آٹھویں صدی کے ایک کوریائی راہب Hyecho کا ہندوستان / پاکستان کا سفرنامہ

مصنف : محمد عبدہ

سلسلہ : سفرنامہ

شمارہ : اكتوبر 2026

سفر نامہ

آٹھویں صدی کے ایک کوریائی راہب Hyecho کا ہندوستان / پاکستان کا سفرنامہ

محمد عبدہ

پیرس میں واقع نیشنل لائبریری آف فرانس کے وسیع ذخیرے میں موجود بے شمار قیمتی نوادرات میں آٹھویں صدی کا ایک نہایت اہم مخطوطہ بھی شامل ہے۔ یہ مخطوطہ ایک طومار کی شکل میں ہاتھ سے لکھا گیا ہے، جس میں تقریباً 6,000 کلاسیکی چینی حروف 227 سطروں پر مشتمل ہیں۔ یہ ہندوستان کی تاریخ کے محفوظ رہ جانے والے قدیم ترین تاریخی بیانات میں سے ایک ہے۔

یہ طومار، جس کی چوڑائی تقریباً 28.5 سینٹی میٹر ہے، فرانسیسی ماہرِ آثارِ قدیمہ اور چینی زبان و ثقافت کے عالم پال پیلیو (Paul Pelliot) کے ذریعے فرانس کی قومی لائبریری تک پہنچا۔ پیلیو نے 1908 میں چین کے شہر دون ہوانگ میں واقع موگاؤ غاروں (Mogao Caves) کے نگران سے یہ طومار خریدا تھا۔ اس کے ساتھ انہوں نے چینی، سنسکرت، پراکرت اور دیگر زبانوں میں لکھے ہزاروں قدیم طومار بھی خریدے تھے۔

قدیم ہندوستان کے بارے میں یہ ایک نادر تاریخی ریکارڈ ہے۔ اس سفرنامے کا عنوان ’’وانگوچونچک گک جیون (Wangocheonchukguk-Jeon) ہے، جس کا مفہوم ہے:’’ہندوستان کی پانچ ریاستوں کے زیارت نامے کی یادداشت‘‘

یہ سفرنامہ ایک کوریائی بدھ راہب اور زائر ہےچو (Hyecho) نے تحریر کیا تھا، جس نے آٹھویں صدی میں ہندوستان کے وسیع علاقوں کا سفر کیا۔ ہےچو کا خیال تھا کہ ہندوستان پانچ بڑی ریاستوں یا خطوں میں تقسیم تھا۔

ہیچو کوریائی ریاست شیلا (Silla) کا باشندہ تھا، جو آج کے جنوبی کوریا کے وسطی اور جنوبی حصوں میں واقع تھی۔ وہ 704 میں پیدا ہوا۔ بعد میں وہ چین کے تانگ خاندان کے دور میں تعلیم حاصل کرنے گیا، جہاں اسے ہندستان سے گہری دلچسپی پیدا ہوئی۔ وہ ہندستان کو “بدھ کی سرزمین” کہتا تھا۔ صرف 19 سال کی عمر میں اس نے ہندوستان کے سفر کا آغاز کیا۔ وہ جنوبی چین کے ساحل سے روانہ ہوا - اس زمانے میں جنوبی چین سے ہندوستان جانے والے زائرین عام طور پر انڈوچائنا کے ساحلی علاقوں سے ہوتے ہوئے موجودہ انڈونیشیا کی طرف جاتے تھے، تاکہ وہاں موجود سوماترا کے بدھ راہبوں سے بدھ مت کے بارے میں مزید تعلیم حاصل کر سکیں۔ہےچو نے بھی یہی راستہ اختیار کیا اور جزیرہ سوماترا میں واقع سری وجایا (Srivijaya) پہنچا، جو اس زمانے میں سنسکرت اور بدھ مت کی تعلیم کا ایک اہم مرکز تھا۔

