سدا رہے گی یہی روانی ،رواں ہے پانی
بہاؤ اس کا ہے جاودانی، رواں ہے پانی
سنو یہ آواز دْور کی لہر کی صدا ہے
اْٹھاؤ لنگر کہ پھرسمندر بْلا رہا ہے
عمرِ رواں بھی اِک دریا ہے
اک دریا صحرا جیسا ہے
عمرِ رواں ہے بہتا پانی
پانی کی سمتیں انجانی!
