دعوت كا طريقہ

مصنف : نبيل اشفاق

سلسلہ : اصلاح و دعوت

شمارہ : اكتوبر 2026

اصلاح و دعوت

دعوت كا طريقہ

نيبل اشفاق

کچھ عرصہ قبل مجھے ایک کمرشل پراپرٹی کی فنانسنگ کے سلسلے میں ایک فنانشل ایڈوائزر سے ملنے کا اتفاق ہوا. وہ صاحب کافی مصروف شخص تھے لہذا ان سے صرف آدھ گھنٹے کی میٹنگ کا وقت طے ہوا. وہ ٹھیک اپنے وقت پر میرے لندن آفس میں تشریف لائے اور مجھے مختلف فنانسنگ پراڈکٹس کے بارے میں تفصیل فراہم کرتے رہے. دورانِ گفتگو میں نے ان سے جاننا چاہا کہ کیا وہ اسلامک فنڈنگ میں بھی ڈیل کرتے ہیں، میرے سوال پوچھنے پر وہ کچھ دیر کے لیے چونکے اور چند لمحوں کے توقف کے بعد بولے کہ جی ہاں میں اسلامک فنڈنگ حاصل کرنے میں بھی آپکی مدد کر سکتا ہوں. انہوں نے مزید فرمایا کہ وہ ایک ایکس مسلم ہیں یعنی میری زبان میں ایک مرتد، انہیں معلوم تھا کہ میں مسلمان ہوں لہذا اپنے آپ کو مرتد بتانے کے بعد انہوں نے اپنی نشست سے اٹھتے ہوئے فرمایا کہ اب آپ تو میرے ساتھ ڈیل نہیں کریں گے لہذا مجھے اجازت دیں- انہوں نے مزید فرمایا کہ یہ لندن ہے لہذا آپ میرا یہاں کچھ بگاڑ بھی نہیں سکتے. میں نے ان کی بات سننے کے بعد ان سے بیٹھنے کے لئے کہا اور ساتھ ہی سوال کر ڈالا کہ وہ آخر کیوں میرے بارے میں یہ رائے رکھتے ہیں کہ میں ان کے ماضی کو جاننے کے بعد ان سے ڈیل نہیں کروں گا- انہوں نے جواب دیا کہ جب سے انہوں نے اسلام کو خیر آباد کہا ہے تب سے ان کے والدین اور رشتہ داروں نے ان سے قطع تعلق کر لیا ہے، مزید یہ کہ وہ جانتے تھے کہ پاکستان کے لوگ مرتد کے بارے میں کیا رائے رکھتے ہیں لہذا اسی لئے انہوں نے وہاں سے اٹھنے کو ترجیح دی. میں نے ان کو تسلی دی کہ میرا ایسا کوئی ارادہ نہیں اور میں ضرور ان سے بزنس ڈیل کروں گا. میں نے اسی اثنا میں ان سے سوال کر ڈالا کہ اگر وہ مناسب سمجھیں تو کیا وہ مجھے اپنے اسلام چھوڑنے کی وجہ بتانا پسند کریں گے؟. انہوں نے جواب دیا کہ میں نے اسلام کو سچے خدا کے لئے چھوڑا ہے. میں نے پوچھا کہ ان کو سچا خدا کہاں ملا؟ . انہوں نے فرمایا کہ انہیں سچا خدا کرسچینیٹی میں ملا اور وہ حضرت عیسٰی اور بائبل پر ایمان لے آئے ہیں. انہوں نے مزید کہا کہ انہوں نے کبھی شراب کو ہاتھ نہیں لگایا، کبھی کسی کو دھوکہ نہیں دیا اور وہ اپنی زندگی اپنے خدا کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق جیتے ہیں. لیکن اس کے باوجود ان کے رشتہ دار ان کو جہنمی کہتے ہیں. میں نے ان سے کہا کہ اگر ان کے دین اسلام چھوڑنے کی وجہ واقعی سچے خدا کی تلاش ہے اور وہ خدا کے بتائے طریقے پر زندگی گزار رہے ہیں اور جانتے بوجھتے حق کا انکار نہیں کر رہے تو میری طالبانہ رائے میں وہ جنت کے حقدار قرار پائیں گے. میرا جواب سن کر وہ بہت ہی حیران ہوئے اور کہنے لگے کہ کیا آپ واقعی مسلمان ہیں؟. میں نے ان کو اپنے مسلمان ہونے کی تسلی دلوائی اور انہیں بتلایا کہ میری ان کے بارے میں رائے دین کی روشنی کے عین مطابق ہے، میرا جواب ان کے تجسس میں مزید اضافے کا باعث بنا. انہوں نے مزید سوال کیا کہ آپ کی میرے بارے میں اتنا اچھا گمان رکھنے کی آخر وجہ کیا ہے جبکہ میرے اپنے خاندانوں والوں نے تو مجھے دھتکار دیا ہے. میں نے انہیں بتایا کہ میری رائے میں وہ ایک پیدائشی ایرانی مسلمان ہیں اور دین اسلام کو انہوں نے کبھی جانا ہی نہیں، اگر جانتے تو یقیناً انہیں اندازہ ہوتا کہ جس حق کو وہ اب دل و جان سے قبول کر بیٹھے ہیں قرآن مجید اسی دین کی آخری کتاب ہے. ہماری گفتگو خوشگوار ماحول میں مزید چند گھنٹوں کے لئے جاری رہی اور ہم علمی تبادلہ خیال کرتے رہے. وہ جانے سے پہلے اٹھے اور مجھے گلے لگانے کی خواہش ظاہر کی، میں نے ان کی خواہش کا احترام کرتے ہیں انہیں زور سے گلے لگایا اسی دوران ان کی آنکھیں کچھ نم ہو گئیں. وہ آج بھی میرے ساتھ رابطے میں ہیں، ہم کبھی کبھار مذہب کو بھی موضوع گفتگو بنا لیتے ہیں اور مجھے جب بھی موقع ملتا ہے میں انہیں دین اسلام کے بارے میں کچھ نہ کچھ آگاہی دیتا رہتا ہوں. مجھے ان کے بارے میں اچھا گمان ہے کہ جس لمحے وہ دل کی اتھاہ گہرائیوں سے جان پائے کہ دین اسلام حق ہے تو وہ ضرور اس حق کے سامنے سر تسلیم خم کریں گے جیسا کہ انہوں نے سچے خدا کی تلاش میں کرسچینیٹی کو اپنایا. باقی میں نے کبھی ان پر دین اسلام قبول کرنے کے لئے زور زبردستی نہیں کی اور زور زبردستی بھی کاہے کی؟ میری رائے میں تو وہ پہلے سے ہی مسلمان ہے بھلے اپنے آپ کو دنیاوی لحاظ سے کرسچن سمجھتا رہے-