ہےچو 724ء میں مشرقی ہندوستان پہنچا۔ اس کے سفرنامے میں ہندوستان کے جن مقامات کا ابتدائی ذکر ملتا ہے، ان میں بہار میں واقع ویشالی (Vaishali) بھی شامل ہے۔ہےچو نے لکھا:یہ سرزمین مکمل طور پر ہموار ہے۔ یہاں غلام نہیں ہیں۔ لوگوں کو فروخت کرنے کا جرم قتل کے جرم سے مختلف نہیں سمجھا جاتا۔ایک حقیقی بدھ زائر کی طرح وہ پیدل سفر کرتا ہوا بدھ مت سے وابستہ مقدس مقامات کی تلاش میں آگے بڑھتا رہا۔ کوشی نگر کے بارے میں اس نے لکھا:ایک ماہ کے سفر کے بعد میں کوشی نگر کی سرزمین میں پہنچا۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں بدھ نے نروان حاصل کیا تھا۔ شہر ویران ہے اور یہاں کوئی انسان آباد نہیں۔ اس مقام پر جہاں بدھ نے نروان حاصل کیا، ایک اسٹوپا تعمیر کیا گیا ہے۔ ایک دھیان استاد اس مقام کی دیکھ بھال اور صفائی کرتا ہے۔

کوریائی زائر نے یہاں ہر سال منعقد ہونے والی ایک تقریب کا بھی ذکر کیا، جو آٹھویں مہینے کی آٹھویں تاریخ کو ہوتی تھی۔ اس موقع پر راہب، عام لوگ اور مذہبی پیشوا اسٹوپا کے قریب جمع ہوتے اور وہاں جھنڈے اور بینر لہرائے جاتے تھے۔ ہےچو نے یہ بھی لکھا کہ اسٹوپا تک پہنچنے کے لیے زائرین کو جنگلات سے گزرنا پڑتا تھا اور زیارت کے لیے آنے والے لوگ اکثر گینڈوں اور شیروں کے حملوں سے زخمی ہو جاتے ہیں۔ہےچو نے وارانسی کو بھی ویران قرار دیا اور لکھا کہ اس کا کوئی بادشاہ نہیں تھا۔ اس نے ایسے سادھوؤں کو بھی دیکھا جو اپنے جسموں پر راکھ ملتے تھے اور مہادیو کی عبادت کرتے تھے۔ وارانسی سے زیادہ دور نہیں سارناتھ میں اسے اشوک کا ستون بہت متاثر کن لگا۔ اس نے لکھا:ستون کے اوپر شیر کا مجسمہ ہے۔ ستون انتہائی خوبصورت ہے۔ اس کا محیط پانچ آدمیوں کے باہم جوڑے ہوئے بازوؤں کے برابر ہے۔ اس پر کندہ کی گئی تحریر کی لکیریں نہایت نفیس ہیں۔ہےچو نے سارناتھ، راج گریہ، کوشی نگر اور بودھ گیا میں واقع بدھ مت کے چار بڑے مقدس اسٹوپوں کا دورہ کیا۔

اس نے لکھا:یہ تمام مقامات مگدھ کی سلطنت میں واقع ہیں۔

اس نے یہ بھی بتایا کہ اس خطے میں مہایان اور ہینایان، دونوں بدھ مت کے مکاتبِ فکر رائج تھے۔ جب وہ مہابودھی خانقاہ پہنچا تو اس نے لکھا کہ وہ بہت خوش ہوا کیونکہ اس کی “طویل عرصے سے دل میں موجود خواہش پوری ہو گئی تھی۔”

ہےچو نے لکھا کہ اس نے وارانسی کے ملک سے ایک ماہ تک پیدل سفر کیا، جس کے بعد وہ کنیَکُبجا (Kanyakhubja) یعنی موجودہ قنوج (Kannauj) پہنچا۔ مرکزی ہندوستان کی یہ سلطنت اسے سب سے زیادہ متاثر کرتی دکھائی دیتی ہے۔ اس نے لکھا کہ یہاں آبادی بہت زیادہ اور سلطنت کا علاقہ وسیع تھا۔ ہےچو نے جن ریاستوں کا سفر کیا، ان کی فوجی طاقت کے بارے میں بھی تفصیلی معلومات درج کیں۔

مرکزی ہندوستان کے بادشاہ کی فوج کے بارے میں اس نے لکھا:’’بادشاہ کے پاس 900 ہاتھی ہیں، جبکہ دوسرے بڑے سرداروں کے پاس 200 سے 300 ہاتھی تک ہیں۔‘‘

