جگر مرادآبادی

مصنف : شاہد احمد دہلوی

سلسلہ : خاكے

شمارہ : مئی 2024

خاكے

جگر مرادآبادی

شاہد احمد دہلوی

بعض چہرے بڑے دھوکہ باز ہوتے ہیں۔ کالا گھٹا ہوا رنگ، اس میں سفید سفید کوڑیوں کی طرح چمکتی ہوئی آنکھیں، سر پر الجھے ہوئے پٹھے، گول چہرہ، چہرہ کے رقبے کے مقابلے میں ناک کسی قدر چھوٹی اور منہ کسی قدر بڑا، کثرتِ پان خوری کے باعث مُنہ اگالدان، دانت شریفے کے بیج اور لب کلیجی کے دوبوٹیاں، بھرواں کالی ڈاڑھی، ایڈورڈ فیشن کی، سرپر تُرکی ٹوپی، بر میں اچکن، آڑا پاجامہ، نیم ساق چک چوڑیاں پڑی ہوئیں، پاؤں میں پٹینٹ کی گرگابی، بائیں ہاتھ میں ایک میانہ قد و قامت کا اٹاچی کیس۔

 کوئی بتیس سال ادھر کا ذکر ہے جھانسی میں ایک صاحب سر جھکائے قدم بڑھائے اپنے دھن میں جھومتے چلے جارہے تھے۔ میرے میزبان نے اشارے سے بتایا ‘‘یہ ہیں جگرؔ صاحب۔’’ میں نے سُنی ان سنی کردی۔ ہوں گے کوئی، میں نے کبھی ان کا نام بھی نہیں سُنا تھا۔ میرے میزبان نے کہا ‘‘آج رات مشاعرہ ہے۔ آپ کو لے چلیں گے۔’’ میں نے کہا ‘‘کسی اور بُرے کام میں وقت کیوں نہ ضائع کیا جائے؟ کوئی گویّا ہو تو اس کا گانا سنا جائے۔’’ وکیل صاحب نے کہا ‘‘اس کا بھی انتظام کیا ہے ہم نے، کل ہم آپ کو یہاں کے ایک استاد کا گانا سنوائیں گے۔ مگر آج آپ مشاعرے میں ضرور چلیے۔ جگرؔ صاحب کا کلام آپ نے غالباً سُنا نہیں ہے۔ سننے کے لائق ہے۔’’ میں نے جی میں کہا۔ لو بھئی آج کی رات تو غارت ہوئی۔ قہر درویش بجانِ درویش۔ میزبان کی خواہش کااحترام بھی ضروری تھا۔ طوعاً و کرہاً رات کو مشاعرے میں چلنے کی حامی بھرلی۔ پنڈال کُشادہ بنایا گیا تھا اور روشنیوں سے جگمگا رہا تھا۔ اگلی صفوں میں ہمیں جگہ دی گئی۔ مشاعرہ شروع ہونے میں کچھ دیر تھی۔ وکیل صاحب سے باتوں باتوں میں معلوم ہوا کہ جھانسی میں آئے دن مشاعرے ہوتے رہتے ہیں اور ان مشاعروں کی جان جگرؔ صاحب ہوتے ہیں۔ ہر پھر کے جگرؔ صاحب ہی کی تعریف ہوئے جارہی تھی۔ میں نے وکیل صاحب سے کہا ‘‘یہ تو بتائیے کہ جگرؔ صاحب کون ہیں اور کیا ہیں؟’’ انہوں نے مجھے ایسی استعجابی نظروں سے دیکھا جیسے میں نےکوئی نہایت احمقانہ بات کہہ دی ہو۔ بولے ‘‘بہت اچھے شاعر ہیں، عینکوں کے ایجنٹ ہیں۔’’ میں نے کہا ‘‘اوہو! عینک بیچتے ہیں تو یقیناً بہت اچھے شاعر ہوں گے۔’’ وکیل صاحب کے چہرے پر خفّت کے آثار نمودار ہوئے اور کسی قدر ناگواری کے بھی۔ میں نے اس تکدّر کو ٹالنے کے لیے کہا ‘‘اندھوں کو آنکھیں دیتے ہیں، اور کیا چا ہیے۔’’ وکیل صاحب ہنسنے لگے۔ شُعرا کی آمد آمد ہوئی۔ مشاعرے کے کارکنوں نے انہیں ہاتھوں ہاتھ لیا اور ڈائس پر پہنچادیا۔ تھوڑی دیر میں جنابِ صدر بھی تشریف لے آئے۔ ضلع کے حاکم تھے۔ ان کے مسندِ صدارت سنبھالتے ہی مشاعرہ شروع ہوگیا۔ پہلے چھٹ بھیوں نے لہک لہک کر اپنا کلام سنایا۔ پھر بیچ کی راس کے شاعروں نے، ان کے بعد جغادریوں نے۔ اتنے میں شور برپا ہوا ‘‘آگئے جگرؔ صاحب آگئے۔’’ انہیں ڈائس پر پہنچایا گیا اور وہ سلام کرکے جنابِ صدر کے پہلو میں جابیٹھے۔ پڑھنے والوں کے چہرے اتر گئے۔ اب جو پڑھنے آتا، گھبرایا بَولایا آتا اور گھاس سی کاٹ کر چل دیتا۔ جب سب پڑھ چکے تو جنابِ صدر نے جگرؔ صاحب سے درخواست کی اور سارا پنڈال تالیوں سے گونج گیا۔ جگرؔ صاحب خندۂ دنداں نما کرتے آگے بڑھ آئے۔ وکیل صاحب نے زیر لب فرمایا ‘‘اب جگرؔ تھام کے بیٹھو مری باری آئی۔’’ میں نے پوچھا ‘‘یہ آپ مجھ سے فرما رہے ہیں یا جگر صاحب سے؟’’ وکیل صاحب کھسیانی ہنسی ہنس کر رہ گئے۔ جگرؔ صاحب نے گنگناکر سُرقائم کیا اور اپنے مخصوص ترنم میں غزل سنانی شروع کی۔ مطلع سے مقطع تک غزل کا انداز ہی نیا تھا۔ اس پر خوش گلوئی! پنڈال اڑا کر رکھ دیا۔ کئی کئی دفعہ ایک ایک شعر کو پڑھوایا گیا۔ میں نے جگرؔ سے پہلے اتنا سریلا شاعر اور کوئی نہیں سُنا۔ یا پھر گانے والے شاعر سنے تھے جو باقاعدہ تان پلٹے کرتے تھے، مثلاً حفیظؔ، ساغرؔ، روشؔ صدیقی وغیرہ۔ یہ بڑی عجیب بات تھی کہ جگرؔ صاحب کا پڑھنا ترنم ہی رہتا تھا۔ گانا نہیں بنتا تھا۔ جگرؔ صاحب کو اس مشاعرہ میں سن کر میں بھی ان کے مداحوں میں شامل ہوگیا

