اصلاح و دعوت
زندگی بدلنے والے دو سوال
قاسم علی شاہ
”ہارورڈ بزنس اسکول“ کا شمار دنیا کے معیاری اور معروف ترین تعلیمی اداروں میں ہوتا ہے۔2010 میں یہاں ایک استاد پڑھاتا تھا جس کا نام کلیٹن کرسٹنسن تھا۔ چونکہ اس کا تعلق بزنس اور مینجمنٹ کے شعبے سے تھا، اس لیے وہ معاشرے کے مال دار لوگوں کے بارے میں جاننے کا خواہش مند تھا کہ ان کی ذاتی زندگی کیسی ہے۔ اس کے مشاہدے کے مطابق ظاہری طور پر کام یاب نظر آنے والے افراد ذاتی زندگی میں خوش نہیں تھے۔ وہ اپنے مشاہدات اپنے شاگردوں کے سامنے بیان کرتا اور انھیں مستقبل کے بارے میں سوچ سمجھ کر فیصلہ کرنے کی ترغیب دیتا۔کچھ عرصے بعد ہارورڈ بزنس اسکول کے فضلا کا ایک اجتماع ہوا۔ ان فضلا کی اکثریت Fortune 500 (امریکا کی 500 مال دار ترین کمپنیاں) میں اپنی خدمات سرانجام دے رہی تھی۔ یہ تمام لوگ مال دار تھے لیکن جب ان کی ذاتی زندگی سامنے آئی تو معلوم ہوا کہ بڑے عہدوں پر فائز ہونے کے باوجود یہ لوگ خوش نہیں ہیں، ان کی ازدواجی زندگی پرسکون نہیں اور ان کے اپنے بچوں کے ساتھ تعلقات بھی ٹھیک نہیں۔ اس بات نے کلیٹن کرسٹنسن کو یہ سوچنے پر مجبور کیا کہ آخر کیا وجہ ہے کہ کام یاب لوگ ذاتی زندگی میں خوش نہیں ہوتے۔ اس نے تحقیق شروع کی اور دو سال بعد اسے How will you measure your life کے نام سے کتابی شکل دے دی۔ اسی کتاب کے تناظر میں میں آپ سے ایسے دوسوال پوچھنا چاہتا ہوں جن کے درست جوابات اگر آپ جان جائیں تو آپ پرسکون اور کام یاب زندگی جی سکیں گے۔
پہلا سوال یہ ہے کہ آپ جو کام کر رہے ہیں، آپ کے نزدیک اس کی کیا اہمیت ہے؟
دنیا میں دو طرح کے لوگ ہیں۔ ایک وہ جن کا شوق اور پیشہ ایک ہے۔ یہ خوش قسمت لوگ ہیں۔یہ دل لگا کر کام کرتے ہیں اور اس سے بھرپور انداز میں لطف اندوز ہوتے ہیں۔ ایسے لوگ تھکتے نہیں اور نہ ہی کبھی کام کی وجہ سے بیزار ہوتے ہیں۔ یہ آپ کو ہمیشہ خندہ پیشانی سے ملیں گے اور آپ انھیں کسی بھی وقت کام کے لیے بلائیں تو یہ انکار نہیں کریں گے۔ یہ چیز ان کی جسمانی، ذہنی اور نفسیاتی صحت کو بہتر بناتی ہے اور اسی کی بدولت یہ خوش رہتے ہیں۔
دوسری قسم کے لوگ وہ ہیں جو اپنا پیشہ ورانہ کام شوق سے نہیں بلکہ مجبوری سے کرتے ہیں۔ایسے لوگوں کو اپنے کام سے لگاؤ نہیں ہوتا۔ صبح 9 سے شام 5 تک کام کرنے والے یہ لوگ بار بار گھڑی دیکھتے ہیں کہ چھٹی میں کتنا وقت باقی رہ گیا۔ یہ اپنے کام کی وجہ سے تناؤ کا شکار رہتے ہیں اور بعض اوقات بڑی نفسیاتی بیماریوں میں بھی مبتلا ہوجاتے ہیں، اسی وجہ سے ان کی زندگی بے سکون ہوتی ہے۔
