فكر ونظر
تقدسِ رسالت، تصویر کشی اور عصری حساسیت: ایک فکری جائزہ
صاحبزادہ محمد امانت رسول
گزشتہ دنوں پرائیویٹ چینل پر دکھائی جانے والی ایک تصویری کہانی اور اس کے نتیجے میں چینل پہ لگنے والی پندرہ روزہ پابندی نے ایک پرانی اور گہری بحث کو دوبارہ زندہ کر دیا ہے۔ سوال اُٹھایا جا رہا ہے کہ اگر ماضی کی بعض تاریخوں میں یا دنیا کے دیگر حصوں میں انبیاءِ کرام (جیسے حضرت یوسف علیہ السلام یا حضرت عیسیٰ علیہ السلام) پر فلمیں اور خاکے بنتے رہے ہیں، تو رسولِ اکرم ﷺ کی تصویر کشی یا خاکے پر اس قدر سخت ممانعت کیوں ہے؟ کیا یہ محض ایک سماجی و معاشرتی ردعمل ہے یا اس کے پیچھے کوئی ٹھوس مذہبی،عقلی اور عملی بنیاد موجود ہے؟
اس مسئلے کو سمجھنے کے لیے ہمیں روایتی جذباتیت سے ہٹ کر مذہبی احکام، عقلی حکمتوں، تاریخی حقائق اور عوامی نفسیات کا ایک جامع جائزہ لینا ہوگا۔اسلامی شریعت میں انبیاءِ کرام، بالخصوص رسول اللہ ﷺ کی تصویر کشی،شبیہ سازی یا خاکہ نگاری کی ممانعت کسی عارضی سماجی رویے کا نام نہیں، بلکہ یہ سراسر ایک دینی اور اصولی مسئلہ ہے۔
اسلام کی بنیاد توحیدِ خالص پر ہے جہاں ذاتِ الٰہی اور اس کے مقربین کی ممانعتِ تجسیم (Non-anthropomorphism) پر سخت زور دیا گیا ہے۔ ماضی کی امتوں میں گمراہی کی بڑی وجہ یہ رہی کہ انہوں نے اپنے مصلحین اور انبیاء کی تصویریں اور مجسمے بنائے، جو رفتہ رفتہ عبادات اور شرک کا ذریعہ بن گئے۔ اسلام نے 'سدِ ذرائع' (برائی کے راستوں کو پہلے ہی بند کر دینا) کے اصول کے تحت اس کا راستہ روکا۔
پیغمبر کا مقام انسانی فہم اور مادی پیمانوں سے بالاتر ہوتا ہے۔ شریعت کی رو سے کوئی بھی عام انسان،چاہے وہ کتنا ہی بڑا اداکار یا مصور کیوں نہ ہو، ایک نبی کے تقدس، ان کے چہرے کے انوارات اور ان کی باطنی عظمت کو نہ تو اپنی اداکاری میں ڈھال سکتا ہے اور نہ ہی کینوس پر اتار سکتا ہے۔ کسی بھی انسان کو نبی کی شبیہ قرار دینا خود اس منصبِ جلیل کی توہین اور جھوٹ کے زمرے میں آتا ہے۔اگر عقلی اور عملی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو تصویر یا خاکے کی اجازت نہ دینے میں حکمت ہی حکمت نظر آتی ہے:
تصویر انسان کو ایک خاص دائرے میں قید کر دیتی ہے۔ جب کوئی مصور یا فلم ساز کسی تاریخی شخصیت کا خاکہ بناتا ہے، تو وہ دراصل اس شخصیت کو اپنے محدود تخیل اور سوچ کے مطابق ڈھالتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ کا پیغام آفاقی اور ابدی ہے، انہیں کسی ایک خطے، رنگ یا مصور کے تخیل کا اسیر نہیں بنایا جا سکتا۔
اگر تصویر کشی کی اجازت دے دی جائے، تو یہ امت میں ایک نئے اور لامتناہی تنازع کا سبب بن جائے گی۔ ہر فرقہ، ہر گروہ اور ہر دور کا مصور اپنی پسند اور نظریات کے مطابق شبیہ تیار کرے گا، جس سے اصل تاریخی تشخص مسخ ہو جائے گا اور فکری انتشار جنم لے گا۔