خاکسارانِ جہاں رابہ حقارت منگر --توچہ دانی کہ دریں گرد سوارے باشد

میں ۳۱ء یا ۳۲ء میں حیدرآباد گیا تھا۔ واپسی میں دو دن کے لیے سید ابومحمد مرحوم کے ہاں بھوپال میں ٹھہرا تھا۔ سید صاحب بڑی خوبیوں کے آدمی تھے۔ آپ انہیں یوں پہچانیے کہ سید ابوالاعلیٰ مودودی کے بڑے بھائی تھے۔ جگرؔ صاحب اس زمانے میں بھوپال ہی میں تھے۔ خبر نہیں کہاں سے انہیں معلوم ہوا۔ تیسرے پہر کو مجھ سے ملنے چلے آئے، ان سے یہ میری پہلی ملاقات تھی۔ بڑے خلوص و محبت سے گلے ملے۔ میری خیریت پوچھی، ساقیؔ کی کیفیت دریافت کی۔ خود ہی ساقیؔ کے لیے اپنا کلام بھیجنےکا وعدہ کیا۔ وہیں بیٹھے بیٹھے اپنی ایک غزل لکھ کر دی۔ بڑے خوش خط تھے جگرؔ صاحب۔ جو انداز پُرانے زمانے کی وصلیوں کا ہوتا ہے اسی انداز میں یہ غزل قلم برداشتہ لکھی تھی مگر موتی جڑدیے تھے، اختتام پر اپنے نام کا طُغرا بنادیا تھا۔ مزاج کی نفاست زبانِ قلم سے بھی ٹپکتی تھی۔ کتنی خوبصورتی چھپی ہوئی تھی اس ظاہرہ بد شکل انسان کے اندر! میری فرمائش پر غزل پڑھ کر بھی سُنائی۔ نُور کا گلا پایا تھا۔ اندھیرے میں سے روشنی پھوٹ رہی تھی۔ کیا آبِ حیواں کی طرح دُنیا کی تمام بیش قیمت اور حسین چیزیں تاریکی ہی میں ہیں؟

