فكر ونظر
تحریکیں اپنوں کے ہاتھوں کیسے مرتی ہیں؟
صدر الدين اصلاحی
مولانا صدر الدین اصلاحیؒ کی شہرہ آفاق کتاب "راہِ حق کے مہلک خطرے" سے ماخوذ ایک خاکہ
تاریخ کا ایک تلخ ترین سچ یہ ہے کہ حق کی علمبردار تحریکیں اور نظریاتی جماعتیں کبھی بیرونی دشمنوں کی سازشوں، جیلوں، یا جبر سے ختم نہیں ہوتیں۔ طاغوت کے وار تو ہمیشہ تحریکوں کے لیے کھاد کا کام کرتے ہیں۔ ایک تحریک دراصل تب مرتی ہے جب اس کے اندرونی ڈھانچے میں زوال آتا ہے، جب اس کے کارکنان اور رہنما لاشعوری طور پر ایسے راستوں پر چل پڑتے ہیں جو بظاہر دین کے لگتے ہیں لیکن حقیقت میں وہ نفس کی پوجا ہوتے ہیں۔
مولانا صدر الدین اصلاحیؒ نے اپنی کتاب میں جس نفسیاتی اور روحانی زوال کی نشاندہی کی ہے، آج کے نوجوان کے لیے اسے سمجھنا زندگی اور موت کا مسئلہ ہے۔ یہ زوال اچانک نہیں آتا، بلکہ یہ ایک تسلسل (Chain Reaction) ہے، جس میں ایک خامی منطقی طور پر دوسری خامی کو جنم دیتی ہے، اور بالآخر پوری تحریک تباہی کے گڑھے میں گر جاتی ہے۔آئیے اس زنجیر کی کڑیوں کو جوڑ کر دیکھتے ہیں کہ ایک تحریک کیسے اپنے ہی ہاتھوں خودکشی کرتی ہے:
پہلی کڑی: نیت کی موت (نمود و نمائش)
خرابی کی شروعات وہاں سے ہوتی ہے جب سفر کا رخ اللہ سے ہٹ کر اپنی ذات کی طرف مڑ جائے۔جب کوئی نوجوان دین کا کام شروع کرتا ہے تو ابتدا میں جذبہ خالص ہوتا ہے۔ لیکن آہستہ آہستہ شیطان ایک خاموش وار کرتا ہے۔ اقامتِ دین اور اللہ کی رضا کا مقصد پیچھے رہ جاتا ہے اور اس کی جگہ ذاتی شہرت، عہدے کی خواہش، اسٹیج کی چمک، اور میڈیا پر "واہ واہ" لینے کی طلب لے لیتی ہے۔ بظاہر نعرے اسلام کے لگ رہے ہوتے ہیں، لیکن لاشعور میں انسان یہ چاہ رہا ہوتا ہے کہ "دین کا غلبہ ہو، مگر میرے اور میری جماعت کے ذریعے"۔ یہیں سے تحریک کی بنیادوں میں دیمک لگنا شروع ہو جاتی ہے کیونکہ اللہ اس کام میں کبھی برکت نہیں ڈالتا جس میں اس کے ساتھ کسی اور کی (یا اپنی ذات کی) شراکت کی گئی ہو۔
دوسری کڑی: علم سے فرار، جذبات کا بخار
جب نیت میں کھوٹ آتا ہے، تو علم حاصل کرنا بوجھ لگنے لگتا ہے۔یہ پہلی کڑی کا براہِ راست نتیجہ ہے۔ جب مقصد صرف لوگوں کو متاثر کرنا یا سستی شہرت حاصل کرنا ہو، تو راتوں کو جاگ کر قرآن، حدیث، تاریخ اور فلسفے کا گہرا مطالعہ کون کرے؟ علم محنت مانگتا ہے، جبکہ جذباتیت بہت سستا سودا ہے۔ لہٰذا، کارکنان مطالعے سے کٹ جاتے ہیں اور ان کی جگہ کھوکھلے نعرے، جذباتی تقریریں اور سطحی سوچ لے لیتی ہے۔ تحریک ایک ایسا ہجوم بن جاتی ہے جس کے پاس چلنے کا جوش تو ہوتا ہے لیکن راستے کا شعور نہیں ہوتا۔
تیسری کڑی: شخصیت پرستی (لیڈر کی اندھی تقلید)
علم سے خالی ہجوم ہمیشہ کسی نہ کسی کی اندھی عقیدت کا شکار ہوتا ہے۔جب کارکنان کے پاس اپنا علم، بصیرت اور سوچنے سمجھنے کی صلاحیت ختم ہو جاتی ہے، تو وہ حق اور باطل کا فیصلہ دلیل کے بجائے "شخصیات" کی بنیاد پر کرنے لگتے ہیں۔ جو بات ان کا لیڈر کہہ دے، وہی دین بن جاتی ہے۔ لیڈر کی ہر غلطی کے لیے تاویلیں تراشی جاتی ہیں اور اسے "حکمتِ عملی" کا نام دیا جاتا ہے۔ اگر کوئی لیڈر پر تنقید کرے تو اسے دین پر حملہ سمجھا جاتا ہے۔ یہاں آکر تحریک ایک نظریاتی کارواں کے بجائے ایک "شخصی فرقے" (Cult) میں تبدیل ہو جاتی ہے۔
