حمدِ باری تعالیٰ
میں اس کے نام سے کرتا ہوں ابتدائے سخن!
"ضمیرِ کن" سے اگاتا ہے جو زمین و زمن
شعاعِ لوحِ خفی سے تراشتا ہے وجود!
غبارِ قافِ قلم سے اجالتا ہے چمن
اسی کے دستِ کرم سے جہاں میں بٹتا ہے
تمام صبح کا سونا، تمام شام کا دھن
اسی کے واسطے محشر، اسیرِ امرِ ظہور
اسی کے حکم سے دنیا نمو کی لے میں مگن
وہی تو ہے جو ہواؤں کو دے کے اذنِ خرام
سمندروں کی جبیں پر ابھارتا ہے شکن
اسی کے لطف و کرم سے کشیدہ ابرِ بہار
سجائے بطنِ صدف میں لبِ گہر پر کرن
اسی کے حسنِ سخا سے حدِ نگاہ میں ہے
جہاں میں بحرِ غزالاں، فضائے دشت و دمن
زمین پہ نصب کیے اس نے پتھروں کے خیام
یہ کوہسار، سمیٹیں جو آسمان کی پھن
اسی کے معجزہ کن کے نقش ہائے جمیل
یہ مرغزار، یہ جھرنوں میں غسل کرتے چمن
وہی محیطِ قضا و قدر ورائے خیال
وہی ہے چارہ گرِ اضطرابِ رنج و محن
اسی کی بخششِ پیہم کے گیت گاتے ہیں
وہ طائرانِ فلک بخت ہوں کہ زاغ و زغن
اسی کا ذکر کریں اہلِ دل کہ دنیا میں
بڑھے لہو کی روانی، مٹے دلوں کی تھکن
وہ خالقِ دو عالم، خبیرِ سرِ خفی
رفیقِ دل زدگاں، کبریائے رمزِ کہن
جو بندگی کو ہدایت کا نور دیتا ہے
جو آگہی کو سکھاتا ہے مصطفیٰ کا چلن
وہ ربِ نطقِ دل و جاں، وہ کبریا میرا
اسی کے اذن سے حاصل مجھے متاعِ سخن
جھکا میں سامنے اس کے تو سرخرو بھی ہوا
نہ شرمسار ہے سجدہ، نہ ہے جبیں پہ شکن
عجب سخی ہے کہ اس سے سوال کر کے سدا
نہ ہاتھ شل ہوئے میرے، نہ ہے زباں میں تھکن
شفاعتِ شہِ بطحا نصیب ہو تو مجھے
نہ مال و زر کی ہوس ہے، نہ حرصِ لعلِ یمن
اسی کے حسن پہ سوچا تو اپنی آنکھوں میں
تمام رنگ بکھرتے گئے چمن با چمن
نویدِ خلد وہ بخشے کبھی بفیضِ رسول
کبھی بنامِ علی دے وہ مجھ کو رزقِ سخن
یہ سانس صدقۂ زہرا میں دی اسی نے مجھے
درِ بتول کے ہے لوحِ معرفت کا متن
وہ دے گا دل کو ابھی اور نعمتیں محسن
بنامِ عکسِ جمالِ رخِ حسین و حسن
— محسن نقوی —
