سیکس اور پدرشاہی معاشرہ

مصنف : ناديہ زيد

سلسلہ : فکر و نظر

شمارہ : جون 2026

فكر ونظر

سیکس اور پدرشاہی معاشرہ

ناديہ زيد

ایک عورت کا سماجیاتی زاویۂ نظر، جو سطروں کے بیچ بھی پڑھتی ہے۔

(یہ تحریر جنس، قربت اور ازدواجی تعلق کو اس تناظر میں سمجھنے کی ایک کوشش ہے کہ ہمارے معاشرے میں سیکس کو کس طرح دیکھا، سمجھا اور برتا جاتا ہے، اور اسے کس طرح سمجھا و برتا جانا چاہیے۔

یہ مرد بیزاری پر مبنی تحریر نہیں نہ ہی اس کا مقصد کسی فردِ واحد یا کسی خاص رشتے پر تنقید ہے۔ ایک دہائی پر مشتمل خوشحال ازدواجی زندگی گزارنے والی ایک عورت، بطورِ سوشیالوجسٹ، اپنے معاشرے کے رویّوں، زبان، نفسیات، طاقت کے ڈھانچوں اور سیکس کے گرد بنائی گئی اجتماعی conditioning کو سمجھنے اور بیان کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اس تحریر کے بہت سے مشاہدات برسوں کے observation، کئی شادی شدہ عورتوں سے ہونے والی گفتگو، اور سینکڑوں ازدواجی زندگیوں کو عورتوں کے perspective سے سننے، سمجھنے اور analyze کرنے کے بعد وجود میں آئے ہیں۔

لہٰذا اس تحریر کو میری ذات، کردار یا نجی زندگی کے بجائے ایک عورت کے perspective، ایک سماجی observation، اور ایک انسانی سوال کے طور پر پڑھا  اورسمجھا جائے-

پرسوں تاش کے پتوں پر مزاح پر لکھی گئی ایک پوسٹ نظر سے گزری جس میں بادشاہ کو ملکہ پر الٹا کر کے رکھ دینے کو جنسی عمل سے تشبیہ دی گئی تھی۔ یہ تحریر ہرگز اس پوسٹ کا جواب نہیں، البتہ اس پوسٹ نے میرے ذہن میں کئی پرانے سوال دوبارہ زندہ کر دیے۔ اس میں کھیلنے والوں کے تاثرات اور ردِعمل بیان کیے گئے تھے، اور شاید وہیں سے میرے ذہن کی ایک گتھی سلجھنے لگی۔

میں نے سوچا کہ ہمارے معاشرے میں مرد اس حد تک عورت کو اپنی ملکیت سمجھ کر اس پر اختیار رکھنے کے عادی ہو چکے ہیں کہ تاش کے پتوں میں بھی “ملکہ” کو ملکیت اور عزت کے ساتھ جوڑ دیتے ہیں۔ ایک بظاہر معمولی سا مذاق، قربت کے ایک انسانی لمحے کو طاقت، غلبے اور بےعزتی کے کھیل میں بدل دیتا ہے۔ تب مجھے شدت سے احساس ہوا کہ ہمارے یہاں مرد اور عورت کی قربت کو ایک خوبصورت انسانی تعلق کے طور پر نہیں دیکھا جاتا، بلکہ ایک ایسی درجہ بندی کے طور پر دیکھا جاتا ہے جہاں محبت، جسمانی تعلق اور انسانی قربت کو صرف عزت، غیرت، طاقت اور شرمندگی کے لینز سے سمجھی جاتی ہے۔میرا ماننا ہے کہ اگر بادشاہ کا ملکہ پر لیٹنا ملکہ کی توہین ہے، اور گولے پر لیٹنا گولے کی توہین، تو پھر شرمندگی اور غلاظت ملکہ اور گولے کے حصے میں کیوں آئے؟ اگر قربت بذاتِ خود اتنی ناپاک اور تذلیل آمیز شے ہے تو شاید شرمندگی بادشاہ کے حصے میں آنی چاہیے، جو اپنی طاقت کے زعم میں خود فاعل ہے اور دوسروں کو “کمتر” بنا دینے کا دعویٰ کرتا ہے۔ میرے نزدیک مسئلہ ملکہ یا گولا نہیں، بلکہ وہ ذہنیت ہے جو قربت کو محبت کے بجائے تسلط سمجھتی ہے۔

