فكر ونظر
پاکستانی معاشرے کے لئے ایک سبق
حسن الامين
تاریخی مشاہدہ یہ ہے کہ مذہبی جبر، عدم برداشت اور فکری پابندیوں سے معاشرے صرف مخالفین سے محروم نہیں ہوتے، بلکہ اپنے اعلی ترین ذہانتوں اور بہترین دماغوں سے بھی محروم ہوجاتے ہیں۔متعدد مثالوں سے اس حقیقت کو سمجھا جاسکتا ہے۔
1۔ مسلم اسپین کے زوال کی مثال لیجئے۔ 1492 میں سقوطِ غرناطہ ہوا پھر ہسپانوی انکوئزیشن کے نتیجے میں مسلمان اور یہودی علماء، فلسفی، دانشور، طبیب، مترجم اور ہنرمند اسپین سے ہجرت کرنے پر مجبور ہوئے۔ ان میں سے ایک بڑی تعداد نے شمالی افریقہ (مراکش، الجزائر، تیونس)، سلطنتِ عثمانیہ (خصوصاً استنبول، سلونیکا اور ازمیر)، مصر اور مشرقِ وسطیٰ کے دیگر علاقوں کی طرف کوچ کیا۔ عثمانی سلطان نے ان سب اہل علم وفن کا خیرمقدم کیا، اور یہ بتایا جاتا ہے کہ سلطان نے ہسپانوی حکمرانوں کی اس پالیسی کو ان کی بڑی حماقت قرار دیا کیونکہ انہوں نے اپنے ملک کے سب سے بڑے اثاثے یعنی علم و ہنر کو اپنے ہاتھوں سے باہر جانے پر مجبور کردیا۔ ان مہاجرین میں سے یہودی اہل علم و فن نے عثمانی سلطنت میں شعبہ طب، تجارت، طباعت، فلسفہ اور علمی اداروں کی ترقی میں نمایاں کردار ادا کیا۔
2۔ بالکل اسی طرح 1930 اور 1940 کی دہائیوں میں نازی جرمنی اور فاشسٹ اٹلی کی نسل پرستانہ اور آمرانہ پالیسیوں کے نتیجے میں ہزاروں سائنس دان، فلسفی، ادیب اور فنکار جرمنی ، اٹلی اور یورپ چھوڑنے پر مجبور ہوئے۔ ان ہجرت کرنے والوں میں البرٹ آئن سٹائن، اینریکو فرمی، حانا آرنٹ اور دیگر شامل تھیں۔ یہ شخصیات امریکہ، برطانیہ، کینیڈا اور دیگر مغربی ممالک میں جا بسیں۔ ان دانشوروں نے جدید طبیعیات، سماجی علوم، فلسفے، طب اور ٹیکنالوجی کی ترقی میں بنیادی کردار ادا کیا۔ امریکہ کی بیسویں صدی کی سائنسی برتری میں ان مہاجر ذہنوں کا حصہ انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔ بلکہ یوں کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا کہ جدید امریکہ کی علمی اور سائنسی بنیادوں میں ان مہاجر اہل علم و فن کا حصہ نکال دیں تو بہت کم کچھ رہ جائے گا۔
3۔ اسی طرح 1979 کے خمینی/ ایرانی انقلاب کے بعد ایک بڑا علمی انخلا (brain drain) مشاہدے میں آیا۔ سیاسی، سماجی اور نظریاتی بندشوں کی وجہ سے لاکھوں ایرانی، جن میں سائنس دان، انجینئر، ڈاکٹر، فنکار اور ماہرین تعلیم شامل تھے، امریکہ، کینیڈا، برطانیہ، جرمنی اور دیگر ممالک ہجرت پر مجبور ہوئے۔ آج ایرانی نژاد سائنس دان اور ماہرین سماجی علوم دنیا کی بہترین جامعات اور تحقیقی اداروں میں نمایاں خدمات انجام دے رہے ہیں۔
پاکستان اور افغانستان نے بھی گزشتہ دہائیوں میں اپنے بہترین اور اعلی ترین ذہانتوں کی قدر نہیں کی۔ یہاں ریاستی جبر سے زیادہ سماجی اور معاشرتی جبر نے یہ کردار ادا کیا۔ مذہبی، فقہی اور مسلکی اختلافات کی آڑ لے کر اس جبر نے بڑے بڑے دماغوں کو دربدر کیا۔ یہ ایک ایسی فضا ہے جس کو anti-intellectualism سے تعبیر کیا جاسکتا ہے۔ اس ہجرت و برات کے ماحول نے ایک بڑے ذہانتی خسارے intellectual deficit کو جنم دیا ہے جو دن بدن بڑھتا جارہا ہے۔
انسانی تاریخ کا ایک اہم سبق شاید یہی ہے کہ قومیں صرف مادی وسائل اور توپ و تفنگ سے نہیں، بلکہ اعلی ذہنوں سے بنتی ہیں۔ اور جب کوئی بھی معاشرہ اختلافِ رائے، تخلیقی آزادی اور علمی جستجو کو جبر کا نشانہ بناتا ہے، تو بالعموم اس معاشرے کا اعلی ترین دماغ خاموش نہیں رہتا بلکہ وہ سرحدوں سے نکل کر اپنی صلاحیت اور علم و فضل سے مہمان معاشرے کو چارچاند لگادیتا اور اس کو مالا مال کردیتا ہے۔ یہ وہ سبق ہے جو ہم سیکھ نہیں سکے اور یوں اس علمی اور فکری افلاس کا شکار ہوگئے جس کا ہمیں سامنا ہے۔