اختلافِ رائے کا جرم اور دیوبندیت سے اخراج

مصنف : ڈاكٹر اكرم ندوي

سلسلہ : فکر و نظر

شمارہ : جولائی 2026

فكر ونظر

اختلافِ رائے کا جرم اور دیوبندیت سے اخراج

ڈاكٹر محمد اكرم ندوى

 میں نے ایک سوال کے جواب میں "دیوبندی مکتبِ فکر اور امام مہدیؑ کی آمد" كے عنوان سے ایک مضمون تحریر کیا تھا۔ اس مضمون میں دیوبندی مکتبِ فکر سے وابستہ چند ممتاز شخصیات، خصوصاً شیخ الہند مولانا محمود الحسن دیوبندیؒ کے نامور شاگرد اور معتمدِ خاص امامِ انقلاب مولانا عبیداللہ سندھیؒ، مشہور محدث و فقیہ مولانا ظفر احمد عثمانیؒ کے صاحبزادے جناب قمر احمد عثمانی، اور علامہ حبیب الرحمن صدیقی کاندھلویؒ کی آراء کا حوالہ دیا گیا تھا۔ ان شخصیات کے افکار سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ امام مہدیؑ کے بارے میں رائج اور مقبول دیوبندی تعبیر سے اختلاف رکھتے تھے، یا کم از کم اس مسئلے کو ایک مختلف زاویۂ نگاہ سے دیکھتے تھے۔

اس مضمون کے بعد متعدد علماء، طلبہ اور اصحابِ فکر کے پیغامات موصول ہوئے۔ ان کا بنیادی اعتراض یہ تھا کہ جن شخصیات کا حوالہ دیا گیا ہے، انہیں دیوبندی مفتیانِ کرام نے ’’دیوبندیت سے خارج‘‘ قرار دے دیا ہے، اس لیے ان کی آراء کو دیوبندی مکتبِ فکر کا حصہ قرار دینا درست نہیں۔ ابتدا میں میں نے اس اعتراض کو محض ایک جذباتی ردِعمل سمجھ کر نظر انداز کرنا مناسب جانا، لیکن جب یہی بات مسلسل دہرائی جانے لگی تو محسوس ہوا کہ اصل مسئلہ امام مہدیؑ کے بارے میں اختلافِ رائے نہیں بلکہ ایک زیادہ سنگین اور بنیادی سوال ہے: آخر یہ ’’دیوبندیت سے اخراج‘‘ کیا شے ہے، اس کا معیار کیا ہے، اور یہ اختیار کس کے پاس ہے؟

حقیقت یہ ہے کہ ہمارے عہد میں بعض مذہبی حلقوں کے اندر اختلاف کو برداشت کرنے کی صلاحیت بتدریج کم ہوتی جا رہی ہے۔ ایک زمانہ تھا جب تکفیر کا ہتھیار صرف ان لوگوں کے لیے استعمال کیا جاتا تھا جو دائرۂ اسلام سے باہر سمجھے جاتے تھے، پھر یہ دائرہ وسیع ہوا اور اہلِ قبلہ کے مختلف طبقات تک پہنچ گیا، اور اب معلوم ہوتا ہے کہ بعض حضرات نے ایک نئی عدالت قائم کر لی ہے جہاں لوگوں کے اسلام کا نہیں بلکہ ان کی مسلکی شہریت کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔ گویا اب صرف یہ کافی نہیں کہ کوئی مسلمان ہو، بلکہ اسے یہ بھی ثابت کرنا ہوگا کہ وہ فلاں مسلک کا ’’مجاز‘‘ فرد ہے، اور اس کی اسنادِ وفاداری پر چند مخصوص افراد کی مہر ثبت ہے۔

تاریخِ اسلام کا مطالعہ کرنے والا ہر شخص جانتا ہے کہ مسلمانوں کی علمی روایت کی بنیاد یکسانیت پر نہیں بلکہ تنوع پر قائم رہی ہے۔ فقہ، حدیث، تفسیر، کلام، تصوف اور فلسفہ کے میدانوں میں صدیوں تک شدید اختلافات موجود رہے، لیکن ان اختلافات کے باوجود علمی نسبتیں باقی رہیں۔ امام ابو یوسفؒ اور امام محمدؒ نے امام ابوحنیفہؒ سے بے شمار بنیادی مسائل میں اختلاف کیا، لیکن کسی نے ان کی حنفیت پر سوال نہیں اٹھایا۔ امام نوویؒ اور امام رافعیؒ کے درمیان اختلافات تھے، مگر دونوں شافعی رہے۔ اشعری اور ماتریدی روایتوں کے اندر صدیوں تک علمی مباحث جاری رہے، لیکن کسی کو اس بنا پر مکتب سے خارج قرار دینے کا سلسلہ کبھی علمی روایت کا حصہ نہیں بنا۔

