زندگی آسان کر دینے والا قاعدہ ، تيسير و سماحت

مصنف : فرحت ہاشمی

سلسلہ : اصلاح و دعوت

شمارہ : مارچ 2026

اصلاح و دعوت

زندگی آسان کر دینے والا قاعدہ ، تيسير و سماحت

فرحت ہاشمی

✨عرب کے ہاں مقولہ معروف ہے : ”اعلیٰ ظرف کبھی پورا پورا حساب نہیں کرتا۔

(خاص الخاص للثعالبي : ٣٥)اکثر مفسرین نے اس قول کو علی رضی اللہ عنہ یا حسن بصری رحمہ اللہ کی طرف منسوب کیا ہے۔(أحكام القرآن للجصاص : ٢٣٥/٢، تفسير البغوي : ١٦٤/٨)

یہ قاعدہ دراصل نبی کریم ﷺ کے اس طرزِ عمل سے ماخوذ ہے جو قرآن نے بیان کیا ہے۔ کہ جب آپ ﷺ نے ایک راز کی بات اپنی کسی اہلیہ کو بتلائی، اور انہوں نے وہ آگے بتلا دی، تو آپ پر معاملے کی حقیقت بذریعۂ وحی واضح کر دی گئی۔ آپ ﷺ نے ان اہلیہ کو بلا کر بعض بات تو جتلائی اور بعض کو جانے دیا۔ (تفصیل کیلیے دیکھیے : سورة التحريم : ٣ - کتبِ تفاسیر)

سفیان بن عیینہ رحمہ اللہ کے متعلق آتا ہے کہ ان سے پوچھا گیا : حدیث "من نوقش الحساب عُذّب" (جس کا حساب میں مناقشہ ہوا، اسے عذاب دیا جائے گا) کا کیا معنی ہے؟ تو آپ نے فرمایا : ”نقش کا معنی ایک ایک چیز کی پوچھ تاچھ ہے۔“ پھر فرمایا : ”خوش ہو جاؤ، اعلی ظرف کبھی ایک ایک چیز کا حساب نہیں کیا کرتا۔ کیا تم نے نبی کریم ﷺ کے بارے میں اللہ کا یہ فرمان نہیں سنا کہ انہوں نے اپنی بیوی کو کچھ بات تو ظاہر کر دی اور کچھ کو جانے دیا۔ [التحريم : ٣] تو اللہ تبارک و تعالیٰ تو أكرم الأكرمين ہیں۔

(المجالسة وجواهر العلم للدينوري : ٣)

یعنی مراد یہاں یہ ہے کہ بہت کم لوگ ہوں گے جن کی نوبت مناقشے تک پہنچے گی اور اس بنا پر وہ مستحقِ عذاب قرار پائیں گے۔ وگرنہ اللہ تعالیٰ اپنے کرم کا معاملہ فرمائیں گے، ان شاء اللہ۔ واللہ اعلم!

علامہ ماوردی رحمہ اللہ (٤٥٠ھ) باہمی معاملات میں آسانی کے ضمن میں گفتگو کرتے ہوئے فرماتے ہیں :”پورا پورا حق وصول کرنا باعثِ وحشت ہوتا ہے، اور ایک ایک بات کا حساب کرنا متنفر کر دیتا ہے۔ اور جو بخل و حرص کے پروردہ نفوس سے اپنا پورا حق لینا چاہے، تو یہ نفرت اور چپقلش کے بغیر ممکن نہیں۔“(أدب الدنيا والدین : ٣٤٣)

سعد بن أحمد التجيبي رحمہ اللہ (٧٥٠ھ) کے اشعار ہیں :

تغابن في الأمور ولا تكثّر--تقصّيها؛ فالاستقصاء فرقه

معاملات میں نقصان گوارا کر لیا کرو اور زیادہ بال کی کھال نہ اتارا کرو، کہ یہ طرزِ عمل جدائی کا باعث ہے۔

وسامح في حقوقك بعض شَيْء--فما استوفى كريم قطّ حقّه

اور اپنے حقوق میں سے کچھ نہ کچھ جانے دیا کرو، کہ اعلی ظرف کبھی اپنا حق پورا پورا وصول نہیں کرتا۔

(درة الحجال في أسماء الرجال لابن القاضي : ٢٩٥/٣)

یہ ہر معاملے بہت ہی نفع مند اور حکمت سے بھرپور قاعدہ ہے۔ والدین اولاد، میاں بیوی، افسر ماتحت، ہر تعلق میں کچھ نہ کچھ صرفِ نظر، ڈھیل، تغافل، اور اپنے حق سے تنازل کا معاملہ کرنا پڑتا ہے، تبھی تعلقات استوار رہتے ہیں۔ زیادہ اسٹریٹ فارورڈ ہونے کا نشہ منہ کے بل گرا دیتا ہے۔ ایک ایک بات پوچھنا، غیر ضروری طور پر کڑی نگرانی کرنا، ہر بات کا جواب طلب کرنا، تشفی ہونے تک معاملے کا پیچھا نہ چھوڑنا، ہر وقت حق طلبی کی پوزیشن میں رہنا؛ یہ چیزیں اسلام کے تیسیر و سماحت کے مزاج اور باہمی محبت و احترام کی قدروں کے منافی ہیں۔