میرے ہاں دلّی کے آخری نرت کے استاد اللہ دیے خاں آیا کرتے تھے۔ عمر ستر سے اوپر ہی تھی۔ سُوکھ کر چمرخ ہوگئے تھے، دانت ٹوٹے ہوئے، گال پچکے ہوئے۔ بڑی بڑی گھنی سفید مونچھیں، ڈاڑھی منڈی ہوئی مگر بقول مرزاؔ چیونٹیوں کے انڈے موجود رہتے۔ بصورتِ موجودہ کوئی استاد کو اپنے پاس بٹھانے تک کا روادار نہ ہوتا۔ مگر جب وہ ٹھمری یاد ادرے کا کوئی بول لگاکر بتاوا شروع کرتے تو یہ معلوم ہوتا کہ اندر کے اکھاڑے کی کوئی اپسرا اتری آئی ہے۔ اسی کریہہ منظر بوڑھے استاد کو گلے لگالینے کو جی چاہنے لگتا۔ شاید فنکار کا فن ہمیشہ جوان و حسین رہتا ہے اور اس کی خوبصورت روح اس کے بدصورت جسم کی پردہ پوش ہوجاتی ہے۔ جگرؔ صاحب بھی جب اپنا کلام سناتے تو حسین نظر آنے لگتے۔

بھوپال کی مختصر ملاقات کے بعد جگرؔصاحب سے اکثر ملنا ہوتا رہا۔ ان مختصر ملاقاتوں میں کبھی کبھی شعر و شاعری پر بھی بات چل نکلتی تو جگرؔ صاحب کیٹسؔ اور شیلےؔ تک کے نام لے جاتے۔ باتیں خاصی معقول کرتے تھے۔ اوچھے پن کی حرکتیں نہیں کرتے تھے اور نہ ضرورت سے زیادہ بے تکلف ہوتے تھے۔ ان کے مزاج کی شائستگی ان کی غزل میں ڈھل گئی تھی۔ ان سے کبھی کسی کی برائی نہیں سُنی اور نہ کبھی یہ سُنا کہ کسی کو دھوکہ دیا، یا کوئی بیہودہ بات کی۔ وہ صحیح معنوں میں ایک شریف النفس انسان تھے۔ کارڈ نیل نیومن نے GENTLE MAN جنٹل مین کی تعریف یوں کی ہے کہ وہ کسی کو دُکھ نہیں پہنچاتا۔ جگر صاحب ایک PERFECT GENTLE MAN تھے۔