درحقیقت کوئی بھی علمی مکتب چند جامد آراء کا مجموعہ نہیں ہوتا، بلکہ ایک زندہ فکری روایت ہوتا ہے۔ زندہ روایتوں کی مثال درختوں کی سی ہوتی ہے، پتھروں کی نہیں۔ درخت کی جڑ ایک ہوتی ہے لیکن اس کی شاخیں بے شمار ہوتی ہیں۔ ہر شاخ کا زاویہ الگ ہوتا ہے، ہر پتہ اپنی سمت میں لہراتا ہے، لیکن اس تنوع کے باوجود درخت اپنی وحدت برقرار رکھتا ہے۔ اگر کوئی مالی اس خیال میں مبتلا ہو جائے کہ جو شاخ اس کی پسندیدہ سمت میں نہ بڑھے اسے کاٹ دیا جائے، تو وہ درخت کی اصلاح نہیں بلکہ اس کی تباہی کا سامان کر رہا ہوتا ہے۔

افسوس کہ بعض حلقوں میں دیوبندیت کو ایک زندہ علمی روایت کے بجائے ایک نظریاتی قلعے کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے، جس کے دروازے پر چند مفتیان کرام بطور دربان کھڑے ہیں۔ جو شخص ان کی پسند کی ہر رائے سے اتفاق کرے وہ اندر ہے، اور جو کسی مسئلے میں اختلاف کر دے وہ باہر ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا دنیا کی کوئی عظیم علمی روایت اس اصول پر قائم رہ سکتی ہے؟ کیا علم کی تاریخ میں کسی مکتب نے اپنے ناقدین، مختلف الرائے افراد اور اجتہادی ذہنوں کو خارج کر کے ترقی کی ہے؟

اگر اختلافِ رائے واقعی دیوبندیت سے اخراج کا معیار ہے تو پھر اس معیار کو تمام مسائل پر یکساں طور پر نافذ کرنا چاہیے۔ دیوبندی اکابر کے درمیان تصویر کے مسئلے پر اختلاف رہا ہے۔ لاؤڈ اسپیکر کے استعمال کے بارے میں مختلف آراء موجود رہی ہیں۔ سیاسی شرکت، جمہوریت، قومی ریاست، خواتین کی تعلیم، جدید ذرائع ابلاغ اور بے شمار سماجی و فقہی مسائل میں دیوبندی علماء کے اندر تنوع پایا جاتا ہے۔

دارالعلوم دیوبند کے صد سالہ اجتماع میں اندرا گاندھی کی شرکت اور ان کا خطاب ایک تاریخی حقیقت ہے، جسے نہ جھٹلایا جا سکتا ہے اور نہ فراموش کیا جا سکتا ہے۔ اگر عورت کی تقریر سننا دیوبندیت کے منافی ہے تو کیا اس اجتماع میں شریک ہزاروں علماء کو دیوبندیت سے خارج قرار دیا جائے گا؟ اگر تصویر ہی معیار ہے تو کیا ان تمام علماء کو خارج کیا جائے گا جن کی تصاویر اخبارات، رسائل اور سوشل میڈیا پر موجود ہیں؟ اگر بعض سیاسی نظریات معیار ہیں تو کیا مختلف جماعتوں اور تحریکوں سے وابستہ تمام افراد ایک دوسرے کو دیوبندیت سے بے دخل کرتے رہیں گے؟

اس منطق کا انجام انتہائی خطرناک ہے۔ یہ ایک ایسی آگ ہے جو ابتدا میں دوسروں کے گھر جلانے کے لیے روشن کی جاتی ہے لیکن آخرکار اپنے ہی گھر کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔ اخراج کا یہ سلسلہ اگر جاری رہا تو وہ دن دور نہیں جب ہر گروہ خود کو ’’اصلی دیوبندی‘‘ اور باقی سب کو منحرف قرار دے گا۔ نتیجہ یہ ہوگا کہ ایک وسیع علمی روایت درجنوں چھوٹے چھوٹے دائروں میں تقسیم ہو جائے گی، اور ہر دائرہ اپنے گرد اتنی بلند دیوار کھڑی کر لے گا کہ اس کے اندر ہوا اور روشنی کا گزر بھی مشکل ہو جائے گا۔