ہم جس معاشرے میں رہتے ہیں، اس کے اپنے معیار ہیں۔ معاشرہ چاہتا ہے کہ تمام لوگ ان پر پورا اتریں۔ جو لوگ اس سوچ کے مطابق زندگی گزارتے ہیں معاشرہ انھیں کام یاب سمجھتا ہے اور جو لوگ اس سے بغاوت کرکے اپنی سمت متعین کرلیتے ہیں، معاشرہ انھیں بے کار اور ناکام سمجھتا ہے۔
میں جس ماحول میں پلا، وہاں کا معیار یہ تھا کہ اگر میں جج یا پولیس افسر بن جاؤں یا جاگیرداروں کے ساتھ اچھے تعلقات بنالوں تو میں کام یاب شمار کیا جاؤں گا لیکن میں نے ایسا نہیں کیا، میں نے اپنی ذات کو تلاش کیا کہ خدا نے مجھے کن صلاحیتوں سے نوازا ہے اور انھی کی بنیاد پر میں نے اپنے لیے تدریس کا میدان چنا۔ اب اگرچہ سماجی معیار کے مطابق میں کام یاب نہیں ہوں لیکن مجھے اس نام نہادکام یابی کی ضرورت بھی نہیں۔ میں نے دل کی آواز سنی اور اس کے مطابق عمل کیا تو اللہ نے مجھے بھرپور عزت سے نوازا۔
اگر آپ معاشرے میں رائج اصولوں کے مطابق چلیں گے اور اس وجہ سے کام یاب ہونا چاہیں گے تاکہ لوگوں کو مطمئن کرسکیں تو جان لیجیے کہ لوگ آپ سے کبھی بھی خوش نہیں ہوں گے۔البتہ آپ اپنے وقت، جذبات اور خوابوں کی قربانی دے کر بعد میں ضرور پچھتائیں گے۔
ہسپتال کے انتہائی نگہداشت کے وارڈ (ICU )میں ایک نرس 35 سال تک کام کرتی رہی۔ اس نے بے شمار لوگوں کو مرتے دیکھا تھا۔ وہ اس بات پر غور کرتی کہ لوگ مرنے سے پہلے کس طرح کے خیالات کا اظہار کرتے ہیں۔ اس نے ان تمام باتوں کو نوٹ کرنا شروع کیا اورRegrets of the Dying کے نام سے ایک مضمون لکھا۔ یہ تحریر دیکھتے دیکھتے بے حد مقبول ہوئی۔ لوگوں نے نرس سے مطالبہ کیا کہ اس موضوع پر کتاب لکھی جائے، چنانچہ اس نے کتاب لکھی اور اس میں مرنے والوں کے جو پانچ پچھتاوے ذکر کیے، اس میں ایک پچھتاوا یہ بھی تھا کہ ”کاش مجھ میں اتنی ہمت ہوتی کہ میں لوگوں کو خوش کرنے کے بجائے اپنی ذات کو خوش کرنے کے لیے جیتا۔“
اگر آپ نے کوئی پیشہ اس لیے اپنایا ہے کیوں کہ معاشرہ ایسا چاہتا ہے، یا آپ اس پیشے کے ذریعے بہت سا پیسہ کمانا چاہتے ہیں تو جان لیجیے کہ آپ نے غلط سمت کا انتخاب کیا ہے اور اس کا احساس آپ کو زندگی کے ہر قدم پر ہوگا۔ کیوں کہ دنیا میں ایسے لوگوں کی کمی نہیں جو روزانہ ہزاروں، لاکھوں روپے کما رہے ہیں لیکن وہ اپنے کام سے خوش نہیں ہیں۔
میرا دوسرا سوال یہ ہے کہ آپ اپنی زندگی کو کس پیمانے سے ماپتے ہیں؟
