جنریشن زی اور ہم

مصنف : نعمان علی اعوان

سلسلہ : فکر و نظر

شمارہ : جون 2026

فكر ونظر

جنریشن زی اور ہم

نعمان علی اعوان

فاسٹ یونیورسٹی میں سمسٹر کی آخری کلاس تھی۔ پڑھائی ختم ہو چکی تھی اور سارے اسٹوڈنٹس فیئر ویل کی تصویریں بنا رہے تھے۔ ایک لڑکا میرے پاس آیا اور کہنے لگا، سر میں آپ سے کلاس سے باہر جا کر ایک بات کرنا چاہتا ہوں۔کلاس ختم ہوئی تو ہم باہر آ گئے۔اس نے کہا، سر پچھلی کلاس میں ہمارے ایک ٹیچر جذباتی ہو گئے تھے۔ وہ کہہ رہے تھے کہ آپ لوگ ہمیں وہ عزت نہیں دیتے جو ہم اپنے وقت میں اپنے استادوں کو دیا کرتے تھے۔پھر اس نے کہا، سر اگر مجھ سے بھی کبھی کوئی غلطی ہوئی ہو یا میں نے کبھی بے ادبی کی ہو تو میں اس پر معذرت چاہتا ہوں۔میں نے اس کا شکریہ ادا کیا اور کہا، نہیں بیٹا، ایسی کوئی بات نہیں ہے۔ آپ سب بہت اچھے ہیں۔ بس فرق یہ ہے کہ آپ کی اور ہماری جنریشن میں بہت فرق آ چکا ہے۔ میں ان چیزوں کو سمجھتا ہوں، اس لیے مجھے آپ لوگوں سے کوئی گلا نہیں۔اس دن گھر آ کر میں کافی دیر تک اسی بات پر سوچتا رہا۔

واقعی فرق تو ہے۔ہم جس طرح اپنے استادوں کی عزت کرتے تھے، یہ نسل شاید اس طرح نہیں کرتی۔ لیکن پھر میں نے سوچا کہ آخر ایسا کیوں ہے؟

پھر میں نے اس generation gap پر کافی غور کیا، کچھ چیزیں observe کیں، کچھ research کی، اور یہ چند باتیں سمجھ آئیں۔

ہو سکتا ہے آپ ان سے اتفاق کریں یا نہ کریں، لیکن اگر غور سے پڑھیں گے تو شاید سمجھ آئے کہ مسئلہ بدتمیزی کا نہیں، بلکہ وقت اور ماحول کے بدلنے کا ہے۔

ہم اپنے والدین سے ڈرا کرتے تھے۔یہ اپنے والدین سے ڈرتے کم ہیں، انہیں convince زیادہ کر لیتے ہیں۔

ہم استاد کے سامنے نظریں نیچی رکھ کر بیٹھتے تھے۔یہ استاد سے debate بھی کر لیتے ہیں اور سوال بھی کھل کر کرتے ہیں۔

ہمیں کوئی بات سمجھ نہ آتی تو لائبریری جانا پڑتا تھا۔ان کے ہاتھ میں موبائل ہے، جواب چند سیکنڈ میں سامنے آ جاتا ہے۔ہمارے وقت میں انٹرنیٹ تھا، لیکن ہر کسی کی پہنچ میں نہیں تھا۔ان کی پوری زندگی انٹرنیٹ کے اندر چل رہی ہے۔

ہم ایک skill سیکھنے میں کئی کئی سال لگا دیتے تھے۔یہ چند مہینوں میں نئی skill سیکھ کر freelancing بھی شروع کر دیتے ہیں۔

ہم غلطی سے ڈرتے تھے۔یہ try کرنے سے نہیں ڈرتے۔

ہمیں نوکری چاہیے ہوتی تھی۔یہ freedom چاہتے ہیں۔

ہم خاموشی کو ادب سمجھتے تھے۔یہ اظہار کو confidence سمجھتے ہیں۔

ہمیں “لوگ کیا کہیں گے” سکھایا گیا تھا۔انہیں “تم جو چاہو کر سکتے ہو” سکھایا گیا ہے۔

ہم ایک ہی profession میں پوری زندگی گزار دیتے تھے۔یہ ہر چند سال بعد اپنا راستہ بدلنے سے بھی نہیں گھبراتے۔

ہمیں اپنے بڑوں کے سامنے بولنے سے پہلے بھی سوچنا پڑتا تھا۔یہ اپنی بات openly کہنے پر یقین رکھتے ہیں۔

ہم emotional باتیں دل میں رکھتے تھے۔یہ anxiety، stress اور depression تک openly discuss کرتے ہیں۔

ہمیں انتظار کی عادت تھی۔یہ instant results کی دنیا میں بڑے ہوئے ہیں۔

ہم خط لکھتے تھے۔یہ voice note بھی لمبا ہو تو skip کر دیتے ہیں۔

ہمیں عزت اکثر خوف سے سکھائی گئی تھی۔یہ respect کو دو طرفہ چیز سمجھتے ہیں۔

لیکن ایک بات ماننی پڑے گی۔اس نسل میں confidence بہت ہے۔

یہ risk لینے سے نہیں ڈرتی۔یہ نئی چیزیں جلد سیکھتی ہے۔یہ technology کو ہم سے کئی گنا بہتر سمجھتی ہے۔اور شاید اسی لیے دنیا بہت تیزی سے بدل رہی ہے۔

لیکن ایک چیز جو شاید ہمارے اندر زیادہ تھی، وہ صبر تھا۔انتظار کا صبر۔ناکامی برداشت کرنے کا صبر۔ایک چیز کے پیچھے سالوں لگے رہنے کا صبر۔ان کے پاس رفتار ہے۔ہمارے پاس ٹھہراؤ تھا۔اور سچ پوچھیں تو آج کی دنیا کو دونوں چیزوں کی ضرورت ہے۔رفتار بھی۔اور صبر بھی۔سوال یہ نہیں کہ کون بہتر ہے۔سوال یہ ہے کہ کیا ہم دونوں ایک دوسرے سے کچھ سیکھ سکتے ہیں؟