اصل سوال یہ نہیں کہ مولانا عبیداللہ سندھیؒ یا قمر احمد عثمانی صاحب یا علامہ حبیب الرحمن کاندھلویؒ نے فلاں مسئلے میں کیا رائے اختیار کی تھی۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا کسی علمی روایت کے اندر اختلاف کی گنجائش موجود ہے یا نہیں؟ اگر موجود ہے تو پھر ان شخصیات کی آراء کو محض اس بنیاد پر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ بعض معاصر مفتیان ان سے متفق نہیں۔ اور اگر اختلاف کی گنجائش موجود نہیں تو پھر دیوبند کو ایک علمی روایت نہیں بلکہ ایک فکری چھاؤنی قرار دینا زیادہ مناسب ہوگا، جہاں تحقیق کی جگہ اطاعت اور استدلال کی جگہ تقلیدِ محض مطلوب ہو۔

یہ حقیقت بھی فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ دیوبند بنیادی طور پر ایک تعلیمی ادارہ اور ایک علمی روایت کا نام ہے، کوئی منظم کلیسا نہیں جس کے پاس اخراج اور شمولیت کے سرکاری پروانے ہوں۔ دارالعلوم دیوبند سے فراغت حاصل کرنے والا شخص، یا دیوبندی اکابر کی علمی روایت سے وابستگی رکھنے والا عالم، بہت سے مسائل میں اپنے معاصرین سے اختلاف رکھ سکتا ہے۔ جیسے جامعہ ازہر کے علماء مختلف آراء رکھنے کے باوجود ازہری کہلاتے ہیں، ویسے ہی دیوبندی علماء بھی اختلافات کے باوجود دیوبندی رہ سکتے ہیں۔ علمی نسبتیں فتووں سے نہیں، تاریخ، تربیت، روایت اور فکری تسلسل سے قائم ہوتی ہیں۔

اختلافِ رائے علم کا دشمن نہیں بلکہ اس کی روح ہے۔ جس معاشرے میں سوال اٹھانے کی جرات ختم ہو جائے وہاں تحقیق مر جاتی ہے، اور جہاں تحقیق مر جائے وہاں صرف عقیدت باقی رہ جاتی ہے، علم نہیں۔ قبرستان میں مکمل سکوت ہوتا ہے، کوئی اختلاف نہیں ہوتا، کوئی بحث نہیں ہوتی، کوئی سوال نہیں اٹھتا؛ لیکن اس سکوت کو زندگی نہیں کہا جاتا۔ زندگی کی علامت حرکت ہے، اور حرکت کی علامت اختلاف ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کی تمام بڑی علمی روایتوں نے اختلاف کو دبانے کے بجائے اسے منظم کیا، اس کی تہذیب کی، اور اسے فکری ارتقا کا ذریعہ بنایا۔

میری گزارش صرف اتنی ہے کہ اختلاف کو جرم نہ بنایا جائے، اور مسلکی وابستگی کو چند افراد کی منظوری کا محتاج نہ سمجھا جائے۔ جو لوگ ہر مختلف الرائے شخص کو دیوبندیت سے خارج قرار دینے پر مصر ہیں، انہیں ایک لمحے کے لیے رک کر سوچنا چاہیے کہ وہ دراصل دیوبند کی حفاظت کر رہے ہیں یا اس کی بنیادوں کو کمزور کر رہے ہیں۔ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ عظیم روایتیں اپنی وسعت سے زندہ رہتی ہیں اور اپنی تنگ نظری سے مر جاتی ہیں۔ سمندر اس لیے عظیم ہے کہ وہ بے شمار دریاؤں کو اپنے اندر سمو لیتا ہے؛ اگر وہ ہر آنے والے دھارے کو مسترد کر دے تو بالآخر خود ایک خشک گڑھا بن کر رہ جائے۔

دیوبند کی اصل قوت اس کی علمی جرات، فکری وسعت، تحقیقی مزاج اور اختلاف کو برداشت کرنے کی روایت میں رہی ہے۔ اگر اس روایت کو برقرار رکھنا ہے تو اخراج کے فتووں کے بجائے مکالمے کی فضا پیدا کرنا ہوگی، الزام کے بجائے استدلال کو فروغ دینا ہوگا، اور مسلکی شناخت کو تنگ دائروں سے نکال کر اس تاریخی وسعت میں دیکھنا ہوگا جس نے دیوبند کو برصغیر کی ایک مؤثر علمی روایت بنایا۔ بصورتِ دیگر، یہ اندیشہ بے جا نہیں کہ کل وہی لوگ جو آج دوسروں کو دیوبندیت سے خارج کر رہے ہیں، ایک دوسرے کو بھی اسی دائرے سے باہر قرار دینے لگیں، اور پھر سوال یہ باقی رہ جائے کہ آخر دیوبند میں دیوبندی بچا کون؟