غصہ اور اس كا حل

مصنف : واصف علی واصف

سلسلہ : اصلاح و دعوت

شمارہ : مارچ 2026

 اصلاح  و دعوت

غصہ اور اس كاحل

واصف علی واصف

سوال:-مجھے غصہ بہت آتا ہے ، ایسی صورت میں کیا کروں؟

جواب:-*غصہ دراصل دوسرے انسان کے اس عمل پر آتا ہے جو ہماری توقع سے باہر ہو ، خلاف ہو ، مثلاً ہماری توقع یہ تھی کہ کوئی صاحب یوں Behave کریں اور انہوں نے اس کے علاوہ Behave کر لیا تو ہم کہتے ہیں کہ یہ Misbehave ہو گیا ، غلط سلوک ہو گیا اور پھر ہمیں غصہ آ گیا ۔ اب یہ سوچنا چاہیے کہ ہماری توقع جو تھی کیا وہ غلط تو نہیں تھی؟ ہم اس دوسرے شخص کی اصلاح چاہتے ہیں اور اپنی اصلاح کیے بغیر چاہتے ہیں ۔ تو غصہ کرنے والا اپنی نالائقی کا اعتراف کرے-اگر ہمیں دوسرے سے کچھ توقعات ہیں اور اس کی جو بات پسند ہے ہم اس جیسا عمل کبھی نہ کریں ۔ اب دیکھنا یہ چاہیے کہ کیا وہ عمل اس کی فطرت میں شامل نہیں تھا؟ تو کیا میری توقعات غلط تو نہیں تھیں ، کیا میں نے کبھی اس کو Exploit تو نہیں کیا؟ کبھی میں نے اس کو Expedite تو نہیں کیا؟ کبھی اس کو Ignite تو نہیں کیا؟ تو کیا کسی کے ساتھ ایسا عمل کیا جائے جو ناروا ہو تو اسے غصہ تو آئے گا ۔ غصہ دلانے والا بھول جاتا ہے کہ غصہ کیسے آتا ہے-

غصہ ایک آدمی کا عمل نہیں ہے بلکہ غصہ اس آدمی کے Series of actions ، کئی اعمال کا نتیجہ ہوتا ہے ۔ سب سے پہلے جب غصہ ہو گا تو اس سے پہلے نفرت ضرور ہو گی ۔ ماں اگر بچے پر غصہ کر رہی ہے تب اس وقت بچے سے نفرت کر رہی ہوتی ہے ۔ تو غصے میں نفرت کا پہلو آ جاتا ہے ، وہ غصہ جو استاد کا غصہ ہے یا والدین کا غصہ ، تو وہ اصلاح کے لیے ہوتا ہے ۔ پھر بچہ کہتا ہے کہ میں آئندہ ایسا نہیں کروں گا-

وہ غصہ جو جذبات میں ہو جائے تو وہ نفرت سے شروع ہوتا ہے اور نفرت جدائی پیدا کر دیتی ہے ۔ اس لیے حکم یہ ہے کہ جب غصہ آئے تو پہلے اپنے اعمال سے توبہ کرو -اللہ تعالیٰ نے حکم فرمایا ہے کہ ”والکاظمین الغیظ“ جس کو غیظ آ جائے وہ اپنے غیظ کو روکے تو غصے کو روکنے کا حکم ہے ۔ روکنے کا طریقہ اللہ تعالیٰ نے بتایا کہ ”والعافین عن الناس“ لوگوں کے لیے عافیت بن جاؤ اور معاف کر دو یعنی جس پر غصہ آیا آپ اسے معاف کر دیں ۔ غصہ جو ہے یہ ایک سزا ہے ۔  غلطی تو اس دوسرے کی ہوتی ہے مگر سزا آپ کو ملتی ہے ۔ غصہ ایک Punishment ہے ، بڑی عجیب و غریب سزا ہے - نالائق آدمی سے اگر نالائقی ہو گئ تو اسے معاف کر دینا  چاہيے کیونکہ یہ شکر کا مقام ہے کہ آپ کو اتنا بڑا دانا بنایا کہ آپ سے یہ نالائقی نہیں ہوئی ۔ لہٰذا دوسرے کے غلط عمل کو آپ غصے کی نگاہ سے دیکھیں تو یہ ضرور سوچیں کہ اللہ نے اس کو ایسے بنایا اور مجھے ویسے بنا دیا ۔ آپ شکر ادا کریں کہ یہ کام آپ سے نہیں ہوا ۔ اس لیے اس پر غصہ کرنے کی بجائے اپنی پوزیشن کا شکریہ ادا کرنا چاہیے کہ یہ غلطی اس سے ہوئی ہے اور آپ سے نہیں ہوئی ۔ اب آپ اس میں اگلا راز دیکھیں ۔ مثلاً ایک آدمی آپ کے پاس خیرات کے لیے آیا تو آپ نے اس کو کچھ خیرات کر دیا تو وہ آدمی دو کام کر گیا ۔ ایک تو یہ کہ آپ سے Human Relation ، کوئی تعلق بنا گیا جو آپ کے ساتھ پھر کبھی Repeat کرے گا ، دُوسرا یہ کہ وہ آپ کو سخی بنا گیا ۔ غصہ دلانے والا اگر آپ کو معاف کرنے کا اختیار دے گیا تو یہ بھی کر گیا کہ آپ کے درجات میں اضافہ کر گیا ۔ جس نے غصہ آپ کو دیا ہے یا تو وہ آپ کی Punishment ہے ، سزا ہے یا پھر آپ کا انعام ہے ۔ تو وہ شخص آپ کے لیے سزا ہے ، آپ کے لیے مسلسل عذاب ہے ، یا پھر آپ کے لیے انعام ہے ، ایسا انعام جو آپ کے درجات میں اضافہ کرتا جاتا ہے کیونکہ غصہ دلانے والا ہر روز گستاخی کرے گا اور آپ ہر روز معاف کرتے جائیں گے-