اس نے مزید لکھا کہ بادشاہ اکثر خود اپنی فوج کی قیادت کرتے ہوئے جنگ میں جاتا اور ہندوستان کے دیگر چار خطوں کے ساتھ بار بار لڑائیاں کرتا تھا۔ہےچو کے مطابق “مرکزی ہندوستان کا بادشاہ ہمیشہ فتح یاب ہوتا ہے۔اس نے اس دور میں ہندوستان میں جنگ اور تنازعات کے بارے میں طے شدہ اصولوں کا بھی ذکر کیا۔ اس کے مطابق اگر کسی بادشاہ کے پاس فوجی دستے اور ہاتھی کم ہوتے تو وہ میدانِ جنگ میں طاقتور دشمن کا مقابلہ کرنے کے بجائے امن کی درخواست کرنے اور سالانہ خراج ادا کرنے کو ترجیح دیتا تھا۔

ہےچو کے سفرنامے کا ایک بڑا حصہ ان علاقوں کے جغرافیہ، موسم، خوراک، رسم و رواج اور ثقافتی روایات پر مشتمل ہے جہاں وہ گیا۔ اس نے لکھا:’’ہندوستان کے پانچوں خطوں کا لباس، زبان، رسم و رواج اور قوانین ایک جیسے ہیں۔ صرف جنوبی ہندوستان کے دیہاتی لوگوں کی زبان مختلف ہے۔‘‘ہےچوو کے مشاہدے کے مطابق اس دور کا ہندوستان ایسا معاشرہ تھا جہاں تشدد معمول کی بات نہیں تھی۔

اس نے لکھا:’’ہندوستان کے پانچوں خطوں کے قومی قوانین میں گردن میں لکڑی کا طوق ڈالنے، مارنے پیٹنے یا قید کرنے کی سزائیں نہیں ہیں۔ جو لوگ جرم کرتے ہیں، انہیں جرم کی نوعیت اور شدت کے مطابق جرمانہ کیا جاتا ہے۔ سزائے موت نہیں دی جاتی۔‘‘

اس نے یہ بھی لکھا کہ شاہی خاندان اور عام لوگ دونوں کتوں یا بازوں کے ذریعے شکار کرنے میں زیادہ دلچسپی نہیں رکھتے تھے۔ تشدد کے موضوع پر ہےچو نے یہ بھی مشاہدہ کیا کہ ہندوستان میں ڈاکو جن لوگوں کو لوٹتے تھے، عموماً ان کی جان نہیں لیتے تھے۔ ہےچو نے ہندوستان کی ریاستوں کے ٹیکس نظام کا بھی ذکر کیا:’’ہر سال بادشاہ کو پیداوار میں سے ہر پانچ حصوں میں ایک حصہ اناج دینے کے علاوہ لوگوں پر کوئی اور جبری مشقت یا ٹیکس نہیں ہے۔‘‘اس نے لکھا کہ بادشاہوں کے پاس گھوڑے اور بھیڑیں تھیں، جبکہ عام لوگوں کے پاس صرف مویشی تھے، جنہیں وہ دودھ اور مکھن کے لیے پالتے تھے۔

ہےچو نے ہندوستان میں دولت کی غیر مساوی تقسیم کا بھی ذکر کیا:’’اس سرزمین کے زیادہ تر لوگ غریب ہیں، جبکہ امیر لوگ بہت کم ہیں۔‘‘اس نے لوگوں کے رہنے سہنے کے حالات کا بھی بغور مشاہدہ کیا۔ اس کے مطابق:’’خانقاہیں اور شاہی محلات تین منزلہ عمارتیں ہیں۔ نچلی منزلیں گوداموں کے طور پر استعمال ہوتی ہیں، جبکہ اوپری منزلوں میں رہائش ہوتی ہے۔ بڑے سرداروں کے گھر بھی ایسے ہی ہیں۔ یہ تمام گھر ہموار چھتوں والے ہیں اور اینٹوں اور لکڑی سے بنے ہیں۔ دوسرے گھر چٹائی یا بھوسے کی جھونپڑیوں کی مانند ہیں، جو چینی طرز کے ڈھلوان دار مکانوں سے مشابہ ہیں۔ وہ بھی صرف ایک منزلہ ہوتے ہیں۔‘‘

