تبليغی جماعت كی غلطی ، اسباب و ذرائع مقاصد بن گئے

مصنف : شہباز نصاری

سلسلہ : فکر و نظر

شمارہ : اگست 2026

فكر ونظر

تبليغی جماعت كی غلطی ، اسباب و ذرائع مقاصد بن گئے

شہباز نصاری (عالمی مجلس اصلاح امت الھند)

جب بھی کوئی تحریک شروع ہوتی ہے تو اس کا کوئی نہ کوئی مقصد ہوتا ہے جس کا تعلق دینی احکامات سے ہوتا ہے لیکن رفتہ رفتہ وہی تحریک اور اس کے اسباب و ذرائع مقاصد کا درجہ لے لیتی ہے اور مقاصد کو پسِ پشت ڈال دیا جاتا ہے پھر ان اسباب کی منصوصات کی طرح پابندی کرائی جاتی ہے اور ان کو اعمال نبوت، نہجِ نبوت سے یاد کیا جانے لگتا ہے، اور ان اسباب و وسائل پر عمل کرنے اورنہ کرنے پر فضائل و وعید کا دارو مدار ہوجاتا ہے، یہی رویہ اس تحریک کے زوال پزیر ہونے کی نشانی ہوتی ہے۔

مروجہ طریق تبلیغ کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا، اس تحریک کے تمام اعمال مثلا : گشت، مشورہ، تعلیم، ملاقات، ہفتہ واری قیام، سہ روزہ، چلہ چار ماہ،،،، کی حیثیت ایک انتظامی امور کی ہے یعنی دین کی بنیادی باتیں سیکھنے اور سیکھانے کے ذرائع و اسباب ہے، جس طرح مدارس میں درجات و کتب اور اوقات کی تقسیم ہوتی ہے۔

جب بھی کسی تبلیغی ساتھی سے بات کی جاتی ہےکہ آپ نے اعمالِ الیاسی پر التزام اور اصرار کرکے اس تحریک کو بدعت کے کٹہرے میں کھڑا کردیا ہے تو فوراً جواب ہوتا ہے مدارس میں بھی تو کتب کا التزام ہوتا ہے اور خانقاہوں میں بھی اپنی اپنی ترتیب کا التزام ہوتا ہے۔

تو اس کا جواب یہ ہے کہ اولا ًتو مدارس اور خانقاہوں کا ایک مقصد ہے، یعنی درسِ نظامی کی تعلیم کی تکمیل اور اصلاحِ نفس، جب اس مقصد کی تکمیل ہوجاتی ہے تو طالبِعلم اور سالک چاہتے ہوئے بھی وہاں نہیں رہ سکتا، بلکہ اس کو آگے کی منزل بتائی جاتی ہے، یعنی اگر چہ مدارس میں نصاب معین ہوتا ہے اور خانقاہ کی ترتیب بھی لیکن افراد بدلتے رہتے ہیں اور درجہ بدرجہ تکمیل کے بعد دو بارہ داخلہ کی گنجائش نہیں ہوتی۔

جبکہ موجودہ مروجہ دعوت و تبلیغ کا معاملہ بالکل بر عکس ہے۔

حضرت جی مولانا محمد الیاس صاحب رحمۃ اللہ علیہ جنہوں نے یہ جماعتی طریقہ شروع فرمایا، اس حقیقت کو بخوبی سمجھتے تھے اس لئے انہوں نے اپنی اس تحریک کا مقصد اصلی برملا طور پر واضح فرمایا کہ : *علماء کرام سے کہنا ہے کہ ان جماعتوں کی چلت پھرت اور محنت و کوشش سے عوام میں دین کی صرف طلب اور قدر ہی پیدا کی جاسکتی ہے اور ان کو دین سیکھنے پر آمادہ ہی کیا جاسکتا ہے آگے دین کی تعلیم و تربیت کا کام علماء اور صلحاء (مشائخ) کی توجہ فرمائی سے ہی ہوسکتا ہے۔( ملفوظات صفحہ 145)*