ایک دفعہ حضور پاک ؐ سے صحابہ کرام ؓ نے پوچھا کہ یا حبیب ؐاللہ ، ہم اپنے غلاموں کی گستاخیاں ایک دن میں کتنی دفعہ معاف کریں؟ آپؐ نے فرمایا ستر دفعہ تو ضرور معاف کیا کرو-اور آپ کے ہاں تو غصہ دوستوں میں ہوتا ہے ، میاں بیوی میں ہوتا ہے ، اپنوں میں ہوتا ہے اور اپنا کہہ کے مارتے ہیں ۔ تو اپنا کہہ کے مارنے والا جو ہے وہ ہمارے خلاف ہے ، اس آدمی کو ہم اچھا نہیں سمجھتے اور معاف کرنے والے کو ہم بہت اچھا سمجھتے ہیں-غلطی کرنے والے کو ہم نادان کہتے ہیں اور جس نے غصہ کیا وہ بے وقوف ہے ۔ غصہ کرنے والے کو منع کیا گیا ہے ۔ اس لیے آپ میرے ساتھ وعدہ کرو کہ جب کبھی بھی غصہ آئے گا ، جس پر بھی غصہ آئے گا اس کو معاف کر دیں گے ۔ چاہے وہ بیوی کا خاوند ہو یا خاوند کی بیوی ہو ۔ چاہے جو بھی ہو اس کو معاف کر دیں ۔ دُعا یہ کرتے ہیں کہ جس نے ہمیں غصہ دلایا ، یااللہ اس کو معاف کر دے ، ہمیں بھی معاف کر دے اور غصہ کرنے کی توفیق عطا نہ فرما ۔ یااللہ ہمیں معاف کرنے کی توفیق عطا فرما ۔ یااللہ ہمیں دوسروں کا نكتہ نظر سمجھنے کی توفیق عطا فرما ، ہمیں دوسروں کے دلوں میں راستے کی گنجائش عطا فرما تاکہ یہ نہ ہو کہ ہم افلاطون ہی بنتے رہیں اور ہمارے دل بند ہو جائیں ۔ اے رب العالمین ہمیں وہ دانائی نہ سکھا جس سے دل بند ہو جاتا ہے ۔ یااللہ تعالیٰ! ہمیں محبت سکھا اور ایسی دانائی سے بچا جو ہمارے لیے نقصان دہ ثابت ہوتی ہے ۔ تو آپ اپنے Human Relation میں غصے سے گریز کریں ۔ آپ ان تعلقات کی Dissection نہ کریں ، آپ انہیں Expose نہ کریں ۔ آپ ان کو Analyze نہ کریں یعنی انسانی رشتوں کا تجزیہ نہ کریں ۔ رشتے قبول کریں ۔ آپ کے ساتھ جس کا رشتہ ہے اس کو آپ نفی اثبات نہ بناٶ یعنی کہ اس Negativity اور Positivity نہ بناٶ کہ یہ آپ نے اچھا کام کیا اور یہ آپ نے بُرا کام کیا ہے بلکہ یہ کہیں کہ آپ نے جو کیا ہے ٹھیک کیا ہے ۔ تو آپ دوسروں پر اعتماد کرنا سیکھیں ، اعتماد بحال رکھیں ۔ تو غصہ جو ہے یہ اعتماد کی کمی کا نام ہے ۔ اور غصہ جو ہے یہ Understanding کی کمی کا نام ہے ، مفاہمت کی کمی کا نام ہے ۔ جب کسی کو غصہ آتا ہے تو وہ نہ تو اپنے آپ کو سمجھ سکتا ہے اور نہ دوسرے کو سمجھ سکتا ہے ۔ غصہ کمزور انسان کو جلا دیتا ہے اور طاقت ور انسان کو مزید تحمل دیتا ہے ۔ انگريزی میں کہتے ہیں Little pot is soon hot یعنی کہ چھوٹا برتن جلد گرم ہو جاتا ہے ۔ کم ظرف کو غصہ جلدی آتا ہے ۔ یہ میں نہیں کہنا چاہتا تھا لیکن یہ کتابوں میں لکھا ہوا ہے ۔ تو جو جلد گرم ہو جاتا ہے وہ کم ظرف ہوتا ہے اور عالی ظرف انسان جو ہے سمندر کی طرح کبھی کبھی جوش میں آتا ہے اور جب جوش میں آتا ہے کنارے اڑا دیتا ہے اور زمین اڑا دیتا ہے ۔ عالی ظرف کے غصہ سے ملکوں کی Direction ہی بدل جاتی ہے ۔ چھوٹے ظرف والے کا غصہ ، کوئی غصہ نہیں ہے ۔ خاص طور پر جو لوگ آپ کی عافیت میں ہیں اور آپ کی پناہ میں ہیں ان پر غصہ نہ کرو ، جو لوگ آپ کی تحویل میں ہیں ان پر غصہ نہ کرو اور اولاد پر غصہ نہ کرو کیونکہ غصہ بد دُعا ہے ۔ لہٰذا آپ میرے ساتھ وعدہ کرو ، اور توبہ کرو کہ اولاد پر غصہ نہیں کریں گے کیونکہ غصہ بد دعا ہے ۔ ماں باپ کا اولاد پر غصہ ایک بد دعا ہے ۔ میاں بیوی کے درمیان غصہ کیا ہے؟ نفرت ہے اور دوستوں کے درمیان غصہ کیا ہے؟ یہ اپنے آپ کی بربادی ہے ۔ غصہ ہمیشہ ہی Consume کرے گا ، نقصان دے گا ، غصے سے جو بچ گیا سمجھو کہ وہ تباہی سے بچ گیا ۔ اس لیے دو آدمی ایک دوسرے کو مل کے کہیں السلام علیکم! آج سے ہم وعدہ کرتے ہیں کہ ہم ایک دوسرے کے خلاف غصہ نہیں کریں گے ، میں تیرے چہرے پر سیاہ لکیریں نہیں لگاٶں گا اور تم میرے چہرے پر سیاہ لکیریں مت لگاؤ ۔ تو اس لیے پچھلے گناہ معاف اور آئندہ گناہ نہ کرنے کا فیصلہ ۔ آج کی شام آپ لوگ یہ فیصلہ کر لیں -جس کے ساتھ تعلق رکھنا ہے اس کے ساتھ غصہ کیوں کرنا اور جس کا تعلق چھوڑ دینا ہے تو پھر اس کے ساتھ کیا غصہ رکھنا! گویا کہ غصہ کرنے کی بجائے یہ سوچیں کہ اس کے ساتھ دوستی رکھنی ہے کہ نہیں رکھنی ۔ اگر دوستی رکھنی ہے تو غصہ نہ کرو اور دوستی نہیں رکھنی تو صاف کہہ دو کہ ہماری تمہاری دوستی نہیں ہے ۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ پھر پچھتانا پڑ جائے ۔ دوستی کے کل کے فیصلہ کو اگر آج آپ غلط کہہ رہے ہیں تو آپ آج کا فیصلہ کل Tomorrow کو غلط کہہ دیں گے ۔ جس کو ایک دفعہ دوست کہہ لیا اس کو کم از کم زندگی بھر تک تو قائم رکھو ۔ اس لیے پچھلی باتوں کو ترک کرو اور غصہ معاف کرو ۔ اپنے آپ کو بھی معاف کرو کیونکہ غصے میں انسان اپنی ہستی سے باہر ہو جاتا ہے۔