طوفاں میں کنارا تو
ڈوبنے والوں کا
بس ایک سہارا تو
امید کرن ہے تو
غم کے اندھیرے میں
راحت کا چمن ہے تو
صحرا میں کھلائے تو
پھول مہک والے
گلشن میں سجائے تو
معبود ہے تو سب کا
تیری طرف دیکھیں
مقصود ہے تو سب کا
تجھ ہی سے مدد چاہیں
راہ جو ہے سیدھی
نصرت سے تری پائیں
بگڑی کو بنا مولا
رہ پہ چلا اپنی
عقبی کو سجا مولا
اللہ کرم کر دے
نام ترا میں لوں
دامن کو مرے بھر دے
یا رب یہ دعا سن لے
دین ہو پھر غالب
مسلم کی صدا سن لے
 
خضر حیات ناگپوری
حال مقیم ابو ظبی