بظاہر یہ ایک معصومانہ سی نوک جھونک معلوم ہوتی ہے، مگر اس کے پیچھے ایک پوری سماجی نفسیات کارفرما ہے، جسے محض “مزاح” کہہ کر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ ہمارے یہاں عورت ایک مکمل انسان کے بجائے مرد کی غیرت، ملکیت اور سماجی حیثیت کی علامت بن چکی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب ایک مرد دوسرے مرد کو نیچا دکھانا چاہتا ہے تو اس کی ماں، بہن، بیوی یا بیٹی کے جسم کا حوالہ دے کر اسے ذلیل کرتا ہے، جبکہ جب وہ اپنے غلبے اور مردانگی کا اظہار کرنا چاہتا ہے تو اپنے عضوِ تناسل کی بڑائی بیان کرتا ہے۔ گویا عورت کا جسم باعثِ شرم، اور مرد کا جسم باعثِ فخر ٹھہرا۔

جنوبی ایشیائی معاشروں، خصوصاً پاکستان، ہندوستان اور افغانستان جیسے ممالک میں جنسیت کو عورت اور مرد کے لیے ایک جیسا نہیں دیکھا جاتا۔ یہاں مرد کی جنسیت کو طاقت، مردانگی، غلبے اور فخر کے ساتھ جوڑا جاتا ہے، جبکہ عورت کی جنسیت کو شرم، اخلاق، کنٹرول اور خاندانی عزت کا مسئلہ بنا دیا جاتا ہے۔ یہ فرق اس قدر گہرا ہے کہ روزمرہ زبان، لطیفوں، گالیوں، محاوروں اور عمومی رویّوں میں سرایت کر چکا ہے۔

یہاں عورت کا جسم ایک علامتی ملکیت ہے جس کے ذریعے مرد کی عزت ناپی جاتی ہے۔ مرد کی توہین کے لیے عورت کی جنسیت کو ہتھیار بنایا جاتا ہے، اور یوں خاندان کی عزت کا بوجھ عورت کے جسم پر ڈال کر مرد کو محافظ اور نگران کے منصب پر فائز کر دیا جاتا ہے۔ مگر شاید کسی نے یہ سوال کم ہی اٹھایا کہ اس پورے نظام سے عورت کو آخر ملا کیا؟ یہ مسئلہ اس نے پیدا نہیں کیا، اس سے اسے صرف نقصان پہنچا ہے۔

نفسیاتی طور پر اس کے عورتوں پر بہت گہرے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ اس کو سمجھنے کے لیے نسائی نفسیات میں شامل Objectification Theory کو جاننا ضروری ہے۔ اس نظریے کے مطابق جب عورت کو مسلسل اس کے جسم، ظاہری حسن اور جنسی قدر کے ذریعے دیکھا جائے، یا یوں کہیے کہ اسے ایک مکمل انسان کے بجائے صرف جسم سمجھا جائے، تو رفتہ رفتہ وہ خود بھی اپنے آپ کو ایک انسان کے بجائے ایک object سمجھنے لگتی ہے۔ پھر وہ اپنے جسم کو مسلسل مانیٹر کرتی ہے، جانچتی ہے، شرمندگی اور خاموشی کے ساتھ جینے لگتی ہے۔ اس کیفیت کو self-objectification کہا جاتا ہے، اور نفسیاتی تحقیق اسے اضطراب، شرمندگی، جسمانی عدم اطمینان، ذہنی دباؤ، جنسی بےحسی اور اپنی خواہشات سے کٹ جانے سے جوڑتی ہے۔ہمارے یہاں یہ کنڈیشننگ جسے آپ تربیت کہہ سکتے ہیں بچپن سے شروع ہو جاتی ہے۔ لڑکیوں کو یہ سکھایا جاتا ہے کہ حیا کا مطلب اپنے جسم، جذبات اور خواہشات کے متعلق اس حد تک خاموشی اختیار کرنا ہے کہ جنسیت ایک انسانی تجربے کے بجائے شرمناک اور خطرناک شے بن جائے۔ اس کے برعکس لڑکوں کو بتایا جاتا ہے کہ خواہش فطری ہے، بلکہ مردانگی کا لازمی حصہ ہے۔ نتیجتاً عورتیں آہستہ آہستہ یہ ماننے لگتی ہیں کہ قربت دراصل مرد کی ضرورت ہے، صرف مرد کی ضرورت۔

