معلومات

سونے كی خريداری اور دھوكے سے بچاؤ

عاصم ملتانی

سونا سنار کا-آج میرے تقریباً چار گھنٹے سرافہ بازار میں گزرے۔مقصد بڑا خوبصورت تھا۔ اپنی اکلوتی بیگم کے لیے سونے کے کنگن لینے تھے۔ سوچا تھا، اچھا سا ڈیزائن دیکھیں گے، قیمت معلوم کریں گے، کنگن بنوائیں گے اور خوشی خوشی واپس آ جائیں گے۔لیکن چار گھنٹے ملتان سرافہ بازار میں گزارنے کے بعد سونے سے زیادہ سونے کے حساب کتاب نے مجھے حیران کر دیا۔اور اسی لیے میرے ذہن میں ایک جملہ آیا:سونا سنار کا

میں نے ایک دو نہیں، کئی دکانیں دیکھیں۔ کچھ جاننے والوں کے ریفرنس سے اور کچھ بالکل رینڈم۔ مختلف سناروں سے ریٹ کیرٹ، بنائی اور واپس خریدنے کا طریقہ پوچھا۔

تقریباً سب جگہ بنیادی حساب ایک جیسا تھا۔آپ کو سونے کا ریٹ 24 کیرٹ کے حساب سے بتایا جاتا ہے، لیکن زیور 21 کیرٹ کا بنتا ہے۔مثلاً اگر 24 کیرٹ سونے کا ریٹ 4 لاکھ 35 ہزار روپے فی تولہ ہو اور آپ دو تولے کا زیور خرید رہے ہوں تو:4,35,000 × 2 = 8,70,000 روپے--یعنی دو تولے کے لیے تقریباً 8 لاکھ 70 ہزار روپے۔لیکن آپ کے ہاتھ میں آنے والا زیور 21 کیرٹ کا ہوگا۔

اب تک تو میں نے سوچا، ٹھیک ہے، زیور 24 کیرٹ کا نہیں ہوتا، اس میں دوسری دھاتیں شامل ہوتی ہیں، اس لیے کیرٹ کا فرق سمجھ آتا ہے۔لیکن اصل حیرت مجھے واپس بیچنے کے طریقے نے دی۔فرض کریں میں نے آج 21 کیرٹ کا زیور خرید لیا۔

کچھ عرصے بعد میں وہی زیور لے کر سنار کے پاس واپس جاتا ہوں۔میں سمجھتا تھا کہ بس 21 کیرٹ کا ریٹ لگے گا اور وزن کے حساب سے پیسے مل جائیں گے۔لیکن نہیں! پہلے زیور کو پگھلایا جائے گا۔پھر اس میں سے سونے کے علاوہ موجود کیڈ، پالش اور دوسرے غیر سونے کے اجزا الگ کیے جائیں گے۔اس کے بعد جو اصل سونا بچے گا، اس کی دوبارہ جانچ ہوگی۔اور پھر اس بچے ہوئے سونے پر ایک نیا ریٹ لگے گا۔یعنی جس زیور کو میں نے خریدتے وقت ایک مکمل تیار شدہ سونے کی چیز سمجھ کر پیسے دیے تھے، بیچتے وقت وہ پہلے ایک تیار زیور نہیں رہتا۔وہ پہلے پگھلے گا، چھانے گا، الگ ہوگا، جانچا جائے گا، پھر اس کی قیمت لگے گی۔یہ وہ بات تھی جس نے مجھے واقعی حیران کیا۔

مثلاً اگر آج میں نے زیور 4 لاکھ 75 ہزار روپے فی تولہ کے حساب سے خریدا، اور کچھ عرصے بعد مارکیٹ ریٹ 3 لاکھ 80 ہزار روپے فی تولہ کے حساب سے بنتا ہے، تو معاملہ صرف یہ نہیں کہ مجھے 3 لاکھ 80 ہزار مل جائیں گے۔پہلے 21 کیرٹ کا حساب ہوگا، پھر زیور میں سے کاٹ، پالش اور دوسرے اجزا کی کٹوتی ہوگی، پھر اصل سونے کی مقدار سامنے آئے گی، اور اس کے بعد مجھے جو نیا ریٹ ملے گا، وہ میرے لیے اصل فروخت کی قیمت ہوگی۔تب مجھے احساس ہوا کہ سونا خریدنا اور سونا بیچنا شاید دو بالکل مختلف کھیل ہیں۔