*ہماری اس تحریک کا اصل مقصد اس وقت بس دین کی طلب و قدر پیدا کرنے کی کوشش کرنا ہے نہ کہ صرف کلمہ ، نماز وغیرہ کی تصحیح و تلقین۔ (ملفوظات صفحہ68)*

آپ حضرات کے سامنے تبلیغی جماعت کا مقصد خود بانی کی زبان سے واضح ہوگیاکہ جب دین کی فکر پیدا ہوجائے تو صلحاء اور مشائخ سے جوڑ دیا جائے اور جب مشائخ کی صحبت سے کامل دین حاصل کرلے تو پھر دوسری امت کی فکر کرے ، لیکن آج کے تبلیغیوں کا معاملہ ہی الٹا ہے جو جتنا وقت پر وقت لگاتا جاتا ہے اتنا ہی مقامی اعمال(جو موسوم ہے اعمال نبوت سے نعوذ باللہ من ذالک ) کی پابندی کرتا جاتا ہے، یعنی افراد بھی وہی اور نصاب بھی وہی اگر چہ نئے افراد شامل ہوتے رہتے ہیں لیکن پرانے افراد اسی پر جمے رہتے ہیں، اور اس سے ذرہ برابر غفلت اور کوتاہی پر اظہارِافسوس اور بے دینی خیال کیا جاتا ہے، اور جو کوئی تبلیغی ساتھی ان اعمال میں سستی کرے تو فورا دوسرا ساتھی ان اعمال کی ترغیب لے کر پہنچ جاتا ہے چاہے وہ غفلت کرنے والا ساتھی کتنا ہی صوم و صلاۃ اور شریعت کا پابند اور دینی فکر کا حامل ہو، بالفاظ دیگر دین کی فکر کو چھوڑ کر اپنی تحریک کی حفاظت کی فکر لاحق ہوچکی ہے اور اس کو سمجھنے کے لئے سریلنکا کے گشت کی کارگزاری کافی ہے جب گشت کے دن تمام حضرات مسجد میں پہنچ گئے تو مرکز سے مشورہ ملا کہ آدھے حضرات گھر چلے جائے پھر ان پر گشت کیا جائے،اور اس میں موجودہ اکابر و اصاغر سب برابر کے شریک ہے الا ماشاء اللہ، جبکہ مدارس میں نصاب کا التزام ہوتاہے لیکن افراد کا نہیں، اور تبلیغی جماعت میں نصاب بھی وہی اور افراد بھی وہی *یہ ہے اسباب کو مقاصد کا جامہ پہنانا۔*

مدارس و خانقاہ میں مقصد کی تکمیل کے بعد آگے کی منزل بتائی جاتی ہے اور یہاں تو آگے کی منزل تین دن کے بعد چلہ، چلہ کے بعد چار ماہ، چار ماہ کے بعد بیرون اور بیرون کے بعد کرتے کرتے مرنا اور مرتے مرتے کرنا، چاہے پہلے ہی تین دن میں دین کی فکر اور طلب پیدا ہوجائے، یہ ہے ان کی منزل و مقصد جو بانی تبلیغ کے مقصد سے بالکل متصادم ہے۔

اور *اذا وسد الامر الی غیر اھلہ فانتظر الساعۃ (الحدیث)* پر عملی مشق کرکے ہر کس و ناکس کو تبلیغی ذمہداری تھما دینے کا نقصان الگ ہے جو اسی تحریک کی حفاظت کی فکر کا شاخسانہ ہے۔ *(الامان الحفیظ )*

