اصلاح و دعوت
نماز كی قسميں
عظيم الرحمان عثمانی
1۔ دکھاوے کی نماز
اس میں نمازی ،نماز فقط دوسروں کو دکھانے کیلئے پڑھتا ہے۔ تاکہ اسے نیک سمجھا جائے یا احباب میں بھرم قائم رہے۔ اس نماز کو شرک سے تعبیر کیا گیا ہے اور ایسی نمازیں روز حساب منہ پر دے ماری جائیں گی۔ جو لوگ فوٹو سیشن کیلئے یا سوشل میڈیا پر توجہ حاصل کرنے کیلئے ایسا کرتے نظر آتے ہیں، وہ بلاشبہ خود کو بہت بڑے نقصان میں ڈال رہے ہیں۔
2۔ عجلت کی نماز
اس نماز میں نمازی جلدی جلدی بنا سوچے سمجھے بس نماز نمٹاتا ہے۔ گویا کوئی بوجھ ہے جو معاذاللہ وہ اتار پھینکنا چاہتا ہے۔ اسکی قبولیت بہت مشکوک ہے۔ کئی احادیث میں اسکی مذمت ہے۔
3۔ سستی کاہلی کی نماز
اس نماز میں نمازی جسمانی و ذہنی تھکن کے سبب سستی سے نماز پڑھتا ہے۔ ہم کمزور انسان ہیں اور کبھی کبھار ایسی سستی کا طبیعت پر بوجھ بن جانا ممکن ہے۔ اسلئے رحمت خداوندی سے قبولیت کی پوری امید ہے۔ گو کاہلی کو دانستہ طور پر مستقل روش بنا لینا ،ظاہر ہے رب کی ناراضگی کو آواز دینا ہے۔
4۔ روٹین کی نماز
ہم میں سے اکثر کی نماز روٹین کی نماز ہے۔ جیسے ایک تجربہ کار ڈرائیور کا لاشعور ڈرائیونگ کے لوازم ادا کرنے لگتا ہے۔ ویسے ہی یہاں بھی نمازی کی نماز "آٹو" پر انجام پارہی ہوتی ہے۔ ایسے میں نمازی کا نہ الفاظ پر دھیان ہوتا ہے اور نہ ارکان پر۔ اسی طرح وہ معنوں سے بھی انجان ہوتا ہے۔ گویا اسے نہیں معلوم کہ وہ پڑھ کیا رہا ہے؟ قرآن حکیم میں شراب کی ممانعت کی بابت میں اشارہ ہے کہ تب تک نماز نہ پڑھو جب تک یہ سمجھنے نہ لگو کہ کیا کہہ رہے ہو؟ اس نہ سمجھنے کا لازمی نتیجہ یہ بھی ہے کہ ذہن میں دنیاوی خیالات کی بھرمار ہوجاتی ہے۔ نمازی کا ذہن بار بار بھٹکتا ہے اور وہ بار بار واپس اپنا ذہن نماز کی جانب لاتا رہتا ہے۔ یہ نماز قانونی طور پر تو ادا ہوگئی مگر نمازی نماز کے اصل ثمرات ویسے نہیں حاصل کرپاتا جیسا اس عظیم عبادت کا حق ہے۔ یہاں خیال رہے کہ اس بڑی محرومی کے باوجود بھی یہ پڑھنے والے کو ایک درجے رب سے جوڑے رکھتی ہے اور بہرحال اس شخص سے ہزار گنا بہتر ہے جو نماز کو ترک کیئے بیٹھا ہو۔ فجر میں نیند توڑ کر اٹھنا، ظہر عصر میں کام چھوڑ کر حاظر ہونا اور مغرب عشاء میں تھکن کی پرواہ کئے بناء نماز پڑھنا اپنے آپ میں بڑی سعادت ہے۔
5۔ شعوری سطح کی نماز
اس میں نمازی نیت سے لے کر قرأت تک اور اذکار سے لے کر ارکان تک شعوری سطح پر کسی درجے حضوری کی کیفیت میں ہوتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ میں رب کی بارگاہ میں ہاتھ باندھے کھڑا ہوں، رب العالمین کو سجدہ کررہا ہوں، اس کا کلام پڑھ رہا ہوں اور اس سے کلام و مناجات کررہا ہوں۔ اس نماز میں بھی نمازی کا ذہن کبھی کبھی خیالات سے بھٹکتا ہے مگر یہ بھٹکنا عام آدمی والا بھٹکنا نہیں ہے۔ بلکہ اس میں نمازی اپنے رب ہی کی کسی عظمت پر کچھ دیر کیلئے مرتکز ہوجاتا ہے یا کلام اللہ کے کسی حکم و واقعے کی جانب اس کا ذہن چلا جاتا ہے۔ جیسے ابراہیم علیہ السلام کا نام مبارک دوران تلاوت آگیا تو سوچ میں ان کی بےمثال قربانیاں خودبخود جگہ بنانے لگی۔ یہ بھٹکنا محبوب کی گلیوں میں بھٹکنا ہے جو سعادت ہے۔ یہ مومن کی وہ مقبول نماز ہے جو قائم ہوکر برائیوں سے روکتی ہے اور خداشعوری پیدا کرتی ہے۔
6۔ درجہ احسان کی نماز
یہ وہ نماز ہے جسے حدیث جبرئیل علیہ السلام میں احسان کی عبادت سے تعبیر کیا گیا ہے۔ گویا حضوری کا احساس اس قدر گہرا ہو اور خشوع کی کیفیت اس درجے طاری ہو کہ جیسے اپنے رب کو دیکھ ہی رہا ہو یا اتنا کہ رب مجھے دیکھ رہا ہے۔ ایک ایک لفظ شعور و تفکر سے ادا ہو۔ ایک ایک رکن سکون سے آراستہ ہو۔ محبت و خشیت دونوں وجود کا احاطہ کئے ہوئے ہوں۔ ایسے میں جسم پر کپکپی طاری ہونا یا آنسوؤں کی جھڑی بندھ جانا عین ممکن ہے۔ عموماً یہ اخلاص سے سجی تنہائی کی نماز ہوتی ہے جہاں عبد و معبود کے سوا اور کوئی نہیں ہوتا۔ اسی لئے نماز کو مومن کی "معراج" بھی کہا گیا ہے۔
نماز کی مزید کیفیات و مراتب بھی بیان کرنا ممکن ہیں مگر یہ وہ چند نمایاں روش ہیں جو راقم نے محسوس کیں۔ واللہ اعلم بالصواب۔