نعت رسول کریمﷺ
سلسلہ : نعت
میں ایک نعت کہوں سوچتا ہوں کیسے کہوں
میں ایک نعت کہوں سوچتا ہوں کیسے کہوں
ہے مضطرب سی تمنا کہ ایک نعت کہوں
میں اپنے زخموں کے گلشن سے تازہ پھول چنوں
پھر ان پہ شبنمِ اشکِ سحر گہی چھڑکوں
پھر ان سے شعرکی لڑیاں پرو کے نعت کہوں
میں ایک نعت کہوں سوچتا ہوں کیسے کہوں
کھڑا ہوں صدیوں کی دوری پہ خستہ و حیراں
یہ میرا ٹوٹا ہوا دل یہ دیدہئِ گِریاں
یہ مْنفَعِل سے ارادے یہ مضمحل ایماں
یہ اپنی نسبتِ عالی یہ قسمتِ ؟؟؟
میں ایک نعت کہوں سوچتا ہوں کیسے کہوں
یہ اْن سے پیار کے دعوے یہ جذبہ ایماں
یہ اپنی گرمیئِ گفتار پستیء کردار
رواں زبانوں پہ اشعار کھو گئی تلوار
حسین لفظوں کے انبار اڑ گیا مضموں
میں ایک نعت کہوں سوچتا ہوں کیسے کہوں
نہ سامنے کوئی منزل نہ راستہ معلوم
نہ رہ زنوں کی خبر ہے نہ رہ نما معلوم
یہ کیا مقام ہے اپنا نہیں پتہ معلوم
یہ کیا زمیں ہے آخر یہ کون سا گردوں
میں ایک نعت کہوں سوچتا ہوں کیسے کہوں