گولف کیا ہوتا ہے؟

مصنف : محمد سلیم

سلسلہ : معلومات

شمارہ : اكتوبر 2026

معلومات

گولف کیا ہوتا ہے؟

دیسی ترکیبوں کے ساتھ دیسی تشریح

محمد سليم

بظاہر ایک چھوٹی سی گیند اور سٹرائیکر کے ساتھ کھیلا جانے والا یہ کھیل، اپنے خواص کے لحاظ سے، خالص صاحب ثروت اور امیر لوگوں کا کھیل ہے۔ کھیل سے زیادہ اسے ملن پارٹی، گپ شپ اور تفریح کا نام دے دیا جائے تو زیادہ بہتر رہے گا۔ مگر اتنی زیادہ تفريح بھی نہیں، کھلاڑی کو کم از کم ایک مکمل کھیل کھیلنے کیلیئے دس سے بارہ کیلو میٹر چلتا پڑتا ہے اور چار سے چھ گھنٹے بھی درکار ہوتے ہیں۔ کاروباری لوگ اس کھیل کے ذریعے سے اعلیٰ حکام سے روابط اور تعلق بناتے ہیں تو حکومتی عہدیداران اس کھیل کے ذریعے عوام کے خاص الخاص لوگوں سے مل پاتے ہیں۔

گولف کے کلب عموماً ایسے باغ عدن ہوتے ہیں جیسے جنت ارضی۔ کئی مربع میل پرمحیط، جھیلوں، آبشاروں، مصنوعی صحراؤں، قدرتی یا بناؤٹی پہاڑیوں، جنگل، پودوں، سبزہ زاروں اور پھولوں سے مزین یہ رقبہ سینکڑوں ملازمین اور خدمتگاروں کے بل بوتے پر اپنا حسن برقرار رکھ رہا ہوتا ہے۔ اخراجات کی مد میں اس کلب کی فی کھیل کے حساب سے کوئی فیس رکھنا بالکل بے معنی ہوتا ہے اس لیئے کلب والے اپنے ہاں کھیلنے والوں کو اپنا ممبر بناتے ہیں جو لاکھوں روپے سالانہ کی ادائیگی سے ممکن ہوتا ہے۔

کھیل شروع کرنے کیلیئے بہترین وقت سورج طلوع ہونے سے آدھ پون گھنٹہ پہلے ہوتا ہے۔ ٹھنڈے ٹھنڈے وقت میں شروع کی ہوئی گیم بعد میں سورج کی تمازت بڑھنے سے بھی زیادہ محسوس نہیں ہوتی۔ عام طور پر لوگ دوپہر کو ایک یا دو بجے تک کھیل ختم کر کے لوٹ رہے ہوتے ہیں۔

پورا کھیل اٹھارہ ہول پر مبنی ہوتا ہے۔ بالفاظ دیگر، اس کھیل کیلیئے اٹھارہ میدان درکار ہونگے۔ ہر میدان کی لمبائی چوڑائی ایک دوسرے سے مختلف ہوتی ہے۔ میدان کی لمبائی چوڑائی کے حساب سے کیا گیا فیصلہ کہ گیند کو کتنی ضربوں کے ساتھ ساڑھے چار انچ قطر کے ہول میں ڈالا جائے "پار" کہلاتا ہے۔ عموماً ایک میدان تین سے پانچ پار میں سر کیا جاتا ہے۔ کل کھیل میں کم از کم بہتر پار ہوتے ہیں۔ جیتنے والا اس میدان کو کم سے کم پار کے ساتھ کھیل کر جیتتا ہے۔ اسی لیئے اس کا سکور صفر، منفی تین یا پلس ایک نظر آرہا ہوتا ہے۔ اس کا مطلب بالترتیب یہ ہوتا ہے کہ کھلاڑی پورے پورے دیئے ہوئے ٹارگٹ پار کے ساتھ کھیل رہا ہے، اپنا ھدف تین ضربوں کو بچا کر پورا کر رہا ہے یا پھر دی گئی تعداد سے ایک ضرب زیادہ لگا چکا ہے۔

