مشاہير اسلام
شیخ مرابط الحاج ،ایک صحرائی درویش
سيد سعد عبداللہ
1977ء کی بات ہے۔ امریکی ریاست کیلیفورنیا میں ایک سترہ سالہ نوجوان، مارک ہینسن، ایک خوفناک کار حادثے میں بمشکل زندہ بچا۔ موت کے اتنے قریب سے گزرنے کے بعد اس کے ذہن میں صرف ایک سوال گھومتا رہا: "اگر میں مر جاتا تو کیا ہوتا؟" چھ مہینے تک وہ اسی سوال میں الجھا رہا، پھر ایک دن اس کے ہاتھ قرآن آ گیا۔ اسی کتاب نے اسے وہ راستہ دکھایا جس کی تلاش میں وہ تھا۔ چند مہینوں بعد، اٹھارہ سال کی عمر میں، مارک ہینسن نے اسلام قبول کر لیا اور "حمزہ یوسف" بن گیا۔
اسلام قبول کرنے کے بعد حمزہ یوسف کو ایک عجیب خواب آنے لگا — ایک نورانی چہرے والے بزرگ کا، پُرسکون اور باوقار، جن کی آنکھوں میں ایسی روشنی تھی جو دنیاوی نہیں لگتی تھی۔ خواب ختم ہو جاتا، مگر وہ چہرہ دل سے محو نہ ہوتا۔ حمزہ یوسف کے دل میں شدت سے خواہش پیدا ہوئی کہ کاش وہ اس بزرگ سے کسی طرح مل سکیں۔
اسی عرصے کے دوران وہ دین کا علم حاصل کرنے کی جستجو میں امریکہ سے باہر نکل کھڑے ہوئے — پہلے برطانیہ، پھر متحدہ عرب امارات، جہاں وہ چار سال ایک مسجد میں امام اور مؤذن رہے۔ پھر الجزائر، مراکش، اور اسپین کا رخ کیا۔ ہر جگہ کچھ نہ کچھ علم ملا، مگر دل کا اطمینان کہیں نہ ملا۔ کوئی جگہ ایسی نہ تھی جہاں وہ زیادہ عرصہ ٹھہر سکیں ۔
اسی سفر کے دوران متحدہ عرب امارات میں حمزہ یوسف کی ملاقات شیخ عبدالرحمٰن سے ہوئی۔ باتوں باتوں میں شیخ عبدالرحمٰن نے اپنے والد کا ذکر چھیڑا — بتایا کہ وہ موریطانیہ کے دور دراز صحرا میں رہتے ہیں، اور طالبعلموں کو دینی و روحانی تعلیم دیتے ہیں۔ حمزہ یوسف نے یہ سنتے ہی بے چینی سے ان سے ملنے کی خواہش ظاہر کی۔شیخ عبدالرحمٰن انہیں ساتھ لے کر موریطانیہ روانہ ہوئے۔ دارالحکومت نواکشاٹ سے آگے کا سفر کٹھن تھا — ٹرک پر کئی سو کلومیٹر خشک صحرا، پھر اونٹوں پر باقی راستہ۔ آخرکار وہ توامرات پہنچے، ایک ایسا گاؤں جہاں وقت جیسے تھم گیا ہو۔حمزہ یوسف خیمے کے اندر داخل ہوئے۔ نظر اٹھی تو ایک بوڑھے، خیمہ نشین بزرگ پر پڑی — اور وہ ہکا بکا رہ گئے۔ یہ وہی چہرہ تھا، وہی نور، جو انہوں نے مہینوں پہلے خواب میں دیکھا تھا۔ جس بزرگ کی تلاش میں وہ نہ جانے کتنے شہروں اور صحراؤں سے گزرے تھے، وہ آج ان کے سامنے، اسی خیمے میں بیٹھا تھا۔ یہ شیخ مرابط الحاج تھے۔