نیاز فتح پوری STUNTSکے قائل ہیں۔ وہ ہمیشہ چونکانے کی کوشش کرتے ہیں۔ مثلاً آپ کہیں گے کہ جنت اور دوزخ ہے تو وہ کہیں گے نہیں ہے۔ آپ کہیں گے خدا ہے تو وہ کہیں گے نہیں ہے، آ پ کہیں گے قرآن شریف کلام اللہ ہے تو کہیں گے کلام رسول ہے۔ آپ کہیں گے یہ دن ہے تو وہ کہیں گے نہیں، رات ہے۔ برنارڈ شاہ کے ایک کردار کی طرح اختلاف ضرور کریں گے۔ اس نے کہا ‘‘بیٹھ جاؤ۔’’ تو بولا ‘‘نہیں، میں کھڑا رہوں گا۔’’ کہا ‘‘اچھا تو کھڑے رہو۔’’ ‘‘نہیں میں بیٹھوں گا۔’’ یہ کہہ کر بیٹھ گیا۔ تو اسی سے ملتی جلتی فطرت نیاز صاحب کی ہے۔ حال ہی میں انہوں نے ‘‘نگار’’ کا ‘’جگرؔ نمبر’’ شائع کیا ہے۔ جگرؔکے انتقال پر ہندوستان اور پاکستان میں بہت سوگ منایا گیا۔ اور کئی رسالوں نے جگرؔ نمبر شائع کیے۔ نیاز صاحب بھلا ٹھنڈے پیٹیوں تعریف و توصیف کے اس پشتارے کو کیسے گوارا کرلیتے؟ چنانچہ انہوں نے بھی ایک جگر نمبر شائع کردیا۔ جس میں سوائے جگر کی برائی کے اور کچھ نہیں ہے۔ اس نمبر کا حشر تو وہی ہوگا جو آسمان پر تھوکنے کا۔ مجھے یہاں ایک واقعہ کی وضاحت کرنی ہے جو اس نمبر میں درج کیا گیا ہے۔ کچھ عرصہ ہوا کراچی میں ایک مشاعرہ ہوا تھا جس کی صدارت کے لیے جناب نیازؔ کو لکھنؤ سے بلوایا گیا تھا۔ کس نے بُلایا تھا اور کیوں بُلایا تھا؟ اس کو اس وقت چھوڑیے، نیاز صاحب نے لکھا ہے کہ انہیں کراچی پہنچ کرمعلوم ہوا کہ جگرؔ صاحب کراچی میں موجود ہیں مگر انہوں نے نیاز صاحب کی صدارت میں پڑھنے سے انکار کردیا۔ نیازؔ صاحب نے جگرؔ کے انکار کی وجہ ان تنقیدوں کو قرار دیا جو کبھی نگار میں انہوں نے کلامِ جگرؔ پر لکھی تھیں۔ مگر ہوا یہ کہ جگرؔ صاحب مشاعرے میں آئے، اور انہوں نے کلام بھی سنایا۔ اس واقعہ کو لکھ کر نیازؔ صاحب نے بتایا ہےکہ جگرؔ چونکہ پیسے لے کر پڑھتے تھے اس لیے وہ مشاعرے میں شرکت پر مجبور تھے۔ پھر اس سے یہ نتیجہ نکالا کہ پیسے لے کر پڑھنے والے شاعر کا کلام پھسپھسا ہوتا ہے۔ اسی مفروضہ پر نیاز صاحب نے اپنی جانب میں اس خاص نمبر میں کلام جگر کے بخئے ادھیڑ دیے ہیں۔ مگر جب آپ ان کے اعتراضات پڑھیں گے تو آپ کو اس بوڑھے علامہ کے بچکانہ اعتراضات پر ہنسی آنے لگے گی۔ خیر، یہ ایک الگ لغویت ہے جس سے محظوظ ہونے کے لیے اگر آپ وقت نکال سکتے ہوں تو نکال لیجیے۔ ہمیں تو صرف اس مشاعرے والے واقعہ سے سروکار ہے۔ جگرؔ اتنے چھوٹے دل کے آدمی نہیں تھے کہ نیازؔ صاحب کی تنقید سے چراغ پا ہوجاتے اور سالہا سال تک ان سے دل میں بغض رکھتے۔ جگرؔ صاحب کا ساری عمر یہ عمل رہا کہ اپنے بدخواہوں کو معاف کردیتے تھے۔ ان کے نزدیک یہی سب سے بڑی سزا تھی۔ اس کے علاوہ اخلاقی اعتبار سے جگرؔ صاحب اتنے گرے ہوئے بھی نہیں تھے کہ کراچی کا مشاعرہ نہ پڑھتے تو ان کے ہاں فاقے پڑجاتے۔ جگرؔ صاحب کراچی آکر مہینوں رہتے تھے اور بغیر مشاعروں کے بھی رئیسوں کی سی زندگی بسر کرتے تھے۔ میں نے انہیں بیسیوں جگہ مفت پڑھتے سنا ہے۔ اس مشاعرے میں بھی پڑھتے وہ نیاز صاحب کی طرح پورا خرچہ لے کر ہندوستان سے کراچی نہیں آئے تھے بلکہ یہاں پہلے سے موجود تھے۔ اور ان کا مشاعرے میں شریک ہوجانا ہی نیاز صاحب کے بُہتان کی تردید کے لیے کافی ہے۔ جگر صاحب ایک شریف النفس انسان تھے اور جہاں تک ممکن ہوتا کسی کو دُکھ نہیں پہنچاتے تھے۔

جگرؔ صاحب ایک سیر چشم آدمی تھے۔ روپیہ پیسہ ان کے لیے کوئی حیثیت نہیں رکھتا تھا۔ میں نے ان کا وہ زمانہ دیکھا ہے جب وہ شراب کے نشے میں دھت رہا کرتے تھے اور کوڑی کوڑی کو محتاج۔ مگر میں نےآج تک کسی سے نہیں سُنا کہ جگر نے کسی کے آگے ہاتھ پھیلا یاہو۔ مدہوشی میں بھی انہوں نے اپنی غیرت و خودداری کو ہاتھ سے جانےنہیں دیا۔

