قرآنيات
قرآن میں تدبر کیسے کیا جائے؟
طفيل ہاشمی
مشکلات یہ ہیں کہقرآن کی تفسیر قرآن کے ذریعے بھی ساری گتھیاں نہیں سلجھاتی
احادیث میں بالخصوص تفسیر قرآن میں موضوعات اور اسرائیلی روایات کے طومار ہیں مختلف مناھج کی تفاسیر اپنے اپنے منھج کو قرآن کی روشنی میں برسر حق سمجھتی ہیں-
ہر مفسر اپنی فہم و دانش کو قرآن کے طور پر پیش کرتا ہے-کیا کوئی ایسا معیاری سانچہ ہے جس کے مطابق قرآن پر تدبر کرنے سے بندہ مطمئن ہو کہ واقعی یہی قرآن کا تقاضا ہے.
آج ہم نے ان سوالات پر غور کیا. ہماری غور و فکر کا ماحصل یہ ہے :
قرآنِ مجید نے انسان سے جس رویّے کا مطالبہ کیا ہے وہ محض تلاوت، حفظ یا حوالہ آرائی نہیں بلکہ تدبر ہے۔ تدبر کا مفہوم کسی مخصوص تفسیر کو اختیار کر لینا نہیں، بلکہ قرآن کے خطاب میں داخل ہو کر یہ سمجھنا ہے کہ وہ انسان کو کیا بنانا چاہتا ہے۔ اس لیے تدبر کا آغاز اس سوال سے ہوتا ہے کہ قرآن کا بنیادی مقصد کیا ہے۔ قرآن خود اپنا تعارف “ہدایت” کے طور پر کراتا ہے، چنانچہ ہر فہم جو انسان کو ہدایت، تزکیہ، عدل اور تقویٰ کی طرف نہ لے جائے، وہ قرآن کے مزاج سے ہم آہنگ نہیں ہو سکتا۔ قرآن نہ تو محض قانونی ضابطہ ہے اور نہ ہی تاریخی انسائیکلوپیڈیا؛ وہ ایک زندہ ہدایت نامہ ہے جو انسان اور معاشرے کی تشکیل کے لیے نازل ہوا ہے۔
تدبر کا دوسرا بنیادی اصول سیاق اور نظم ہے۔ قرآن کی کوئی آیت تنہا اور معلق نہیں ہوتی قرآن نے الذين جعلوا القرآن عضین کے الفاظ سے اس روئیے کی مذمت کی ہے، بلکہ ہر آیت ایک سورت کے مرکزی مضمون، آیات کے باہمی ربط اور نزول کے تاریخی و دعوتی پس منظر کے اندر اپنا مفہوم واضح کرتی ہے۔ جو فہم آیت کو اس کے سیاق سے کاٹ کر پیش کرے، وہ دراصل قرآن سے نہیں بلکہ اپنی رائے کے ثبوت کے لیے قرآن کو بطور دلیل استعمال کر رہا ہے۔ یہی اصول کلاسیکی طور پر ابو اسحاق الشاطبی اور جدید دور میں نظمِ قرآن کے منہج کے ذریعے مولانا حمید الدین فراہی نے مضبوط بنیادوں پر قائم کیا۔
تدبر کی تیسری شرط محکم اور متشابہ کی واضح تمیز ہے۔ قرآن خود بتاتا ہے کہ اس کی بعض آیات قطعی ہدایت رکھتی ہیں اور بعض میں اجمال اور آزمائش کا پہلو ہے۔ ایمان، اخلاق، عدل اور انسانی اقدار کے باب میں قرآن پوری صراحت کے ساتھ رہنمائی دیتا ہے، جب کہ غیبی تفصیلات، تاریخی جزئیات اور بعض قانونی اطلاقات میں دانستہ وسعت اور اجمال رکھا گیا ہے۔ تدبر کا تقاضا یہ ہے کہ جہاں قرآن خاموشی یا اجمال اختیار کرے وہاں انسان قطعیت کا دعویٰ نہ کرے۔
چوتھا منہجی اصول سنت کا درست مقام ہے۔ سنت قرآن کی شرح یا اس کا بدل نہیں بلکہ اس کی عملی تعبیر اور میزان ہے۔ احادیث قرآن کے عمومی اصولوں کو عملی زندگی میں مجسم کرتی ہیں، مگر وہ قرآن کے اخلاقی و ہدایتی مزاج پر حاکم نہیں بن سکتیں۔مسلم دینیاتی تاریخ کا یہ سب سے بڑا المیہ رہا ہے کہ احادیث بلکہ اخبار احاد سے بے تکلف قرآن کی قطعی الدلالات آیات کی تاویلات کر دی جاتی ہے. بسا اوقات ایک ہی آیت کی تاویلات کی کثرت میں آیت قرآن کا حقیقی مفہوم خواب پریشان نظر آنے لگتا ہے. اسی نکتے کو جدید اصولی اسلوب میں طہ جابر العلواني نے نمایاں کیا کہ روایت کو قرآن کی روح کے تابع رکھنا ہی صحیح تدبر ہے، ورنہ روایت پرستی تدبر کو معطل کر دیتی ہے۔
پانچواں ستون مقاصدِ قرآن ہیں۔ قرآن کا مجموعی پیغام چند اعلیٰ مقاصد کے گرد گردش کرتا ہے: ایمان کی درست تشکیل، عدل کا قیام، اخلاقی تطہیر، انسانی کرامت کا تحفظ اور اجتماعی اصلاح۔ ہر آیت کو ان بڑے مقاصد کے دائرے میں رکھ کر سمجھنا ہی مطمئن فہم کی ضمانت بنتا ہے۔ اس زاویے کو منہجی صورت دینے میں محمد الطاہر بن عاشور کا کردار نہایت نمایاں ہے۔ جو تعبیر ظلم، جبر یا تفرقے کو جنم دے، وہ قرآن کے مقاصد سے ہم آہنگ نہیں ہو سکتی۔
چھٹا اصول یہ ہے کہ تدبر ظنی ہوتا ہے، قطعی نہیں۔ قرآن تدبر کی دعوت دیتا ہے مگر کسی ایک انسانی فہم کو “قرآن کی آخری مراد” قرار دینے کی اجازت نہیں دیتا۔ تدبر ذمہ دارانہ فہم کا نام ہے، جب کہ قطعیت کا دعویٰ علمی تجاوز ہے۔ مطمئن قاری وہ ہے جو اپنے فہم کو قرآن کے قریب سمجھے، خود قرآن نہ بنا دے۔
ایک دوسرا منھج یہ ہو سکتا ہے کہ پیش آمدہ مسائل یا حالات کو ریسرچ پرابلم (اشکالیۃ البحث) قرار دے کر اس پر مذکورہ بالا تمام مناھج کے ذریعے مسئلہ کا قرآنی حل تلاش کیا جائے.
کیا یہ ممکن ہے کہ کوئی یونیورسٹی تدبر قرآن پر کوئی کورس ڈیزائن کرے تو آخر میں بطور نمونہ کسی سورت یا کچھ مسائل کا تدبر قرآن کی روشنی میں مطالعہ کیا جائے.