کچھ عرصہ پہلے دو پاکستانی خواتین نے مختلف اوقات میں مجھ سے ایسی بات کہی جو تب سے میرے ذہن میں گردش کر رہی ہے۔ دونوں شادی شدہ تھیں، جوان تھیں، صحت مند دکھائی دیتی تھیں، اور دونوں نے تقریباً ایک جیسی بات مختلف لفظوں میں کہی:"میں نے اپنے شوہر سے کہا کہ مجھ سے تعلق قائم کرنے سے پہلے مجھے کوئی بےہوشی کی دوا دے دو، پھر جو چاہو کر لو، ویسے میرا بالکل دل نہیں چاہتا۔"

بظاہر وہ یہ بات بہت نارمل انداز میں کہہ رہی تھیں۔ ان میں سے ایک تو ہنس بھی رہی تھی۔ مگر اس جملے نے مجھے اندر تک ہلا دیا۔ انسان کس حد تک اپنے جسم اور اپنی خواہش سے کٹ سکتا ہے؟ اس سے بھی زیادہ تکلیف دہ بات یہ تھی کہ وہ اسے ایک عام، مانوس اور قابلِ قبول حقیقت سمجھ رہی تھیں۔

لوگ اسے صرف “خواہش کی کمی” کہہ کر آگے بڑھ جائیں گے، مگر اگر غور کیا جائے تو ایک انسان جو قربت سے بچنے کے لیے بےہوشی چاہ رہا ہو، یقیناً اندر سے شدید ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوتا ہے۔ وہاں emotional presence، empathy، agency، dignity اور باہمی قرب کی خواہش جیسے بنیادی عناصر ختم ہو چکے ہوتے ہیں۔

یہاں subject VS object کا تصور سمجھنا ضروری ہے۔ پدرشاہی معاشروں میں عورت کو قربت کے دوران subject یعنی ایک فعال انسان نہیں بنایا جاتا، بلکہ ایک object بنا کر subject کی خدمت میں پیش کیا جاتا ہے۔ عورتوں کی تربیت انہیں خاموش، شرمندہ، suppressed اور sexually passive تو بنا دیتی ہے، مگر اس کے ساتھ ان کی جنسی نفسیات کو بھی تباہ کر دیتی ہے۔

اسی لیے ہمیں جا بجا ایسی بیویاں نظر آتی ہیں جو emotionally numb، almost asexual اور زندہ لاشوں کی طرح محسوس ہوتی ہیں۔ اس لیے نہیں کہ وہ فطرتاً سرد ہیں، بلکہ اس لیے کہ مسلسل object بننا خواہش کو مار دیتا ہے۔

دوسری طرف مردوں کو بچپن سے یہ سکھایا جاتا ہے کہ مردانگی کا تعلق غلبے، sexual access اور احساس برتری سے ہے۔ نتیجتاً بہت سے مرد قربت کو emotional connection کے بجائے entitlement کے احساس سے دیکھتے ہیں۔ میں ہرگز یہ نہیں کہہ رہی کہ تمام مرد فطرتاً ظالم ہوتے ہیں، مگر ہاں، وہ ایک ایسے نظام کی پیداوار ضرور ہوتے ہیں جو دوہرے جنسی معیار اور طاقت کے عدم توازن پر کھڑا ہے۔

یہ عورتیں دراصل بےہوشی نہیں، فرار مانگ رہی ہوتی ہیں۔ ایک ایسے تعلق سے فرار جہاں ان کی خواہش، جذباتی موجودگی اور رضامندی کی اہمیت نہ ہو۔ صرف جسم کے طور پر چاہا جانا ایک ایسی تنہائی ہے جس کے لیے شاید ان کے پاس زبان نہیں۔ جہاں جسمانی خودمختاری، جنسی مرضی ختم ہو جائے، وہاں خواہش کیسے زندہ رہ سکتی ہے؟

