سچی كہانی
پرديس كے دكھ
منصور نديم
خلیجی ممالک میں مزدور طبقات کے کئی دکھ بھرے واقعات تو سنتے ہی رہتے ہیں مگر یہاں پیسہ کمانے کے لئے آنے والی خواتین کی زندگی بھی کثرت سے بہت تکلیف دہ دیکھی ہے، خصوصا ایسی نوکریاں کرنے والی خواتین کی کہانیاں جو عموما نرس یا کسی طور پر بیوٹی سیلون یا خدامہ "گھریلو ملازماؤں" کی نوکریاں کرتی ہیں۔ ان کے حالات زندگی اکثر کتنے تکلیف دہ ہوتے ہیں، ان کی اپنی زندگی بھی ان کی اپنی نہیں رہتی ۔ یہ سب واقعات میرے آنکھوں دیکھے ہیں۔ میں چند واقعات آپ کے ساتھ شئیر کرتا ہوں اس میں نام فرضی ہیں۔
سونم کی عمر چالیس برس کے قریب ہوگی، یہ ایک چھوٹے کلینک میں بطور نرس قریب پندرہ برس سے نوکری کررہی ہے، ہمارا اس سے واسطہ الٹرا ساؤنڈ "ریڈیالوجی ڈیپارٹمنٹ" میں جانے کی وجہ سے ہوا، بیٹی کی پیدائش کے دنوں میں یہ میری اہلیہ سے اکثر بات چیت کرنے لگی، یہ ایک عام سی شکل و صورت کی خاتون ہیں، جس نے ابتدائی برس صرف اپنے گھر والوں کو پیسے بھیجے، یہ بس ہر ماہ پیسے ہی بھیجتی رہی، 35 برس سے زیادہ عمر ہونے کے بعد اس نے خود ہی اپنی شادی کا خرچہ اٹھایا اور ایک ایسے شخص سے شادی کی اس کے لیے ویزا ارینج کر کے اسے سعودی عرب بلانے کی کوشش کی ، خود تو یہ دمام شہر میں ہیسپتال کی طرف سے دی گئی رہائش میں رہتی ہے۔ اس نے اپنے شوہر کو جو ویزا دلوایا وہ ریاض شہر کے پاس کسی فارم ہاؤس کا تھا جس میں وہ شخص بطور اونٹوں کی نگہبانی کے لیے لایا گیا، سونم نے تو یہ سوچا تھا کہ اسے سعودی عرب بلا رہی ہے، لیکن سعودی عرب بلانے کے باوجود بھی اس کا شوہر اس کے قریب نہیں تھا، حتی کہ وہ جس نوکری پر تھا اس میں اسے عید کے دن بھی چھٹی نہیں ملتی تھی، یعنی دونوں سعودی عرب میں رہنے کے باوجود ایک دوسرے سے نہیں مل سکتے تھے۔ 35 برس کے بعد جو انسان شادی کرے اور اپنی شادی کا خرچہ بھی خود مینج کر رہی ہے پھر اپنے شوہر کو بھی یہاں پر بلا رہی ہے اس کے باوجود بھی اس سے نہیں مل سکتی۔ اتفاق سے ہماری اس سے کچھ سال ملاقات نہ ہو سکی، ابھی چند دن پہلے ہم اس کلینک میں گئے تو وہ میری اہلیہ سے بہت گرمجوشی سے ملی، اس خاتون کے انگریزی بھی بہت اچھی ہے، مگر قسمت اچھی نہیں ہے، اس دفعہ اس نے یہ بتایا چونکہ ہم میاں بیوی باوجود سعودی عرب میں رہنے کے مل بھی نہیں سکتے تھے، اور میرے شوہر کی نوکری بھی عجیب تھی، تو میں نے اسے واپس بھیجوا کر پھر اس کے لئے عمان کا ویزہ ارینج کیا، اب ہم دونوں دو سال کے بعد دو دو ماہ کے لیے انڈیا جاتے ہیں اور ہم انڈیا میں ہی ملتے ہیں۔
رقیہ یہ ایک پاکستانی خاتون ہے، جو شائد بیس برس سے بھی زائد الخبر شہر کے ایک بڑے ہسپتال کی نرس ہے، جس نے سعودی عرب میں 20 برس گزار دیئے، بھائیوں کی پڑھائی، بڑے بھائیوں کی بیٹیوں کی تعلیم، بہنوں کی شادی سب کروائی، مگر خود شادی نہ کرسکی، شائد 2014 میں اس کی اپنی شادی اسی صورت ہوسکی، کہ اس نے اپنے آبائی علاقے لاڑکانہ یا سکھر وغیرہ میں کسی خاندان کے شخص سے صرف اسی صورت شادی کی کہ اس کے لئے ویزہ ارینج کیا اور اسے سعودی عرب بلوایا، کیونکہ اس کا شوہر نہ کوئی خاص پڑھا لکھا تھا اور نہ ہی کوئی ہنر جانتا تھا، وہ آ تو گیا مگر اسی ہر انحصار کرتا رہا، وہ مزدوروں والی نوکری کرنے کے لئے بھی تیار نہیں تھا۔ ساری زندگی اپنے خاندان کے لوگوں کو پالنے کے بعد ایک ایسے شخص کا انتخاب کرنا پڑا، جسے معاشی طور پر بھی خود پالنا پڑے۔ جس کی شادی اک عمر گزارنے کے بعد ہو، اور وہ بھی اپنے شوہر کو پالنے کے لئے، اپنی ساری زندگی تو وہ صرف مشین بن کر اپنے خاندان کے لئے کماتی رہی، اور جانے کب تک مزید یونہی کماتی ہی رہے گی۔