پہلی ضرب گیند کو ایک چھوٹی سی "ٹی" پر زمین سے اونچا رکھ کر لگانے کی اجازت ہوتی ہے، اس کے بعد چل سو چل، جدھر گیند جائے گی ادھر سے ہی ضرب لگانی پڑے گی۔ سٹرائیکر مختلف قسموں اور شکلوں کے ہوتے ہیں جسے کھلاڑی اپنی سہولت کے مطابق وقت کے ساتھ ساتھ کس سے کیسی ضرب لگائی جائے سیکھتے ہیں، قانونی کوئی پابندی نہیں ہوتی۔ ایک وقت میں ایک گیم ایک سے لیکر پانچ یا چھ لوگ مل کر کھیل سکتے ہیں کوئی پابندی نہیں۔ اور ایک ہی کلب میں ایک وقت میں کئی کئی گروپ کھیل رہے ہوتے ہیں۔ کوئی گروپ آپ سے آگے چل رہا ہے تو کوئی گروپ اس وقت اس میدان میں ہے جسے آپ چھوڑ کر آئے ہیں۔ کھیل میں نخرے بھی کمال کے دیکھنے والے ہوتے ہیں۔ کوئی کھلاڑی چاہے گا کہ جب وہ ضرب لگائے تو بالکل خاموشی ہو، سب کچھ روک دیا جاتا ہے اور بالکل پن ڈراپ خاموشی۔ کوئی کھلاڑی چاہے گا کہ اس کا ہیلپر اسے ہر بار ریت اڑا کر ہوا کا رخ بتائے، میٹر سے چیک کر کے ہوا کی رفتار بتائے۔ مناسب سٹکرائیکر اٹھا کر دے، ضرب لگانے کے بعد فورا ًاس کے ہاتھ سے دستانہ اتار کر محفوظ رکھے، جب وہ چلے تو اس پر چھتری کا سایہ ہو، جب ضرب لگا کر ہٹے تو گولف کار اس کے پاس لا کر اسے دوسری ہٹ لگانے والی جگہ پر لیکر جائے۔ ہر ہٹ پر اسے سکور بتائے، ایک گھونٹ پانی پلائے وغیرہ وغیرہ۔

اس کھیل کے کسی چھوٹے حصے میں جہاں پر گیند 320 گز تک دور ہول میں ڈالنا تھی، عموماً معجزاتی طور پر ایک ہی بار میں گیند ہول ہو جاتی ہے۔ یہ ایک نیا ہی ڈرامہ ہوتا ہے۔ تاریخ مرتب ہو جاتی ہے کہ اس صاحب نے "ہول ان ون" کر دیا ہے۔ اس کے حلقہ احباب میں ہی نہیں ابھرتے چڑھتے سورج کی جگہوں تک خبر جاتی ہے۔ کھلاڑی خوش قسمت شمار ہوتا ہے۔ آفیشل مقابلوں میں تو اس کا علیحدہ ہی انعام ہوتا ہے جو لاکھوں ڈالر پر مشتمل ہوتا ہے۔ غیر سرکاری طور پر بھی اچھی خاصی آؤ بھگت ہوتی ہے۔ گیند محفوظ کر لی جاتی ہے۔ یار دوست پارٹیاں لیتے ہیں۔ میرے ایکس باس پیٹر کو ایک :ہول ان ون" کوئی پچاس ہزار ڈالر میں پڑا تھا، کہتا تھا پتہ نہیں میں بد بخت ہوں کہ خوش بخت جو مجھ سے یہ ہول ان ون ہو گیا ہے۔