آپ کے نزدیک آپ کے کام کی جو اہمیت ہے اس بنیاد پر آپ ایسا کون سا پیمانہ بناتے ہیں جس سے آپ اپنی زندگی کو ماپیں اور یہ فیصلہ کریں کہ آپ کام یاب ہیں یا ناکام؟ عموماً یہ سمجھا جاتا ہے کہ جس کے پاس جتنا زیادہ پیسہ ہے وہ اتنا ہی کام یاب ہے لیکن یہ سوچ غلط ہے۔
اینڈریوکارنیگی کو فوت ہوئے 105برس گزر چکے ہیں لیکن امریکا میں آج تک اس کا نام عزت سے لیا جاتا ہے۔ اس نے بچپن میں شدید غربت دیکھی تھی۔ 13سال کی عمر میں اس نے مزدوری شروع کی۔ اس کا دماغ تیز تھا اور اس کے اندر آگے بڑھنے کا جذبہ بھی تھا، چنانچہ اس نے مختلف منصوبوں میں سرمایہ کاری شروع کی۔ قدرت اس پر مہربان ہوگئی، وہ پیسہ کمانے لگا اور چند برس میں امیر بن گیا۔ اس نے 1870 میں اپنی کمپنی کی بنیاد رکھی اور اسٹیل کی صنعت میں انقلاب برپا کر دیا۔ کچھ عرصے میں اس کا شمار دنیا کی مال دار ترین شخصیات میں ہونے لگا، لیکن اس نے ایک حیرت انگیز قدم اٹھایا۔ اس نے Payback کرنے کا فیصلہ کیا اور اپنی 80 فی صد دولت مختلف تعلیمی اور تحقیقی منصوبوں کے لیے وقف کر دی۔ اس کا یہ جملہ خاصا مشہور ہوا کہ جو آدمی امیر ہوکر مرتا ہے، وہ ذلیل ہو کر مرتا ہے۔
جان ڈی راکفیلر معروف صنعت کار تھا۔ اس نے سٹینڈرڈ آئل کی بنیاد رکھی جس کی بدولت وہ دنیا کا پہلا ارب پتی شخص بنا۔ وہ 53 سال تک مسلسل دولت کماتا رہا لیکن اس مشقت نے اسے جسمانی اور جذباتی طور پر انتہائی کمزور کر دیا۔ بالآخر احساس ندامت میں اس نے اقرار کیا کہ میں نے لاکھوں ڈالر کمائے لیکن وہ مجھے خوشی نہ دے سکے۔ ڈیوڈ گیفن بھی مشہور صنعت کار تھا جس نے اربوں ڈالر کی سلطنت قائم کی لیکن پرتعیش زندگی اور بے تحاشا پیسے کے باوجود وہ احساس تنہائی کا شکار ہوگیا تھا۔ اس نے کہا تھا،”جو بھی یہ سوچتا ہے کہ پیسہ اسے خوشی دے گا، اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کے پاس کبھی پیسہ نہیں آیا۔“بل گیٹس کا شمار دنیا کے امیر ترین افراد میں ہوتا ہے،وہ 118بلین ڈالر اثاثوں کا مالک ہے، اس نے اپنی آدھی دولت مختلف رفاہی کاموں کے لیے عطیہ کردی ہے۔ وہ اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ صرف پیسہ انسان کی کامیابی، خوشی اور سکون کا ضامن نہیں۔
چند دن پہلے میں نے ایک کتاب پڑھی جس میں مصنف نے یہ واقعہ لکھا تھا کہ ایک دفعہ میں (مصنف) رینالہ سے اوکاڑہ جا رہا تھا۔ بس اسٹاپ پر ایک شخص کھڑا تھا میں نے اس سے پوچھا کہ یہاں سے اوکاڑہ کتنا دور ہے؟ اس نے جواب دیا،”دس روپیہ“۔ یہ سن کر مجھے حیرت ہوئی۔ اسے چاہیے تھا کہ وہ کلومیٹر یا میلوں میں فاصلہ بتاتا لیکن اس نے دس روپے کا لفظ استعمال کیا جس سے معلوم ہوا کہ حالات اور واقعات کی وجہ سے اس شخص کے ماپنے کا معیار پیسہ بن چکا تھا۔