نخشب جار چوی نے جگرؔ صاحب کا ایک واقعہ سنایا تھا کہ کسی فلم کے لیے جگرؔ صاحب کی ایک غزل ریکارڈ کرنی تھی۔ جگرؔ صاحب کو اس کا معاوضہ ٹھیک یاد نہیں رہا، پانچ ہزار یا آٹھ ہزار پیشگی دے دیا گیا۔ جگرؔ صاحب اس سے پہلے ریڈیو کے مختلف اسٹیشنوں سے اپنا کلام نشر بھی کرچکے تھے اور ریکارڈ بھی کراچکے تھے۔ لہٰذا نہایت اطمینان سے فلم کے لیے بھی اپنی ریکارڈنگ کرانے کے لیے بیٹھ گئے۔ مگر جب اپنا ریکارڈ خود سُناتو سٹ پٹا گئے۔ اور اسے ناپسند کرکے دوبارہ ریکارڈ کیا۔ مگر اس دفعہ بھی انہیں اپنا ریکارڈ نہایت بے سُرا معلوم ہوا۔ تیسری دفعہ اور چوتھی دفعہ بھی ناکام رہے۔ غرض چھ دفعہ یہی ماجرا پیش آیا۔ سخت بد دل ہوئے۔ کمپنی والوں نے کہا ‘‘گھبرانے کی کوئی بات نہیں ہے۔ آپ اب کل پھر تشریف لائیے۔’’ گھر پہنچ کر نخشبؔ سے بولے۔ ‘‘خدا جانے کیا بات ہے کہ ریکارڈ اچھا نہیں بن رہا۔ تم ایسا کرو کہ یہ روپیہ واپس کردو اور مجھے آج سوار کرادو۔’’ نخشب صاحب نے انہیں تسلی دی اور ایک دن کے لیے اور انہیں روکنے میں کامیاب ہوگئے۔ اگلے دن بھی کئی ریکارڈ لیے مگر سب ناقص رہے۔ جگرؔ صاحب کی پریشانی اور شرمندگی بڑھتی جارہی تھی۔ اور ریکارڈنگ بد سے بدتر ہوئی جارہی تھی۔ نخشب صاحب کو ایک ترکیب سوجھی۔ مائکروفون ان کے سامنے سے ہٹادیا اور بولے ‘‘کچھ دیر توقف کیجیے، چائے وائے پیجئے، پھر دیکھا جائے گا۔’’ جگرؔ صاحب نے جھنجھلاکر کہا: ‘‘میاں تم اِن کا رویپہ واپس کرو اور مجھے گھر جانے دو۔’’ انہوں نے کہا ‘‘بہت اچھا، روپیہ واپس کردیا جائے گا۔ مگر آپ اطمینان سے بیٹھ کر چائے تو پی لیجیے۔’’ جگرؔ صاحب خوش ہوگئے، جیسے منوں بوجھ ان کے سر سے اتر گیا ہو۔ اِدھر ادھر کی باتیں ہنس ہنس کر کرنےلگے۔چائے پی چکے تو نخشب نے کہا ‘‘دراصل آپ کو مائکرو فون کا احساس ہوجاتا ہے۔ اب اگر آپ پڑھیں گے تو بالکل ٹھیک پڑھیں گے۔ ذرا پڑھئے تو۔’’ جگرؔ صاحب پڑھنے لگے۔ جب پڑھ چکے تو اسی کا ریکارڈ انہیں سنایا گیا۔ حیران ہوکر بولے ‘‘یہ کون سا ریکارڈ، ہے؟ یہ تو ٹھیک ہے۔’’ نخشب نے بتایا کہ ‘‘ابھی جو آپ پڑھ رہے تھے۔ اس کا ریکارڈ ہے۔’’ ‘‘مگر کب اور کیسے ریکارڈ کرلیا؟’’ ‘‘جی یہ ہمارے TRICKS OF THE TRADE ہیں۔اب گھر چلیے۔ روپیہ واپس کرنےکی ضرورت نہیں رہی۔’’ جس شخص کا یہ کردار ہو وہ پیسے کا میت کیسے ہوسکتا ہے؟ جب وہ پانچ ہزار سے دست کش ہوسکتا ہے تو کیا پانچ سو کے مشاعرے کو نہیں چھوڑ سکتا؟ وہ مشاعرے میں روپے کے لیے نہیں بلکہ اس لیے شریک ہوئے کہ ان کی عدم شرکت سے مشاعرے کے کارکنوں کے ساتھ سامعین کی بھی دل آزاری ہوتی اور خود جناب نیازؔ کو خفّت اٹھانی پڑتی۔ جگرؔ صاحب کو جو بے پناہ مقبولیت حاصل تھی وہ کسی نے ہاتھ اٹھاکر خیرات میں انہیں نہیں دی تھی۔ ادب دوستوں نے انہیں رئیس المتغزلین قرار دیا تھا۔ اگر انہیں شہنشاہِ تغزل کہا گیا (یہ نیاز صاحب ہی کا بیان ہے) تو شہنشاہیت کا تاج بھی خاصانِ ادب ہی نے ان کے سرپر رکھا ہوگا۔ خدا کا شکر ہے کہ جگرؔ صاحب محسود تھے، حاسد نہیں تھے۔ شریف آدمی حاسد نہیں ہوتے۔

