اصلاح  ودعوت

زندگی كے امتحان ميں كاميابی كے ليے بچوں كو "نہيں " سننا سكھائيں

جويريہ ساجد

یہ کہانی ایک ساتھی نے سنائی۔ اسے پڑھ کر اس کے اختتام پر ضرور غور کیجیے۔

’’جب میری بیٹی یورپ کے سفر سے واپس آئی تو اس نے مجھے ایک ایسا واقعہ سنایا جس نے مجھے دیر تک سوچنے پر مجبور کیے رکھا۔ مجھے احساس ہوا کہ یہ محض ایک کہانی نہیں، بلکہ ہم سب کے لیے ایک آئینہ ہے۔وہ ایمسٹرڈیم میں کوسٹکو (Costco) کے ایک اسٹور پر گئی تھی۔ باہر ہلکی سردی تھی اور لوگ جلدی جلدی اندر آ جا رہے تھے۔اسٹور کے داخلی دروازے کے قریب ایک چھوٹا سا بچہ کھڑا تھا۔ اس کی عمر بمشکل پانچ سال ہوگی۔ اس کے ہاتھ میں چپس کے چند پیکٹ تھے اور گلے میں ایک چھوٹا سا بورڈ لٹک رہا تھا، جس پر بچوں جیسی ٹیڑھی میڑھی لکھائی میں درج تھا:’اسکاؤٹ چیریٹی کے لیے صرف 20 ڈالر میں ایک پیکٹ خریدیں۔‘لوگ اس کے پاس سے گزر رہے تھے۔ کچھ جلدی میں تھے، کچھ اپنے موبائل فون میں مصروف تھے اور کچھ اسے دیکھ کر بھی نظر انداز کر رہے تھے۔

لیکن وہ ننھا سا بچہ ہمت ہارنے کو تیار نہیں تھا۔وہ اپنے چھوٹے چھوٹے قدموں سے ہر شخص کے پاس جاتا، اس کی طرف دیکھتا اور معصومیت سے پوچھتا:’’کیا آپ ایک پیکٹ خریدنا پسند کریں گے؟‘‘کچھ لوگ پیکٹ خرید لیتے، جبکہ کچھ مسکرا کر کہتے:’’نہیں بیٹا، شکریہ!‘‘میں نے سوچا کہ بچہ ابھی اتنا چھوٹا ہے۔ بار بار ’نہیں‘ سن کر یقیناً رونے لگے گا، اداس ہو جائے گا یا اپنے استاد کے پیچھے جا کر چھپ جائے گا۔لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا!

ہر بار ’نہیں‘ سننے کے بعد وہ مسکراتا، نرمی سے سر ہلاتا اور اگلے شخص کی طرف بڑھ جاتا۔ اس کے چہرے پر نہ شرمندگی تھی، نہ خوف اور نہ ہی مایوسی۔ اس کے اندر ایک عجیب سا اعتماد تھا۔میری بیٹی خود کو روک نہ سکی۔ اس نے بھی ایک پیکٹ خرید لیا۔ بچے کی آنکھیں خوشی سے چمک اٹھیں۔ وہ خوشی سے اچھل پڑا اور بولا:’’آپ کا بہت بہت شکریہ!‘‘

پھر میری بیٹی نے پیار سے پوچھا:’’بیٹا! ابھی تمہیں کتنے پیکٹ فروخت کرنے ہیں؟ اور تم کب تک یہاں کھڑے رہو گے؟‘‘بچے کا جواب میری بیٹی کے دل پر گہرا اثر چھوڑ گیا۔

اس نے کہا:’’جب تک سو لوگ مجھے ’نہیں‘ نہیں کہہ دیتے!‘‘میری بیٹی حیران رہ گئی۔ اس نے قریب کھڑے استاد کی طرف دیکھا۔ استاد مسکرایا اور کہنے لگا:’’ہمارا مقصد پیکٹ فروخت کرنا نہیں ہے۔ ہمارا مقصد اس بچے کو اتنی چھوٹی عمر میں یہ سکھانا ہے کہ ’نہیں‘ سننے کو کیسے برداشت کیا جاتا ہے۔ انکار کو کیسے قبول کیا جاتا ہے اور اس کے باوجود اگلے شخص سے پوچھنے کی ہمت کیسے برقرار رکھی جاتی ہے۔‘‘یہ سن کر میری بیٹی خاموش ہو گئی۔اور میں بھی!