ہمارے ہاں بھی بہت سے لوگ ایسے ہیں جن کے ماپنے کا پیمانہ صرف اور صرف پیسہ ہے۔ یہ لوگوں سے تعلق پیسے کی بنیاد پر رکھتے ہیں اور پیسے کی وجہ سے ناتا توڑ دیتے ہیں۔ یہ اسی شخص کی عزت کرتے ہیں جس کے پاس پیسہ ہو، اس کے برعکس اگر کوئی فرد علم و فضل کا حامل ہو اور قابلیت کی انتہا پر ہو لیکن اس کے پاس اچھی گاڑی یا مہنگا موبائل فون نہیں تو ان لوگوں کے نزدیک ایسے شخص کی کوئی عزت نہیں۔ یہ لوگ پیسے کے عشق میں اس قدر تیزی سے بھاگتے ہیں کہ اللہ کی عطا کردہ نعمتوں سے لطف اندوز ہونا بھول جاتے ہیں۔ یہ لوگ دولت کی خاطر وقت، صحت اور رشتوں کو بھی قربان کردیتے ہیں لیکن بہت جلد پچھتاوے کا شکار ہوجاتے ہیں۔
آپ نے دیکھا ہوگا کہ جدید گاڑیوں میں ڈرائیور کے سامنے کئی طرح کے میٹر لگے ہوتے ہیں جو اسے رفتار، ایندھن، درجہ حرارت، فاصلہ، انجن کی کیفیت اور آئل پریشر وغیرہ کی تفصیل دکھاتے ہیں۔ اسی طرح زندگی کی گاڑی میں بھی ہمارے سامنے ایمان، صحت، خوشی،سکون، نعمتیں، رشتے، عزت، لوگوں کی محبت اور مال و دولت کے میٹر لگے ہوتے ہیں لیکن بعض لوگ صرف پیسوں کے میٹر پر نظر رکھتے ہیں اور ہر چیز کو صرف پیسوں کے ترازو میں تولتے ہیں۔ انھیں اگر کوئی دوست ضرورت کے وقت بلاتا ہے تو یہ سوچتے ہیں کہ گاڑی، بائیک پر آنے جانے کی صورت میں کتنا پٹرول خرچ ہوگا۔ اگر ان کے گھر میں مہمان آتا ہے تو یہ حساب کتاب کرتے ہیں کہ مہمان نوازی پر کتنی رقم خرچ ہوگی۔ کسی کی عیادت کے لیے جانا ہو، کسی کی مدد کرنا ہو یا خیریت پوچھنا ہو تو یہ لوگ فوری طور پر بجٹ بنالیتے ہیں کہ اس کام پر اتنی رقم خرچ ہوگی، نیز یہ لوگ اس بات کو بھی مدنظر رکھتے ہیں کہ اس کام کے بدلے میں ہمیں کتنا فائدہ ملے گا۔ جہاں کچھ ملنے کی امید نہ ہو تو یہ لوگ قدم نہیں اٹھاتے۔
جب ہم صرف پیسے والے میٹر پر نظرکھتے ہیں تو اس کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوتا ہے کہ باقی میٹر ہماری نظروں سے اوجھل ہوجاتے ہیں۔ احساس ہی نہیں ہوتا کہ پیسے کے علاوہ بھی میری زندگی میں بے شمار نعمتیں ہیں۔ جب انسان ان نعمتوں کو نظرانداز کر دیتا ہے تو وہ بے قدری کا مرتکب ہوتا ہے جس کی وجہ سے اس کی زندگی میں موجود نعمتیں ختم ہونا شروع ہوجاتی ہیں اور وہ ہر وقت پریشان اور مایوس نظر آتا ہے۔
