمام عمر کی آوارگی کے بعد بھی نجم
گلے لگا کے سُلائے قضا مدینے کی
نجم سہروردی