جگرؔ صاحب ‘‘شعلۂ طور’’ کی اشاعت سے پہلے بھی شاعر تھے۔ اور ان کا ایک مجموعۂ کلام شائع ہوکر گمنام ہوچکا تھا۔ اس زمانے کے کلام میں بھی ایک تیکھاپن تھا۔ مگر سُنا ہے کہ کسی معرکہ عشق میں ناکام ہونے کے بعد ان کے ساتھ ان کے کلام کی بھی دُنیا بدل گئی۔ جگرؔ کی غزل میں جو نیا مزاج پایا جاتا ہے وہ اسی محرومی کا نتیجہ ہے۔ عشق کی آگ بھڑک کر شعلۂ طور بن گئی۔ ‘‘شعلۂ طور’’ کا پہلا ایڈیشن چھپتے ہی ختم ہوگیا۔ سید سلیمان ندوی مرحوم نے شاعر اور کلامِ شاعر کا تعارف کرایا تھا۔ میرے پاس جب یہ نسخہ ریویو کے لیے آیا تو میں نے اور انصار ناصری نے جگرؔ ہی کی دھنوں میں لہک لہک کر پوری ایک رات اسے ختم کرنے میں صرف کردی تھی۔ اس ایڈیشن میں ادیاماؔ کا بنایا ہوا جگرؔ کا ایک پنسل اسکیچ بھی تھا جو اس قدر اعلیٰ درجہ کا تھا کہ ہم اسے کسی غیر ملکی آرٹسٹ کا کارنامہ سمجھتے رہے۔ بعد میں جامعہ ملیہ میں ادیاماؔ سے ملاقات ہوئی تو معلوم ہوا کہ ہمارے ہی ملک کا ایک دھان پان سا نوجوان ہے جس کے دل میں آگ بھری ہوئی ہے، دو چار دفعہ کی ملاقات کے بعد جب اس سے پوچھا کہ یہ آپ نے اپنا نام کیا رکھا ہے تو اس نے بتایا کہ ادمایا جاپانی زبان میں جوالامکھی کو کہتے ہیں، پراسرار سا آدمی تھا۔ دلّی سے غائب ہوگیا۔ پھر سُنا کہ مرگیا۔ جگرؔ صاحب ایک زمانے میں مچھلی کی طرح شراب پیتے تھے۔ ان کے قدردانوں نے یہ وطیرہ اختیار کرلیا تھا کہ جب ان کا کلام سننا ہوتا تو ان کے لیے ایک بوتل منگالیتے۔ سوکھے دھانوں میں پانی پڑجاتا۔ گھنٹوں اپنا کلام سناتے رہتے۔ پھر ان کا لپکا اتنا زیادہ ہوگیا کہ ہر وقت پینے لگے۔ جگرؔ صاحب کی زندگی کا یہ دَور ثقہ حضرات کے نزدیک خاصہ قابل اعتراض تھا۔ مگر مدہوشی کا یہی دور ان کی شاعری کے عروج کا دَور تھا۔ ان کے قدردان اور مشاعرے والے جام مئے کی مانند انہیں ہاتھوں ہاتھ لیتے تھے۔ روپیہ ان پر برستا تھا۔ مگر وہ کل کے لیے آج شراب میں خِسّت نہیں کرتے تھے۔ روپیہ ادھر آیا اور ادھر شراب بن کر اڑا۔ خبر نہیں گھر کی زندگی اس شراب نوشی کی وجہ سے اجڑی یا گھر کی اجڑی ہوئی زندگی نے کثرتِ مے نوشی کے پَر لگائے۔ دنوں مہینوں گھر کا رخ نہ کرتے۔ آج اِس کے ہاں ٹھہرے ہیں کل اس کے ہاں۔ اصغرؔ گونڈوی ان کے بڑے ہم زلف تھے۔ جب انہوں نے میاں بیوی میں نااتفاقی کی یہ صورت دیکھی تو جگرؔ سے کہا کہ اپنے ساتھ بیوی کی زندگی کیوں خراب کر رہے ہو؟ طلاق دے دو۔ اصغرؔ کا جگرؔ صاحب بہت ادب کرتے تھے۔ تعمیلِ ارشاد میں طلاق دے دی۔ شراب اور بھی بڑھ گئی، اتنی کہ مشاعروں کے اسٹیج پر بھی بوتل اور گلاس ساتھ رہنے لگے۔ غزل پڑھتے پڑھتے بھول جاتے اور سامعین خاصے بے لُطف ہوتے۔ مگر ان کے کلام اور ان کے کمال کی وجہ سے ان کی اس لغویت کو نظرانداز کردیتے۔ کچھ رسم ایسی پڑگئی تھی کہ بغیر جگر کے کوئی مشاعرہ کامیاب نہیں ہوتا تھا۔ میں نے بہت سے ذہین شاعروں کو شراب سے تباہ و برباد ہوتے دیکھا ہے۔ اخترؔ شیرانی، میراجیؔ اور مجازؔ کا تو آخر میں یہ حال ہوگیا تھا کہ اسٹیج پر نہ صرف قے کردیتے تھے بلکہ پیشاب بھی کردیتے تھے اور لوگ انھیں اٹھاکر ان کے ٹھکانوں پرپہنچایا کرتے تھے۔ جگرؔ صاحب اتنے نہیں گرے تھے۔ انہیں پھر بھی ہوش رہتا تھا اور ان کی طرح اَول فول بکنے نہیں لگتے تھے۔ ان لوگوں میں اور بہت سی اخلاقی خرابیاں پیدا ہوگئی تھیں۔ جن کی وجہ سے لوگ ان سے بھاگنے لگے تھے۔ جگرؔ صاحب نے کسی کی بہو بیٹی کو نہیں تاکا۔ کسی سے بھیک نہیں مانگی۔ تانگے والوں اور چکلے والوں سے انہیں لڑتے ہوئے نہیں دیکھا اور پٹتے ہوئے کبھی نہیں پائے گئے۔ ان کی شراب خوری کے نقصانات ان ہی کی ذات تک محدود تھے، دوسروں کو ان کا خمیازہ بھگتنا نہیں پڑتا تھا۔ اَوروں کی شاعری دَم توڑتی چلی گئی۔ جگر کی شاعری توانا سے توانا تر ہوتی چلی گئی۔ اپنے اپنے ظرف کی بات ہے۔ جگرؔ کی شرافتِ نفس میں فرق نہیں آیا اور اسی وجہ سے ان کی نفاستِ شاعری بھی قائم رہی۔