زندگی کو صرف مال و دولت کے ترازو میں مت تولیں، یہ زندگی کا ایک حصہ ضرور ہے بنیاد نہیں۔بچپن میں ہمارے پاس پیسے نہیں ہوتے تھے لیکن اس کے باوجود ہماری تمام ضروریات پوری ہو جاتی تھیں۔ یہ نظام آج بھی چل رہاہے۔ آج بھی بہت سی چیزیں ایسی ہیں جو ہمیں پیسوں کے بغیر مل جاتی ہیں۔ عید کے موقع پر بھائی ہمیں کپڑوں کا جوڑا دے دیتا ہے۔ زمانہ طالب علمی میں اخراجات کے لیے چچا یا ماموں ہمارا ہاتھ تھام لیتا ہے۔ بیمار ہونے کی صورت میں گھر والے ہر طرح کا خیال رکھتے ہیں۔ شادی کے موقع پر خاندان کا بڑا ولیمے کے اخراجات اپنے ذمے لے لیتا ہے۔ریسٹورنٹ میں کوئی ساتھی ہمارا بل ادا کر دیتا ہے۔ مشکل میں دوست جانی و مالی تعاون کرتے ہیں۔ دفتر کی طرف سے چائے، کھانا اور بونس مل جاتا ہے۔ اس طرح کی بے شمار سہولیات ہمیں پیسوں کے بغیر صرف اس لیے ملتی ہیں کیوں کہ اللہ تعالیٰ دوسروں کے دل میں ہمارے لیے محبت ڈال دیتا ہے۔
غور کریں کہ پیسے کے علاوہ بھی اللہ نے آپ کو کس قدر شان دار نعمتوں سے نوازا ہے۔ آپ دوا کے بغیر رات کو سوتے ہیں اور صبح سلامتی کے ساتھ جاگتے ہیں تویقین جانیں کہ آپ خوش قسمت انسان ہیں کیوں کہ ہزاروں لوگ ایسے ہیں جو رات کو سوتے ہیں لیکن صبح کا سورج دیکھ نہیں پاتے۔ اگر آپ ایسا کام کرتے ہیں جس سے آپ کو خوشی ملتی ہے اور اس سے حاصل ہونے والے پیسوں سے آپ کی ضروریات بھی پوری ہو جاتی ہیں تو آپ خوش قسمت انسان ہیں، کیوں کہ کروڑوں لوگ بے روزگار پھر رہے ہیں اور دوسروں سے مانگ کر زندگی گزار رہے ہیں۔اگر آپ کو اللہ نے خوب صورت شریک حیات، پیار کرنے والے بچے، شفقت کرنے والے والدین، بہن بھائی اور ہر مشکل میں ساتھ نبھانے والے دوستوں سے نوازا ہے تو اس لحاظ سے بھی آپ خوش قسمت انسان ہیں۔ کیوں کہ دنیا میں ایسے ارب پتی موجود ہیں جو رشتوں کی نعمت سے محروم ہیں۔ وہ بے تحاشا کام یابیوں اور مال و دولت کے باوجود تنہائی کا شکار ہیں۔
حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا قول ہے کہ دنیا کا بدقسمت انسان وہ ہے جس کا کوئی دوست نہیں ہے۔یاد رکھیں کہ انسان کو خوشی تب ملتی ہے جب وہ چھوٹی چھوٹی کام یابیوں میں اپنے رشتہ داروں اور دوستوں کو شریک کرتا ہے۔ اس کے برعکس اگر کسی کو دنیا کا سب سے بڑا ایوارڈ بھی مل جائے لیکن اس کے پاس لوگ نہ ہوں تو ایسی خوشی غم میں بدل جاتی ہے۔
اپنی سوچ بدلیے، صرف پیسہ ہی اہم نہیں، آپ کے اردگرد ہزاروں نعمتیں موجود ہیں۔ آگے بڑھیے، ان سے لطف اٹھائیے اور اللہ کی کرم نوازی کا شکر ادا کیجیے۔