 ہم اپنے بچوں کو کیا سکھاتے ہیں؟

ہم انہیں سکھاتے ہیں کہ خوب محنت سے پڑھو، کلاس میں پہلی پوزیشن حاصل کرو، مقابلہ جیتو، ملازمت حاصل کرو اور سب سے آگے رہو۔ہم انہیں جیتنا تو سکھاتے ہیں، مگر ہارنا نہیں سکھاتے۔ہم انہیں کامیابی کا راستہ تو دکھاتے ہیں، لیکن ناکامی سے گزرنے کا حوصلہ نہیں دیتے۔حالاں کہ زندگی میں انہیں سب سے زیادہ اسی حوصلے کی ضرورت ہوتی ہے۔

کیونکہ زندگی ہمیشہ ’ہاں‘ نہیں کہتی۔کبھی امتحان میں ناکامی ہوگی، کبھی انٹرویو میں منتخب نہیں ہو سکیں گے، کبھی کاروبار میں نقصان ہوگا، کبھی رشتے ختم ہو جائیں گے اور کبھی خوابوں کو حقیقت بننے میں توقع سے زیادہ وقت لگے گا۔ان مواقع پر ملنے والا ’نہیں‘ ہمیں توڑ بھی سکتا ہے اور مضبوط بھی بنا سکتا ہے۔فرق صرف اس بات کا ہے کہ ہم نے ’نہیں‘ کو قبول کرنا سیکھا ہے یا اسے اپنا دشمن سمجھ لیا ہے۔وہ پانچ سالہ بچہ کوسٹکو کے باہر چپس نہیں بیچ رہا تھا۔وہ حوصلہ بیچ رہا تھا۔وہ لوگوں کے انکار جمع کر رہا تھا۔وہ رد کیے جانے کو قبول کرنا سیکھ رہا تھا۔وہ زندگی کے سب سے بڑے امتحان کی تیاری کر رہا تھا؛ یعنی گرنے کے بعد دوبارہ اٹھ کھڑے ہونے کا امتحان!ذرا سوچیے، اگر ہمارا بچہ دسویں جماعت میں ناکام ہو جائے تو ہم کیا کرتے ہیں؟ اسے ڈانٹتے ہیں، طعنے دیتے ہیں اور شرمندگی محسوس کرتے ہیں۔اگر وہ کسی انٹرویو میں مسترد ہو جائے تو ہم کہہ دیتے ہیں:’’تم سے یہ کام کبھی نہیں ہو سکے گا!‘‘ہمیں احساس تک نہیں ہوتا کہ اس طرح ہم اپنے بچے کو یہ سکھا رہے ہوتے ہیں کہ ’نہیں‘ کا مطلب ہے:’’تم کسی کام کے لائق نہیں ہو!‘‘جبکہ اس استاد نے بچے کو یہ سکھایا کہ ’نہیں‘ کا مطلب ہے:’’ابھی نہیں، دوبارہ کوشش کرو!‘‘دوستو!کامیابی ہمیں خوشی دیتی ہے، لیکن انکار کو برداشت کرنا ہمیں زندگی جینے کا حوصلہ دیتا ہے۔آج سے اپنے بچوں سے صرف یہ نہ پوچھیں:’’تم جیتے یا ہارے؟ تمہارے کتنے نمبر آئے؟‘‘

کبھی ان سے یہ بھی پوچھیں:’’آج تمہیں کتنی بار ’نہیں‘ سننے کو ملا؟ کیا اس کے باوجود تم نے کوشش جاری رکھی؟ مجھے تم پر فخر ہے!‘‘ایسے بچے نہ پالیں جو صرف جیتنے پر خوش رہتے ہوں۔ایسے بچے تیار کریں جو ہارنے سے خوف زدہ نہ ہوں۔

کیونکہ جیتنے والے کو تالیاں ملتی ہیں، لیکن ہارنے کے بعد دوبارہ اٹھ کھڑے ہونے والا انسان زندگی جینا سیکھتا ہے۔سلام ہے اس ننھے بچے کو، جس نے ہمیں سو مرتبہ ’نہیں‘ سن کر زندگی کا سب سے بڑا ’ہاں‘ کہنا سکھا دیا!کبھی کبھی سو مرتبہ ’نہیں‘ سننا، ایک مرتبہ ’ہاں‘ سننے سے زیادہ سکھا دیتا ہے-