کلب کے ممبرز ہونے کے باوجود بھی کھلاڑی کو ہر دفعہ کھیل کیلیئے کچھ فیس دینا ہوتی ہے۔ مثلا پیٹر سالانہ رکن تو ہے مگر اسے اور اس کے ساتھ گئے ہر شخص کے بدلے میں اسے 250 یوان فی کس بھی دینا ہونگے۔ ایک گولف کار لینے کا معاوضہ علیحدہ ہوگا۔ ہر کھلاڑی اپنا بیگ اٹھانے یا ٹرالی پر رکھ کر کھینچنے والے خادم یا خادمہ کو کھیل کے بعد اپنی حیثیت کے مطابق انعام و اکرام بھی دے گا۔

اس کھیل کا ہر کھلاڑی، کلب میں ملنے والی سہولیات کے حساب سے، اپنے آپ کو پرنس چارلس سے کم نہیں سمجھتا۔ واپسی پر، کلب کی عمارت میں جانے سے پہلے بیسیوں گیس ٹارچ آپ کے جوتوں پر لگی مٹی اور گھاس صاف کرنے کیلیئے، ساؤنا باتھ، سٹیم باتھ، شاور، نئے تولیئے، استقبالیہ کھانے اور ری فریشمنٹ، مساج، سینما اور شب بسری کیلیئے ہوٹل ایک اور ہی دنیا ہوتے ہیں۔

گولف اگر دکھاوے کا کھیل ہے تو ایک نشہ بھی ہے۔ گولفر کی کار میں لاکھوں روپوں کے سٹرائیکرز سے بھرے ایک یا دو بیگ، دفتر میں گیند کو ہول کرنے کیلیئے ایک پریکٹس میٹ، شییلڈ، تصاویر اور دل کو اطمینان دینے والی کئی یادگاریں ہر وقت نظروں کے سامنے رکھنا ہوتی ہیں۔ جیسے ہی کوئی نیا گولف کلب کھلے، کوئی نئی سٹرائیکر سٹک ایجاد ہو، کسی نئی کار کی اوپننگ سرمنی ہو، نئے ہوٹل کا افتتاح ہو گولفر مدعو ہونگے۔ اب تو ائیرپورٹ پر بھی وژوول سٹرائیک لگانے کیلیئے سٹرائیکر اور سکرین لگے ہوتے ہیں جس میں آپ کی ہٹ کا ٹھیک ٹھیک ورچول فاصلہ دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

گولفر اگر مہینے میں ایک آدھ گیم نہ کھیل پائے تو اس کا جسم ٹوٹنا شروع ہو جاتا ہے۔ تاہم شہروں میں کئی ایسے پریکٹس کورٹ بنتے ہیں جن میں بڑے بڑے نیٹ لگا کر گیند کو باہر نہ جانے دینے کا انتظام ہوتا ہے۔ گولفر ادھر روزانہ یا اپنی سہولت کے حساب سے جا کر سو یا ڈیڑھ سو گیندوں کو ہٹ لگا کر اپنی تسکین لے آتا ہے۔ کئی پریکٹس کلب میں یہ کام سٹرائیک ایریا کے سامنے بنائی ہوئی ایک جھیل سے لیا جاتا ہے جس میں ہٹ کے بعد آپ کی گیند پانی میں جاتی ہے۔ تاہم مناسب لگائے ہوئے نشانوں سے آپ کو پتہ چلتا ہے کہ آپ کی ہٹ کتنے گز کی تھی۔

** پس تحریر: ایک زمانے تک، جب میں ایک کمپنی میں اِندر راجہ بنا ہوا تھا تو میری سنڈے فرصت کو مصروف بنانے کیلیئے ایک گولف کلب میں لے جایا جاتا تھا۔ پہلے پہل میرے لیئے گولف کار لی جاتی تھی تاکہ میں ساتھ ساتھ یا آگے پیچھے سیر کر کے خوش رہوں، پھر یہ کہہ کر کھیل میں ہی شامل کر لیا گیا کہ اوئے: تو نواب ہے کیا؟ ہم کھیل کھیلیں ڈھائی سو یوان بھر کے، اور تجھے گولف کار لیکر دیں ساڑھے تین سو یوان کی۔ چل، آئیندہ سے تو بھی ہمارے ساتھ کھیلنا۔