دوسری بات کہ تبلیغی تحریک کا مدارس و خوانق پر قیاس اس لئے بھی صحیح نہیں ہے کہ مدارس و خوانق میں کوئی خاص نصاب لازم نہیں ہوتا بلکہ ہر سال نصاب میں کچھ نہ کچھ ترمیم ہوتی رہتی ہے اور پھر تمام مدارس و خوانق میں ایک جیسا نظام و نصاب نہیں ہوتا ،کچھ نہ کچھ فرق ضرور ہوتا ہے، کہیں پانچ سالہ کورس تو کہیں سات اور نو سالہ ،، غرض ہر مدرسہ میں نصاب و نظام، اور تعلیمی اوقات و تعطیلات میں فرق ہوتا ہے اسی طرح خانقاہوں میں بھی، لیکن تبلیغی جماعت میں پوری دنیا کے لئے ایک ہی نصاب متعین ہے چاہے سو فیصد نمازی ہو یا پانچ فیصد ہو، فضائل اعمال یا منتخب احادیث کا کئی بار دور ہوجانے کے بعد دینی فکر پیدا ہوجانے کے باوجود مجال ہے کہ اس کی تبدیلی ہو، *یہ ہے اسباب کو مقاصد جامہ پہنانا۔*

پھر مدارس میں اپنے نظام پر کوئی فضائل نہیں، کہ عربی اول کے الگ فضائل ہو ،عربی دوم کے الگ، عربی سوم کے الگ الی آخرہ، بلکہ مطلق علم حاصل کرنے کے فضائل بیان کئے جاتے ہیں، اسی طرح خانقاہ میں ہر مجلس کی الگ کوئی فضیلت نہیں ہوتی بلکہ مطلق اصلاح نفس کی فضلیت بیان کی جاتی ہے، اور وہ بھی مدارس اور خانقاہ میں لانے کے لئے فضیلت بیان کی جاتی ہے، جب کوئی مدارس و خانقاہ میں آجائے پھر فضائل بیان نہیں کئے جاتے بلکہ علم دیا جاتا ہے اور اصلاح نفس کے گُر سیکھائے جاتے ہیں۔

تبلیغ جماعت میں ہر نظام کی الگ فضیلت اور الگ تقدیس ہوتی ہے، گشت کی الگ فضیلت، مشورہ کی الگ، تعلیم کی الگ، ہفتہ واری قیام کی الگ اور سہ روزہ کی الگ چلہ چار ماہ کا تو کیا پوچھنا، ہا البتہ کبھی کبھار چلہ چار ماہ جہاد اصغر ہوجاتا ہے اور مقامی اعمال جہاد اکبر،،،، حالانکہ انتظامی امور جو ایجادِ بندہ ہو اس پر کوئی فضیلت نہیں ہوتی، اور اگر بالافرض فضیلت ثابت بھی ہو تو وہ ان اعمال میں شرکت کروانے سے پہلے ہوتی ہے اور جب کوئی اس میں شرکت کرلے تو پھر مقصد کی بات ہونی چاہئے لیکن تبلیغی مجلس میں شروع میں چند ایمان کی باتیں بتانے کے بعد پھر وہی دعوت، دعوت اور دعوت یعنی الیاسی تحریک کے انتظامی امور کے گُن گائے جاتے ہیں، اسے کہتے ہیں *اسباب کو مقاصد کا جامہ پہنانا۔*

ایک طرف تو دنیوی اسباب کا انکار تو دوسری طرف اپنے ہی بنائے ہوئے اسباب کے نعرے کہ ساری دنیا کا باطل اسی اسباب سے ٹوٹے گا اور یہ اسباب ختم نبوت کے طفیل میں ملے ہیں، ان اسباب کی وجہ سے خیرِ امت کا لقب ملا ہے وغیرہ،،، وغیرہ۔

جب اسباب کو مقاصد بنا لیا جائے اور غیر منصوص کا منصوصات کا درجہ دے دیا جائے اور غیر مشروع کو مشروع قرار دیا جائے تو وہ اسباب من احدث فی امرنا ھذا ما لیس منہ فھو رد ( الحدیث) کے تحت بدعت ہے بدعت ہے بدعت ہے۔