ایک عام سوال یہ پوچھا جاتا ہے کہ اگر ایران یا دیگر ممالک میں حضرت یوسفؑ، حضرت یعقوبؑ یا حضرت عیسیٰؑ پر فلمیں بنیں، تو رسول اللہ ﷺ کے معاملے میں یہ حساسیت دُگنی کیوں ہو جاتی ہے؟
پہلی بات تو یہ ہے کہ اہل سنت کے جمہور علماء اور بڑے علمی اداروں (جیسے جامعہ الازہر، دارالعلوم دیوبند وغیرہ) کے نزدیک تمام انبیاءِ کرام کی شبیہ سازی یکساں طور پر ممنوع ہے۔ ایرانی فلموں میں اگرچہ بعض انبیاء کے کردار دکھائے گئے، لیکن وہاں بھی رسول اللہ ﷺ کی ذاتِ گرامی کے لیے انتہائی احتیاط برتی گئی (جیسے مجید مجیدی کی فلم 'محمد' میں آپ ﷺ کا چہرہ مبارک نہیں دکھایا گیا)۔امتِ مسلمہ کے لیے رسول اللہ ﷺ کی ذات محض ایک تاریخی شخصیت نہیں، بلکہ ایمان کا مرکز و محور ہے۔ آپ ﷺ کی محبت ایمان کی پہلی شرط ہے۔ اس لیے آپ ﷺ کے معاملے میں امت کی حساسیت ہمیشہ اعلیٰ ترین درجے پر ہوتی ہے،جس کی تائید خود قرآنِ کریم کی سورہ الحجرات کی ابتدائی آیات سے ہوتی ہے جہاں آپ ﷺ کے حضور آواز بلند کرنے تک کو اعمال برباد ہونے کا سبب قرار دیا گیا۔
پاکستان کا معاشرہ مذہبی تشخص اور حبِ رسول ﷺ کے معاملے میں غیر معمولی طور پر حساس ہے۔ یہاں یہ مسئلہ صرف کتابی بحث نہیں بلکہ عوامی نفسیات کا حصہ ہے۔
پاکستانی عوام باقی معاملات میں جیسے بھی ہوں،ناموسِ رسالت اور ذاتِ رسول ﷺ پر وہ کسی قسم کا سمجھوتہ یا ابہام برداشت نہیں کرتے۔ میڈیا ہو یا کوئی سماجی فورم، جب بھی تقدس کے ان دائروں کو چھونے کی کوشش کی جاتی ہے، تو عوامی ردعمل شدید ہوتا ہے۔
پرائیویٹ چینل پر جو کچھ دکھایا گیا، خواہ وہ کسی نادانی کی وجہ سے ہو یا سنسنی خیزی کے لیے، وہ معاشرتی اقدار اور مذہبی حدود کو پامال کرنے کے مترادف تھا۔ پاکستان کا قانون (پیمرا قوانین اور آئینِ پاکستان) بھی شہریوں کے مذہبی جذبات کے تحفظ کی ضمانت دیتا ہے، یہی وجہ ہے کہ وہاں پندرہ دن کی پابندی عائد کی گئی۔ یہ پابندی ظاہر کرتی ہے کہ آزادیِ اظہارِ رائے کا مطلب کسی کی مسلمہ مقدس اقدار کی پامالی ہرگز نہیں ہو سکتا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خاکہ نہ بنانا یا اس کی ممانعت کوئی ایسا عارضی سماجی رواج نہیں ہے جسے بدلا جا سکے۔یہ ایک بیک وقت مذہبی، عقلی، عملی اور نفسیاتی حقیقت ہے۔ شریعتِ اسلامیہ نے تصویر کی جگہ "اسوہ" اور "سیرت"پر زور دیا ہے۔
ہمارا کام آپ ﷺ کے چہرے کا خاکہ بنانا نہیں، بلکہ آپ ﷺ کے اخلاق، آپ ﷺ کے نظامِ عدل اور آپ ﷺ کی رحمت کا خاکہ اپنے کردار کے ذریعے دنیا کے سامنے پیش کرنا ہے۔ میڈیا اور معاشرے کے دانشوروں کو چاہیے کہ وہ اس باریک مگر واضح فرق کو سمجھیں، تاکہ آزادیِ اظہار کے نام پر معاشرے کو کسی بڑے فکری یا امن و امان کے بحران سے بچایا جا سکے۔