چوتھی کڑی: دین کا من پسند تصور
شخصیت پرستی انسان کی سوچ کو محدود کر دیتی ہے اور دین کا توازن بگڑ جاتا ہے۔چونکہ لیڈر اور اس کی جماعت بہرحال انسان ہیں، ان میں خامیاں ہوتی ہیں۔ اپنی جماعت اور لیڈر کے مزاج کو درست ثابت کرنے کے لیے، یہ لوگ دین کے مکمل اور وسیع تصور کو کاٹ چھانٹ کر چھوٹا کر دیتے ہیں۔ وہ دین کے صرف اسی حصے کو مانتے اور پھیلاتے ہیں جو ان کی جماعت کے سانچے میں فٹ بیٹھتا ہو۔ اگر جماعت کا مزاج صرف سیاسی ہے، تو وہ عبادات اور روحانیت کو حقیر سمجھیں گے۔ اگر جماعت کا مزاج صرف تبلیغی ہے، تو وہ معاشرتی ظلم پر خاموش رہیں گے۔ یوں دین کا ایک ادھورا اور مسخ شدہ تصور جنم لیتا ہے۔
پانچویں کڑی: گروہی تعصب
دین کا یہ ادھورا تصور انسان کو متکبر اور متعصب بنا دیتا ہے۔جب ایک کارکن اپنے بنائے ہوئے محدود دین کو ہی "مکمل اور خالص حق" سمجھ لیتا ہے، تو اسے اپنے دائرے سے باہر ہر شخص گمراہ نظر آنے لگتا ہے۔ وہ یہ سمجھ بیٹھتا ہے کہ حق صرف ہماری جماعت کے پاس ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ دوسری اسلامی تحریکوں اور جماعتوں کے لیے دل میں بغض اور نفرت پیدا ہو جاتی ہے۔ کفر سے لڑنے کے بجائے ساری توانائیاں اپنے ہی مسلمان بھائیوں کو نیچا دکھانے، ان پر فتوے لگانے اور انہیں غلط ثابت کرنے میں صرف ہونے لگتی ہیں۔
چھٹی کڑی: انا کی پوجا (آزادیِ رائے کا فتنہ)
گروہی تعصب اور تکبر کی آخری منزل اپنی ذات (انا) کی پوجا ہے۔یہ زنجیر کی وہ آخری کڑی ہے جو تحریک کا شیرازہ مکمل طور پر بکھیر دیتی ہے۔ جس کارکن کی تربیت نمود و نمائش، جذباتیت اور تعصب پر ہوئی ہو، وہ بالآخر اپنی تنظیم کے لیے بھی خطرہ بن جاتا ہے۔ جب کبھی اجتماعی فورم پر اس کی رائے کو رد کیا جاتا ہے، تو اس کی پھولی ہوئی "انا" اسے برداشت نہیں کر پاتی۔ وہ نظمِ اجتماعی کی اطاعت کے بجائے "آزادیِ رائے" اور "حق گوئی" کے نام پر بغاوت کر دیتا ہے۔ وہ اپنی رائے کو وحی کا درجہ دے کر جماعت کے ٹکڑے کر دیتا ہے۔ اور یوں وہ تحریک جو دنیا بدلنے چلی تھی، اپنے ہی کارکنوں کی انا کا قبرستان بن جاتی ہے۔
حرفِ آخر (نتیجہ)
مولانا صدر الدین اصلاحیؒ کی اس چشم کشا تحریر کا خلاصہ یہ ہے کہ حق کی راہ پر چلنے والوں کو طاغوت سے زیادہ اپنے "نفس کی چالوں" سے ڈرنا چاہیے۔آج کے نوجوان کو یہ سمجھنا ہوگا کہ کی بورڈ پر جذباتی نعرے مارنا، اپنے لیڈر کو دیوتا بنا لینا، اور دوسروں کو گمراہ سمجھنا کوئی انقلاب نہیں، بلکہ یہ ایک نفسیاتی بیماری ہے۔ ایک حقیقی اور کامیاب تحریک صرف اسی صورت میں زندہ رہ سکتی ہے جب اس کا ہر کارکن اپنی نیت کو خالص رکھے، جذبات کے بجائے علم سے روشنی لے، شخصیات کے بجائے اصولوں کا وفادار ہو، اور اپنی انا کو اجتماعیت کے قدموں میں ذبح کرنا جانتا ہو۔جس دن ہم نے اپنے اندر کے ان چھ بتوں کو توڑ دیا، اس دن بیرونی فرعونوں کو گرنے میں دیر نہیں لگے گی۔