اصغرؔ صاحب کی بیوی کا جب انتقال ہوگیا تو انہوں نے اپنی سالی یعنی جگرؔ کی مطلّقہ سے شادی کرلی۔ یوں دو اجڑے گھر بس گئے۔ جگرؔ صاحب نے اس نئے رشتے پر برہمی کا مطلق اظہار نہیں کیا۔ بلکہ اضعرؔ صاحب سے ان کی محبت اور عقیدت اور بڑھ ہی گئی۔ یار لوگوں نے اس واقعہ کے افسانے تراش لیے مگر حقیقت یہ ہے کہ جگرؔ صاحب نے اصغرؔ صاحب کے ساتھ ان کی بیوی کی عزت و تکریم بھی شروع کردی۔ وہی ناپسندیدہ بیوی اب ان کے لیے لائقِ احترام خاتون بن گئی تھیں۔ اسی سے اندازہ لگالیجیے کہ جگر صاحب حفظِ مراتب کا کس قدر خیال رکھتے تھے --گر حفظِ مراتب نہ کنی زندیقی

کچھ عرصہ بعد اصغرؔ گونڈوی کا انتقال ہوگیا۔ جگرؔ صاحب کو بڑا رنج پہنچا۔ ان کی زندگی میں یہ ایک زبردست انقلابی نقطہ تھا۔ سُناکہ جگرؔ صاحب بہت بیمار ہیں، اتنے کہ مشاعروں میں شرکت کرنے کے قابل نہیں ہیں۔ ان کی بیماری تھی ترکِ شراب۔ سُنا تھا کہ یہ منہ لگ جائے تو پھر نہیں چھوٹتی۔ مگر جگرؔ نے یک لخت شراب چھوڑدی۔ ان کے دل کی حالت بگڑ گئی۔ طبیبوں نے بہت کہا کہ رفتہ رفتہ کم کرکے چھوڑو ورنہ مرجاؤگے۔ مگر جگرؔ صاحب بڑے مضبوط کردار کے آدمی تھے۔ انہوں نے کہا ‘‘جب چھوڑنی ہی ٹھہری تو بس چھوڑدی۔ اب جان جائے یا رہے۔’’ اِس کا ردّعمل اتنا شدید ہوا کہ جان کے لالے پڑگئے۔ جگرؔ صاحب نے اپنے آپ کو اتنی سخت آزمائش میں آخر کیوں مبتلا کیا؟ معلوم ہوا کہ یہ بھی محبت کی کارفرمائی ہے۔ اصغرؔ صاحب کے انتقال کے بعد جگرؔ صاحب کو ان کی بیوہ اور اپنی سابقہ بیوی سے محبت ہوگئی۔ عدت پوری ہونے کے بعد حرفِ مطلب زبان پر لائے۔ انہوں نے فرمایا ‘‘شراب چھوڑ دو۔’’ اس اللہ کے بندے نے شراب چھوڑ دی۔ بڑی بُری بُری حالتیں ہوئیں مگر نیت نیک تھی۔ ساحل مراد پر زندہ ہی پہنچ گئے۔ انہوں نے اپنا وعدہ پورا کیا۔ شادی کے بعد جگر صاحب نے ایک نئی زندگی کا آغاز کیا۔ رندی سرمستی رخصت ہوچکی تھی۔ اب وہ ایک زاہد خشک بن گئے تھے۔ مگر اس زُہد و اتّقا میں ان کا دل زندہ مرنےنہیں پایا تھا۔ طبیعت کی مستقل خرابی کے باوجود وہ خوب ہنستے بولتے تھے۔ گھنٹوں برج کھیلا کرتے تھے۔ مشاعروں اور ادبی محفلوں اور دوستوں کے ہاں آیا جایا کرتے تھے۔ اخلاق اور بھی نکھر گیا تھا۔ کھانا وہ پہلے بھی کم کھاتے تھے، اب تو لوں ماشوں پر آگیا تھا۔ ہندوستان اور پاکستان میں یکساں عزت کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے۔ بیوی سلیقہ مند خاتون تھیں۔ چند سال کے پھیر میں ہی مشاعروں کے روپے سے سُنا ہے کہ انہوں نے جگرؔ صاحب کو صاحبِ جائداد بنادیا۔ قیام پاکستان کے بعد جگرؔ صاحب نے یوپی کے مسلمانوں کے لیے بہت مفید کام کیے۔ حکام ان کی عزت کرتے تھے اور ان کی بات نہیں ٹالتے تھے۔ پاکستان میں ان کا وقار قائم تھا۔ لوگ کہتے ہیں کہ ان کی شاعری بھی بہتر ہوگئی تھی مگر اس میں جو ایک قسم کی بے ساختگی اور ایک طرح کی والہانہ کیفیت تھی، ایک اچھوتا بانکپن تھا وہ یقیناً نہیں رہا تھا۔ اس کے بدلے سنجیدگی اور روحانی بالیدگی دَر آئی تھی۔ پہلے دل سے شعر کہتے تھے۔ اب دماغ سے کہنے لگے تھے؎

ببیں کرامتِ بُت خانۂ مرا اے شیخ --کہ چوں خراب شود خانۂ خدا گردد

دل کی بیماری نے ان کا ساتھ نہیں چھوڑا۔ آہستہ آہستہ جگرؔ صاحب کی صحت جواب دیتی چلی گئی۔ دوسال ہوئے کراچی میں ان سے ملاقات ہوئی تھی۔ ویسے ہی ہشاش بشاش تھے۔ اور اسی گرم جوشی سے ملے تھے۔ اسی طرح پوری آواز سے اپنا کلام سناتے تھے۔ لوگ فرمائش کرکرکے ان سے ان کا پہلا کلام سنتے تھے۔ خوش ہوکر سناتےتھے۔ ایک مشاعرے میں دور پیچھے سے آواز آئی ‘‘جگرؔصاحب، وہ سنائے جس میں ہرن ٹیل رئے ہیں۔’’ یعنی ٹہل رہے ہیں۔ جگرؔ صاحب نے مسکراکر اپنا مشہور فارسی کا سراپا سنادیا جس میں ‘‘آہو خرامے’’ آتا ہے۔ وطن واپس پہنچے تو دل کے شدید دورے پڑنے لگے۔ صاحب فراش ہوگئے۔ مہینوں زندگی اور موت میں ان پر چھینا جھپٹی ہوتی رہی۔ اسی بیماریٔ دل نے آخر کام تمام کیا۔ خدا رحمتِ کندایں عاشقانِ پاک طینت را۔