شیخ مرابط الحاج کا اصل نام سیدی محمد بن سالک بن فحفو تھا۔ بچپن ہی سے ان کی لگن حیران کن تھی: رات کو جاگتے رہنے کے لیے وہ چھت کے کنارے بیٹھ کر صحرا کی سرد ہوا اپنے چہرے پر پڑنے دیتے، تاکہ نیند نہ آئے اور مطالعہ جاری رہے۔ انیس سال کی عمر میں انہوں نے پیدل حج کا سفر شروع کیا — اپنی والدہ سے وعدہ لے کر کہ وہ ضرور واپس آئیں گے۔ یہ سفر تین سال پر محیط تھا: مالی، نائجر، چاڈ اور سوڈان کے بیابانوں سے گزرتے ہوئے، پھر کشتی کے ذریعے یمن، اور بالآخر مکہ۔ مکہ میں انہیں تدریس کی پیشکش ہوئی، مگر انہوں نے یہ سوچ کر انکار کر دیا کہ اپنی والدہ سے واپس آنے کا وعدہ کیا تھا ، وہ پیدل ہی موریطانیہ واپس لوٹ آئے۔ اسی سفر کی وجہ سے انہیں "مرابط الحاج" کا لقب ملا۔
باقی زندگی — تقریباً اسی سال — انہوں نے اسی بے نظیر زہد کے ساتھ اسی صحرا اور اسی خیمے میں گزار دی۔ رات ڈھائی بجے تہجد کے لیے بیدار ہونا، قرآن کی تلاوت کرتے ہوئے آنسو بہانا، فجر کی اذان خود دینا، اور دن بھر شاگردوں کو قرآن، حدیث، فقہ، منطق، نحو اور بلاغت پڑھانا — یہی ان کا معمول تھا، برسوں تک۔
حمزہ یوسف اسی خیمے میں رہ کر برسوں شیخ مرابط الحاج سے علم حاصل کرتے رہے۔ بعد میں انہوں نے اپنے استاد کے بارے میں لکھا: "میں نے اس سے پہلے یا بعد میں کبھی ایسا انسان نہیں دیکھا۔ وہ نماز میں اپنی مکمل ذات اللہ کے حوالے کر دیتے ہیں، سبق میں اپنی مکمل ذات علم کے حوالے کر دیتے ہیں، اور مہمان کے پاس اپنی مکمل ذات مہمان کے حوالے کر دیتے ہیں۔"
یہ وہی مرابط الحاج تھے جنہوں نے ہزاروں شاگرد تیار کیے — مگر، اگر حمزہ یوسف انہیں ڈھونڈنے صحرا نہ آتے، تو شاید یہ عظیم عالم و زاہد پوری زندگی دنیا سے پوشیدہ ہی رہتے۔ 2018ء میں، 105 سال کی عمر میں، شیخ مرابط الحاج کا انتقال ہوا۔ 2016ء میں انہیں دنیا کے "500 بااثر ترین مسلمانوں" کی فہرست میں بھی شامل کیا گیا تھا — ایک ایسا اعزاز جو انہیں اس صحرائی خیمے سے باہر نکلے بغیر ہی مل گیا ۔
حمزہ یوسف نے یہ سارا دینی و روحانی علم لے کر امریکہ کا رخ کیا اور 1996ء میں انہوں نے کیلیفورنیا میں زیتونہ انسٹی ٹیوٹ کی بنیاد رکھی، جو دراصل قرآن و سنت کے علاوہ جدید علوم سے آراستہ ایک ماڈرن مدرسہ تھا ۔ 2010ء میں اس کو امریکہ کے پہلے باقاعدہ تصدیق شدہ مسلم لبرل آرٹس کالج کی حیثیت مل گئ جہاں بیچلر اور ماسٹرز کے کورسز پڑھائے جاتے ہیں۔
حمزہ یوسف صرف ایک استاد اور عالم نہیں بلکے غیر مسلم دنیا میں دین اسلام کے سب سے بڑے مبلغ ، داعی اور سفیر ہیں۔ جن کے ہاتھ پر بلاشبہ ہزاروں مغربی باشندوں نے اسلام قبول کیا ۔
قدرت کا کھیل دیکھیں وہی مارک ہینسن، جو کبھی ایک کار حادثے سے بچ کر زندگی کے معنی تلاش کر رہا تھا، اب مغربی دنیا کا سب سے بااثر مسلمان عالم شمار ہوتا ہے ۔
ایک خواب نے ایک امریکی نوجوان کو صحرا کے اس گمنام کونے تک پہنچا دیا جہاں شاید کوئی اور کبھی نہ پہنچتا — اور وہی خیمہ آج ہزاروں میل دور، مغربی دنیا کے دلوں تک اسلام کی روشنی پہنچا رہا ہے۔سبحان ربي الاعلى!