خریدتے وقت:ریٹ + زیور + ڈیزائن + بنائی

اور بیچتے وقت:21 کیرٹ کا حساب → پگھلانا → غیر سونے کے اجزا الگ کرنا → اصل سونے کی مقدار → پھر نیا ریٹ۔

اور میں سوچنے لگا: بھائی، میں سونا خرید رہا ہوں یا سونے کے ساتھ ایک مکمل accounting system بھی خرید رہا ہوں؟

سنار حضرات سے معذرت کے ساتھ، میں کسی ایک دکاندار پر الزام نہیں لگا رہا۔ ممکن ہے اس پورے عمل کے پیچھے تکنیکی وجوہات، کاروباری اخراجات اور مارکیٹ کے اپنے اصول ہوں۔لیکن سوال ایک عام صارف کا ہے:کیا ہمیں یہ ساری چیزیں سونا خریدتے وقت صاف صاف نہیں بتانی چاہئیں؟کیونکہ عام آدمی تو صرف یہ دیکھتا ہے کہ آج سونے کا ریٹ کیا ہے۔وہ یہ نہیں سوچتا کہ اگر کل اسے یہی زیور بیچنا پڑ گیا تو:۱)24 کیرٹ کے بجائے 21 کیرٹ کا حساب ہوگا،۲) زیور پگھلے گا،۳)کاٹ اور پالش الگ ہوں گے،

۴) اصل سونے کی مقدار دوبارہ نکالی جائے گی،۵) اور پھر اس کے بعد ایک نیا ریٹ لگے گا۔یہی وجہ ہے کہ سونے کے زیور کو صرف سرمایہ کاری سمجھنا مجھے اب اتنا آسان نہیں لگتا۔

ہمارے معاشرے میں سونا ویسے بھی زیادہ تر پہننے کے لیے خریدا جاتا ہے۔ بیوی کے لیے، بیٹی کے لیے، شادی کے لیے، مستقبل کے لیے۔ہم اسے برسوں سنبھال کر رکھتے ہیں۔

2015 میں خریدا ہوا زیور شاید 2021 یا 2022 میں بیچا جائے۔ پھر پتا لگے گا یہ اصل بھی تھا کہ نہیں۔۔۔۔اور پھر جب اسے بیچنے جائیں تو معلوم ہوتا ہے کہ:سونے کا ریٹ تو بڑھ گیا، لیکن ہمارے زیور کا حساب اتنا سیدھا نہیں۔ممکن ہے طویل مدت میں سونے کی قیمت اتنی بڑھ جائے کہ یہ سارے فرق پورے ہو جائیں۔ لیکن زیورات خریدنے والے عام صارف کو یہ پورا حساب پہلے سے معلوم ہونا چاہیے۔

آخر میں سنار بھائیوں سے ایک درخواست ہے:اگر میں اس پورے حساب کو غلط سمجھ رہا ہوں تو ضرور میری اصلاح کریں۔کیونکہ میں سونے کا ماہر نہیں، صرف ایک خریدار ہوں۔اور شاید میرے جیسے بہت سے لوگ صرف اتنا جانتے ہیں:

“سونا سستا ہے، اس لیے سونا خرید لو۔”لیکن آج مجھے لگا کہ اصل سوال یہ ہونا چاہیے:

“سونا خریدنے کے بعد، اگر مجھے اسے بیچنا پڑا تو میرے ہاتھ میں حقیقتاً کتنا خالص سونا بچے گا؟”کیونکہ خریدتے وقت ہمیں بتایا جاتا ہے:“یہ آپ خالص سونا ہے۔”

نوٹ:ایک اور حیران کن بات یہ ہے کہ سونے کی رسید سنبھال کر رکھنا بھی ضروری ہے، کیونکہ جس سنار سے سونا خریدا ہو، وہی اسے نسبتاً اچھے ریٹ پر واپس خریدتا ہے۔ اگر وہی سونا اور وہی رسید لے کر کسی دوسرے سنار کے پاس جائیں تو وہ مارکیٹ سے بھی کم ریٹ لگا سکتا ہے۔ یعنی سونا آپ کا، رسید آپ کی، مگر اچھا ریٹ صرف اسی سنار کے پاس جس سے لیا تھا۔۔(اللہ سنار کی زندگی لمبی رکھے)