اصلاح و دعوت
كانوں كا كچا ہونا
مبشر سليم
یہ اخلاقی بیماری ہمارے ہاں بہت عام ہے۔ اور ہم اس عادت سے اپنی زندگیوں کو بے سکون رکھتے ہیں۔ لیکن بیشتر لوگوں کو تو شائد اس کا ادراک ہی نہیں ہوتا۔۔۔ ایک بات کو اپنی عادت یا تربیت کا حصہ بنا لیں کہ جب تک فریقین کی بات سن نہ لیں کبھی ایک فریق کی بات سن کر نتیجہ مت نکالیں۔ اگر کوئی آپکے پاس کسی کی منفی بات پہنچائے خواہ وہ کتنا ہی قابل اعتبار ہو جب تک اس بارے تحقیق نہ کرلیں اپنی حتمی رائے قائم نہ کریں۔۔۔۔
چلیں کچھ مثالیں دیتا ہوں۔۔
آپ نے ایک كار خریدی ہے اور دوسرا شخص قیمت سن کر فوراً کہہ دیتا ہے،میرے کزن نے تو اتنے میں خریدی ہے۔ ایک بار کنفرم کرلیں کیا کزن والی اور آپکی موٹر ایک ہی ہے؟ ایک چیز کی بے شمار ورائیٹی ہو سکتی ہے اور یقینا ًقیمت بھی الگ ہوگی۔۔
مستری سے کام کروایا اور دوسرا بندہ آکر اس كے بارے ميں بتائے کہ اس نے کام غلط طریقے سے کیا ہے تو پہلے مستری سے اسکی وجہ ضرور پوچھ لیں۔ ایک مسئلے کو حل کرنے کے ایک سے زائد طریقے ہوسکتے ہیں۔
بیوی آپکے والدین کے بارے ميں یا آپکے والدین آپکی بیوی بارے کوئی بات کریں تو ایک فریق کو سن کر اپنی رائے نہ بنائیں۔ اکثر انہوں نے جو بات کی ہوتی ہے اس کے محرکات مختلف ہو سکتے ہیں۔یا اسکا سیاق و سباق مختلف ہو سکتا ہے۔۔
ہمارا ایک شخص کے ساتھ ساری عمر کا تعلق ہوتا ہے اور ایک تیسرا بند ہ آکر اس کے بارے منفی بات بتاتا ہے اور ہم یکطرفہ رائے پر اس تعلق کو ہمیشہ کیلئے کمزور کر دیتے ہیں۔۔ سو جو عمر اور تجربے میں بال سفید کئے ہیں ان کی روشنی میں ایک مشورہ دوں گا۔ اپنے کانوں کو پکا رکھا کریں۔ رائے بنانے اور نتیجہ اخذ کرنے میں کبھی جلدی نہ کریں۔ معاملہ گھر کا ہو یا معاشرے کا۔ کرنٹ افیئر ہو یا پھر اشوز کا۔۔۔
بشکریہ : https://www.facebook.com/man103/posts/pfbid0KQixunEy5XBEycfSuV2mKuiHPAsiULpWs8eEk3BrHBBjhUX7GMwYZ8SRe1yrDgyhl