اس نے لباس کے حوالے سے بھی طبقاتی فرق بیان کیا۔ اس کے مطابق شاہی خاندان اور امیر لوگ سوتی کپڑے کے دو ٹکڑے پہنتے تھے، عام لوگ ایک ٹکڑا، جبکہ غریب افراد کے پاس آدھا کپڑا ہوتا تھا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ہےچو نے لکھا کہ اس زمانے میں ہندوستان سونا اور چاندی درآمد کرتا تھا۔ اگرچہ اس نے عام لوگوں کی غربت کا ذکر کیا، لیکن اس کے سفرنامے میں بھوک یا قحط کا کوئی ذکر نہیں ملتا۔ اس نے لکھا کہ لوگ مٹی کے برتنوں میں کھانا پکاتے تھے اور لوہے کی بڑی دیگیں استعمال نہیں کرتے تھے۔ اس کے مطابق خوراک میں چاول، بھنے ہوئے گندم کے آٹے کی اشیا، مکھن، دودھ، دہی شامل تھے۔اس نے لکھا’’سویا دستیاب نہیں، لیکن نمک موجود ہے۔‘‘

مرکزی ہندوستان سے ہےچو نے تین ماہ تک پیدل سفر کیا، یہاں تک کہ وہ اس مقام پر پہنچا جسے اس نے جنوبی ہندوستان کا دارالحکومت قرار دیا اس نے بتایا کہ یہاں مرکزی ہندوستان کی نسبت زیادہ گرمی تھی اور یہاں اونٹ، خچر اور گدھے موجود نہیں تھے۔ مورخین اس بات پر متفق نہیں کہ ہےچو جس شہر کا ذکر کر رہا تھا وہ موجودہ کرناٹک میں واقع واتاپی (بادامی) تھا یا موجودہ آندھرا پردیش میں مشرقی چالکیہ خاندان کا دارالحکومت وِنگی (Vengi) ہے ہیچو نے اس علاقے میں بدھ مت کے بارے میں تفصیل سے لکھا۔ اس کے مطابق:’’پہاڑوں میں ایک بہت بڑی خانقاہ ہے، جسے بودھی ستوا ناگارجن کے حکم پر یَکشوں نے تعمیر کیا تھا، انسانوں نے نہیں۔ اس کے ستون پہاڑوں کی چٹانوں سے تراشے گئے ہیں اور یہ عمارت تین منزلہ ہے۔‘‘

اس نے مزید لکھا کہ جب بدھ مت کے عظیم فلسفی ناگارجن زندہ تھے تو اس خانقاہ میں تقریباً 3,000 راہب رہتے تھے، لیکن ناگارجن کی وفات کے چند سو سال بعد یہ خانقاہ زوال پذیر ہونے لگی۔ اگرچہ ہےچو کی تحریروں میں خوشی اور حیرت کا احساس نمایاں ہے، لیکن اس کے باوجود یہ واضح ہے کہ اسے اپنے وطن کوریا کی یاد آتی تھی۔ جنوبی ہندوستان جاتے ہوئے اس نے ایک نظم بھی لکھی، جس میں اپنے وطن سے جدائی کا دکھ بیان کیا:’’چاندنی رات میں میں نے وطن کی طرف جانے والے راستے کو دیکھا،

تیرتے ہوئے بادل ہوا کے ساتھ واپس لوٹ جاتے ہیں۔

کاش یہ خط بھی اس موقع کے ساتھ روانہ ہو جائے،

مگر ہوا بہت تیز چلتی ہے؛ بادل نہ میری بات سنتے ہیں نہ واپس آتے ہیں۔

میرا وطن شمالی افق پر ہے،

جبکہ دوسرے ممالک مغربی سرحد پر واقع ہیں۔

گرم جنوبی سرزمین میں کوئی جنگلی ہنس نہیں،

میرا پیغام وطن تک کون پہنچائے گا؟‘‘

ہےچو نے جنوبی ہندوستان سے مزید دو ماہ پیدل سفر کیا اور ایک ایسے علاقے میں پہنچا جسے بیشتر مورخین موجودہ ناسک (Nashik) قرار دیتے ہیں۔ اس نے لکھا:’’اس سرزمین کی پیداوار میں سوتی کپڑا، چاندی، ہاتھی، گھوڑے، بھیڑیں اور گائیں شامل ہیں۔ جو، گندم اور مختلف اقسام کی پھلیاں بڑی مقدار میں پیدا ہوتی ہیں، جبکہ چاول اور مکئی کی پیداوار بہت کم ہے۔ خوراک میں زیادہ تر روٹی، گندم سے تیار کی جانے والی اشیا، دہی، مکھن اور گھی شامل ہیں۔‘‘