اگر آپ نے Game of Thrones دیکھا ہو تو شاید آپ کو ڈینیریز ٹارگرین اور خال ڈروگو کا تعلق یاد ہو۔ شروع میں ڈینیریز ایک خوفزدہ، خاموش اور بےبس لڑکی کے طور پر دکھائی دیتی ہے۔ اس کا تعلق قربت سے زیادہ hierarchy کا تعلق محسوس ہوتا ہے۔ خال ڈروگو ایک طاقتور subject ہے، جبکہ ڈینیریز ایک ڈری سہمی اور خاموش object۔پھر ایک مرحلہ آتا ہے جب اس کی خادمہ ڈوریا اسے یہ سکھاتی ہے کہ قربت صرف مرد کے اختیار اور ملکیت کا نام نہیں، بلکہ عورت بھی اپنی خواہش، جسمانی خودمختاری اور طاقت رکھتی ہے۔ اور جب ڈینیریز پہلی بار اپنی مرضی اور خواہش کے ساتھ قربت experience کرتی ہے، تو ان کے تعلق کا emotional structure بدل جاتا ہے۔زے کی بات یہ ہے کہ ان دونوں کے درمیان زبان کی دیوار اب بھی موجود رہتی ہے، مگر تعلق بدل چکا ہوتا ہے۔ کیونکہ پہلی بار عورت قربت میں اپنی موجودگی درج کرواتی ہے۔اور یہی وہ نکتہ ہے جو ہمارے معاشرے سمجھنے سے انکار کرتے ہیں: حقیقی قربت صرف اسی وقت پیدا ہو سکتی ہے جب دونوں انسان ایک دوسرے کو مکمل انسان، مکمل subject کے طور پر دیکھیں۔ورنہ نتیجہ صرف عورتوں کے جسموں کا objectification نہیں، بلکہ مردوں سے بھی intimacy کی صلاحیت کا چھن جانا ہے۔ کیونکہ یہ نظام مردوں کو خواہش اور اختیار تو سکھاتا ہے، پر نرمی اور باہمی رضامندی کی ذمہ داری کے بغیر۔اور پھر یہی مرد تعلق میں ایسی overwhelming شدت اور entitlement لے کر آتے ہیں کہ عورت کی جسمانی خود مختاری اور جنسی مرضی کے لیے جگہ ہی باقی نہیں رہتی۔ جبکہ عورت کی خواہش کو space، emotional safety، trust اور recognition درکار ہوتی ہے۔

سچ یہ ہے کہ صحت مند شادی شدہ زندگی کے لیے عورت کو مکمل انسان ماننا پڑے گا۔ ایک ایسا انسان جو محض sexual object سے کہیں زیادہ ہے۔ جو قرب کے لمحات میں بھی اپنی agency، خواہش، طاقت اور اختیار رکھتی ہے۔

جدید نفسیات اور relationship research واضح طور پر ہمیں بتاتی ہے کہ صحت مند قربت کی بنیاد باہمی رضا مندی ، emotional safety، bodily autonomy اور برابری پر ہوتی ہے۔ یعنی ایسا تعلق جہاں مرد اور عورت دونوں مکمل subject ہوں۔اور یقین مانیے، کسی بھی شادی میں “شرافت” سے زیادہ بوریت والی چیز شاید کوئی نہیں۔ دنیا کے لیے ہم عورتیں پہلے ہی بہت شریف ہیں۔ شادی وہ ایک رشتہ ہونا چاہیے جہاں انسان اپنے مکمل وجود کے ساتھ زندہ ہو سکے، نہ کہ مزید suppress ہو جائے۔

میرے نزدیک اگر کوئی شوہر (شوہر اس لیے کہہ رہی ہوں کہ تھوڑی سی مذہبی bias بھی ہوں) آپ سے صرف object بننے کا تقاضا کرے، آپ کی agency کو دبا دے، آپ کی خواہش کو غیر ضروری سمجھے اور صرف اختیار چاہے، تو عورت کو کم از کم اپنی self-respect کا خیال ضرور کرنا چاہیے۔کیونکہ آپ کسی کی ملکیت نہیں ہیں،آپ کی خواہش شرم نہیں ہے، آپ کی agency بےحیائی نہیں ہے، یہ جسمانی تعلق کوئی duty نہیں اور سب سے بڑھ کر یہ کہ آپ صرف دوسروں کو راضی کرنے کے لیے پیدا نہیں ہوئی ہیں، آپ worthy ہیں۔ اور آپ اس سے کہیں بہتر تعلق کی مستحق ہیں، وہ تعلق جہاں شوہر آپ کو محض جسم نہیں، مکمل انسان سمجھے۔