*دیسی مہینوں کا تعارف اور وجہ تسمیہ:*

مصنف : ڈاکٹر جمیل نتکانی

سلسلہ : معلومات

شمارہ : اكتوبر 2026

معلومات

*دیسی مہینوں کا تعارف اور وجہ تسمیہ:*

جميل نتكانی

1۔ چیت/چیتر (بہار کا موسم)

2۔ بیساکھ/ویساکھ/وسیوک (گرم سرد، مِلا جُلا)

3۔ جیٹھ (گرم اور لُو چلنے کا مہینہ)

4۔ ہاڑ/اساڑھ/آؤڑ (گرم مرطوب، مون سون کا آغاز)

5۔ ساون/ساؤن/وأسا (حبس زدہ، گرم، مکمل مون سون)

6۔ بھادوں/بھادروں/بھادری (معتدل، ہلکی مون سون بارشیں)

7۔ اسُو/اسوج/آسی (معتدل)

8۔ کاتک/کَتا/کاتئے (ہلکی سردی)

9۔ مگھر/منگر (سرد)

10۔ پوہ (سخت سردی)

11۔ ماگھ/مانہہ/کُؤنزلہ (سخت سردی، دھند)

12۔ پھاگن/پھگن/اربشہ (کم سردی، سرد خشک ہوائیں، بہار کی آمد)

برصغیر پاک و ہند کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ اس خطے کا دیسی کیلنڈر دنیا کے چند قدیم ترین کیلنڈرز میں سے ایک ہے۔ اس قدیمی کیلنڈر کا آغاز 100 سال قبل مسیح میں ہوا۔ اس کیلنڈر کو بکرمی کیلنڈر، دیسی کیلنڈر اور جنتری کے ناموں سے بھی جانا جاتا ہے۔

تین سو پینسٹھ (365) دنوں کے اس کیلنڈر کے 9 مہینے تیس (30) تیس دنوں کے ہوتے ہیں، اور ایک مہینا وساکھ اکتیس (31) دن کا ہوتا ہے، اور دو مہینے جیٹھ اور ہاڑ بتیس (32) بتیس دن کے ہوتے ہیں۔

1۔ 14 جنوری ۔۔۔ یکم ماگھ

2۔ 13 فروری ۔۔۔ یکم پھاگن

3۔ 14 مارچ ۔۔۔ یکم چیت

4۔ 14 اپریل ۔۔۔ یکم بیساکھ

5۔ 14 مئی ۔۔۔ یکم جیٹھ

6۔ 15 جون ۔۔۔ یکم ہاڑ

7۔ 17 جولائی ۔۔۔ یکم ساون

8۔ 16 اگست ۔۔۔ یکم بھادروں

9۔ 16 ستمبر ۔۔۔ یکم اسوج

10۔ 17 اکتوبر ۔۔۔ یکم کاتک

11۔ 16 نومبر ۔۔۔ یکم مگھر

12۔ 16 دسمبر ۔۔۔ یکم پوہ

دیسی کیلنڈر میں ایک دن کے آٹھ پہر ہوتے ہیں، ایک پہر جدید گھڑی کے مطابق تین گھنٹوں کا ہوتا ہے۔ ان پہروں کے نام درج ذیل ہیں۔

1۔ دھمی/نور پیر دا ویلا:

صبح 6 بجے سے 9 بجے تک کا وقت

2۔ دوپہر/چھاہ ویلا:

صبح کے 9 بجے سے دوپہر 12 بجے تک کا وقت

3۔ پیشی ویلا: دوپہر 12 سے سہ پہر 3 بجے تک کا وقت

4۔ دیگر/ڈیگر ویلا:

سہ پہر 3 بجے سے شام 6 بجے تک کا وقت

5۔ نماشاں/شاماں ویلا:

شام 6 بجے سے لے کر رات 9 بجے تک کا وقت

6۔ کفتاں ویلا:

رات 9بجے سے رات 12 بجے تک کا وقت

7۔ ادھ رات ویلا:

رات 12 بجے سے سحر کے 3 بجے تک کا وقت

8۔ سرگی/اسور ویلا:

صبح کے 3 بجے سے صبح 6 بجے تک کا وقت....