ہےچو نے مغربی ہندوستان کے لوگوں کی موسیقی کی صلاحیتوں کی بہت تعریف کی۔ اس نے لکھا:’’اس ملک کے لوگ گانے میں بہت ماہر ہیں۔ ہندوستان کے دیگر چار خطوں کے لوگ اس معاملے میں اس ملک کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔‘‘

اس کے بعد اس نے جدید مہاراشٹر سے شمال کی جانب سفر جاری رکھا اور گجرات سے ہوتا ہوا سندھ پہنچا، جسے اس نے سندھوکولا (Sindhukula) کا نام دیا۔ اس نے مشاہدہ کیا:

’’اس ملک میں بہت سے اونٹ ہیں، جن سے لوگ دودھ اور مکھن حاصل کرتے ہیں اور انہیں بطور خوراک استعمال کرتے ہیں۔‘‘ہےچو نے مزید لکھا کہ سندھوکولا کے تقریباً نصف علاقے پر عربوں کا قبضہ ہو چکا تھا۔شمال کی جانب تین ماہ سے زیادہ سفر کرنے کے بعد ہےچو پیدل جالندھر پہنچا اور وہاں سے کشمیر کی طرف گیا۔ کشمیر کے موسم کے بارے میں اس نے لکھا:’’یہ سرزمین انتہائی سرد ہے اور پہلے بیان کیے گئے ممالک سے مختلف ہے۔ خزاں میں پالا پڑتا ہے اور سردیوں میں برف باری ہوتی ہے۔ موسمِ گرما میں بہت زیادہ بارش ہوتی ہے۔ پودے ہمیشہ سبز رہتے ہیں اور ان کے پتے گھنے ہوتے ہیں۔ سردیوں میں گھاس سوکھ جاتی ہے۔اس نے لکھا کہ کشمیر کو ’’شمالی ہندوستان کا حصہ‘‘ شمار کیا جاتا تھا اور اس کے مطابق اس خطے پر کسی غیر ملکی ملک نے حملہ نہیں کیا تھا۔ کشمیر کی سڑکوں کے بارے میں اس نے کہا:’’راستے خطرناک اور خراب ہیں۔‘‘

ہندوستان کے دوسرے علاقوں کی طرح یہاں بھی غریب لوگ بہت زیادہ اور امیر لوگ کم تھے۔اس نے لکھا:’’عام لوگ اپنے بدصورت جسموں کو اونی کمبلوں سے ڈھانپتے ہیں۔‘‘

ہےچو نے تبت سے متصل علاقوں کا بھی سفر کیا اور مشاہدہ کیا کہ وہاں کے لوگ بدھ مت کی پیروی نہیں کرتے تھے۔ کشمیر سے وہ افغانستان، فارس اور عرب علاقوں کی طرف گیا۔ بعد میں وہ دوبارہ فارس پہنچا اور وہاں سے عربستان سے ایک شاہراہِ ریشم کے قافلے میں شامل ہو گیا۔ یہ قافلہ افغانستان اور وسطی ایشیا سے گزرتا ہوا کاشغر کے راستے دون ہوانگ پہنچا۔

اس کا مجموعی سفر تقریباً 20,000 کلومیٹر پر مشتمل تھا اور اسے مکمل کرنے میں تقریباً چار سال لگے۔ہےچو ہندوستان کے ایک معروف باطنی بدھ راہب واجِر بودھی (Vajirabodhi) کا شاگرد بھی تھا۔ بعد میں اس نے چین میں کئی دہائیوں تک راہبوں اور طلبہ کو تعلیم دی اور 84 سال کی عمر تک زندہ رہا۔

1908ء میں پیرس کی لائبریری تک پہنچنے والا ہےچو كا یہ مخطوطہ مکمل حالت میں نہیں تھا۔ اس کے ابتدائی اور اختتامی حصے ضائع ہو چکے تھے بعد میں اس کا مختلف زبانوں میں ترجمہ کیا گیا۔ ہےچو کی ہندوستان کے بارے میں تحریریں اگرچہ مختصر ہیں، لیکن وہ قاری کو آٹھویں صدی کے برصغیر میں زندگی کے حالات کی ایک وسیع تصویر فراہم کرتی ہیں۔ اس کے مشاہدات ہندوستان کی تاریخ کے ایک ایسے دور پر روشنی ڈالتے ہیں جو نسبتاً کم معروف، لیکن تاریخی اعتبار سے انتہائی اہم ہے۔