شکیلہ یہ ایک سری لنکن پچاس برس سے زائد عمر کی خاتون ہیں، لمبی چوڑی ، جو اپنی عمر کے بیسویں سال سے خلیجی ممالک میں موجود ہے، پہلے عرب امارات میں بھی رہی، آج کل سعودی عرب میں ہے، بوڑھی ہورہی ہیں، کہیں ان کے بچے انہیں بوڑھا نہیں سمجھتے، انہوں نے ساری زندگی گھریلو ملازمہ کے طور پر کام کیا ہے بہت پروفیشنل انداز ہے ہمارے گھر میں چند ماہ بطور خدامہ کام کرتی رہی ہیں، کام کو بہت ذمہ داری سے کرتی تھیں، ان کا سب سے بڑا غم یہ تھا کہ ان کے دو بیٹے اور ایک بیٹی تھے۔ سب شادی شدہ ہونے کے باوجود ان سے پیسے منگواتے تھے۔ کیونکہ بیٹے باقاعدہ کوئی کام نہیں کرتے تھے، یہ ساری زندگی پردیس میں ہی رہیں، شادی کے بعد سے سال یا دو سال بعد سری لنکا جا کر اپنے شوہر کے ساتھ گزار کر پھر واپس آجاتیں، اب بوڑھی ہوچکی ہیں، مگر کام کررہی ہیں، دل کے عارضے اور شوگر کے مریض میں بھی مبتلا ہیں مگر اس عمر میں بھی کام کررہی ہیں۔ اور شائد زندگی بھر ایسے ہی کام کرتی رہیں گی ۔ ان کی زندگی کا بس ایک ہی مقصد ہے کہ پیسے کما کما کر پانے ملک میں بچوں کو بھیجتی رہیں۔ جو شادی شدہ ہیں۔
زینب سے اہلیہ کہ ملاقات ہمارے گھر کے قریب ایک سعودی خاتون کے سیلون پر ہوئی، یہ پاکستان کے صوبے خیبر پختونخواہ کے کسی قبائل سے تعلق رکھتی ہیں۔ انہوں نے بہت ہی دکھ بھری زندگی گزاری، شوہر کے انتقال کے بعد اسلام آباد آ گئیں تھیں، بیٹا پشاور میں یونیورسٹی میں پڑھ رہا تھا۔ سنہء 2010 کے آس پاس خیبر پختونخواہ میں دہشتگردی کے بم دھماکے میں ان کے جواں سال بیٹے کا انتقال ہوگیا۔ بیوہ پہلے سے ہی تھیں، اس عمر میں جواں سال بیٹے کے غم نے انہیں توڑ کر رکھ دیا۔ راولپنڈی میں بیوٹی سیلون چلارہی تھیں، گاؤں کا مکان بیچ کر اور سیلون سے انہوں نے کچھ رقم پس انداز کی تھی، تب انہوں نے اسلام آباد میں مضاربہ "معروف اسکینڈل" میں جب وہ اپنے عروج پر تھا، وہ رقم انویسٹمنٹ میں لگائی، دو تین ماہ کچھ اچھا منافع ملا تو انہوں نے اپنے کچھ رشتے داروں کو بھی اس منافع کے بارے میں بتایا، تو ان کے کہنے پر بہت سارے لوگوں نے لاکھوں روپیہ اسلامی پرافٹ اسکیم مضارںہ میں لگا دیا، کچھ عرصے بعد وہ سب پیسے ڈوب گئے جن رشتہ داروں نے ان کے کہنے پر پیسے لگائے تھے ان سب کے کچھ نہ کچھ پیسے انہوں نے اپنا سیلون بیچ کر ان کی رقم ادا کی، ان کے بھائی بھی بہت غیرت مند تھے انہیں ان خاتون کا سیلون چلانا بھی پسند نہیں تھا، مگر ان کے اخراجات بھی اٹھانے کے لیے تیار نہیں تھے، انہوں نے سعودی عرب میں بیوٹیشن کے ویزے پر آنے کا فیصلہ کیا اور اتفاق سے ہمارے گھر کے پاس ہی جس سیلون میں آئیں۔ وہاں میری اہلیہ سے ان کی ملاقات ہوئی پاکستانی ہونے کی وجہ سے ان سے بات چیت ہوگئی، مزید دکھ بات یہ ہوئی کہ سیلون کی مالکن انہیں تنخواہ نہیں دے رہی تھی، ماسوائے کچھ اخراجات بنیادی ضروریات کے لئے دے دیتی تھی۔ میری اہلیہ نے اس کا ایک حل یہ نکالا کہ انہوں نے تھوڑے سا ریلیف دینے اور پیسے دینے کے لئے بیوٹی سیلون سے ہوم وزٹنگ پر بلا لیتی ہیں ہوم وزٹنگ پر تھوڑے زیادہ چارج دے کر چند گھنٹے کے لیے گھر میں روک لیتی کچھ ان کے ساتھ گپ شپ اور کھانے کے لئے اور انہیں کچھ رقم دے دیتی ۔ یہ خاتون وہاں تقریبا ایک سال تک بغیر تنخواہ رہیں، پھر ہمارا ان سے رابطہ نہیں ہوا، پھر اتفاق سے سنہء 2017 میں وہ میری اہلیہ کو دبئی ائیر پورٹ پر مل گئی، وہ واپس پاکستان جا رہی تھی انہوں نے بتایا کہ اس سارے عرصے میں انہیں بالکل بھی تنخواہ نہیں ملی اور بہت مشکل سے انہوں نے اپنی جان چھڑائی اور تین سال سعودی عرب میں بغیر تنخواہ کے کام کرنے کے بعد وہ اس دن via Dubai پشاور جارہی تھیں۔میں بھی ان سے ملا تھا، میں کسی قسم کا مبالغہ کیے بغیر کہوں گا کہ انتہائی بردبار قسم کی خاتون تھیں، مگر عجیب غم زدہ تھیں، جس کا جواں سال بیٹا بم دھماکے کے نذر ہوگیا اور عمر بھر کی رقم مضاربہ میں لٹ گئی اور اس عمر میں وہ پردیس میں پریشان تھیں۔ اہلیہ کی ان سے یہ آخری ملاقات شائد سنہء 2017 میں ہوئی تھی۔ دعا ہے کہ وہ اچھے حالات میں ہوں۔
مینی یہ ایک فلپائنی خاتون ہیں، یہ بھی ہمارے گھر میں اہلیہ کی کینسر ٹریٹمنٹ کے ادوار میں بطور خدامہ کچھ ایسا کام کرتی رہی، اس کی بھی عمر 40 سے 45 سال کے درمیان ہوگی، اس کا شوہر بھی سعودی عرب میں کسی ورکشاپ میں تھا، ان کے غم بھی یہی دیکھیں انہوں نے بھی اپنی شادی شدہ بچوں کو اپنے ملک میں پیسے بھیجنے ہوتے تھے، اس کے شوہر کی عمر 65 سال سے بھی زائد تھی، اس کے شوہر کا انتقال بھی سعودی عرب میں ہی ہوا ، اور بس اس نے اپنے شوہر کا تابوت اپنے ملک بھجوا دیا خود نہیں گئی، کیونکہ شادی شدہ بچوں کو ہر ماہ پیسوں کی ضرورت ہے۔
جینی مسیحی ہے اور اس کا تعلق انڈین کیرالہ اسٹیٹ سے ہے، اس سے میری اہلیہ کی قدرے بہتر شناسائی دوران کینسر ٹریٹمنٹ ہوئی، یہ ایک بہترین پروفیشنل درمیانی عمر کی لڑکی تھی، یہ اوپر والے واقعات کے مقابلے میں قدرے بہتر اس لئے تھی کہ یہ جوان تھی، اور اس کا منگیتر جبیل شہر میں ہی تھا۔ ایک اچھے اور بڑے ہسپتال میں تھی، یہ وہ واحد خاتون تھیں جو اپنے بچوں کے لئے نہیں بلکہ اپنے بہتر مستقل اور شادی کے لئے کما رہی تھی۔ ہیڈ او شفٹ انچارچ تھی، اور کینسر پیشنٹ ہینڈلنگ کا اس کا اچھا تجربہ تھا۔ شائد سنہء 2023 میں اس نے نوکری چھوڑ دی تھی۔
یہاں پاکستانی اسکول میں اسکول ویزہ پر بمشکل دو ہزار ریال کے پیکج پر کام کرنے والے خواتین ٹیچرز بھی ہیں جو اکیلی پردیس میں دو دو سال تک رہتی ہیں، اور گھر والوں کے لئے بس پیسے کمانے کی مشین بنی ہوئی ہیں، خلیجی ممالک میں ایشین ممالک سے لے کر افریقی ممالک کی لاکھوں خواتین نوکریاں کرتی ہیں, گھریلو ملازمائیں بھی ہیں، جو دس دس سال تک چھٹی صرف اس لئے نہیں جاتیں کیونکہ ان کے گھر والوں کو ہر ماہ پیسے چاہئے ہوتے ہیں۔ ان کی اپنی کوئی زندگی نہیں ہوتی بس یہ اپنے گھر والوں یا بچوں کے لئے کمانے کے لئے جی رہی ہوتی ہیں۔