فكر ونظر
اللہ كے قانون كی زد ميں
جان مينگل
بعض لوگ كہتے ہيں کہ ایران اور اسرائیل دونوں اللہ کی طرف سے اپنے کرتوتوں کی سزا بھگت رھے لیکن میں اس میں مزید اضافہ کرتا ھوں کہ امریکہ اور خلیجی ریاستیں بھی اللہ کے اس قانون کی زد میں ہیں جو قران واحادیث فی البدایہ والنہایہ بیان کی گئ ہیں۔
سب پہلے اسرائیل کو لیتے ہیں۔بنی اسرائیل کے متعلق اللہ تعالٰی نے قرآن میں اپنا فیصلہ صادر فرمایا ھے کہ ان پر قیامت تک چھوٹے بڑے عذاب آتے رھیں گے۔ قرآن نے اور پھر تاریخ نے اس پر مہر تصدیق ثبت کر دی ھے۔ اس پر مزید کچھ لکھنے کی ضرورت نہیں۔
اب آتے ہیں ایران کی طرف۔ایران نےانقلاب کے فوراً بعد اپنے انقلاب کو برآمد کرنے کا فیصلہ کرلیا۔سب سے پہلے اس نے یہ کام کیا کہ امریکہ کو شرق اوسط(مڈل ایسٹ)سے نکال باہر کیا جائے۔تاکہ بعد میں اس کو اپنے منصوبے پر عمل درآمد کرنے میں کوئی بڑی رکاوٹ کا سامنا نہ کرنا پڑے۔۔پہلا کام اس نے اپنے ھی ملک میں امریکی سفارتخانے پر قبضہ کر لیا جو ہر قسم کے اسلامی اور غیر اسلامی سفارتی آداب کے خلاف تھا۔یہ قبضہ اس نے ایک سال سے زیادہ عرصے تک (غالباً 444) دن تک برقرار رکھا۔پھر اس کے بعد بیروت میں بارود سے بھرا ٹرک امریکی سفارتخانے سے ٹكرا ديا جس میں 64 آدمی ھلاک ھو گئے۔ اس پر امریکہ کی جانب سے کوئ خاص ردعمل نہیں ھوا۔اس سے اس کے حوصلے بڑھ گئے اور اپنے منصوبے پر عملدرآمد کرنے کے شیعہ اکثریتی ملک عراق کے خلاف منصوبہ بندی شروع کی۔عراقی حکومت کو اس کا ادراک ھوا اور امریکی شہ پر اس نے ایران پر حملہ کیا۔یہ جنگ آٹھ سال تک جاری رھا جس میں ایران کے گیارہ لاکھ اور عراق کے آٹھ لاکھ آدمی ھلاک ھوئے اور دونوں جانب سے اربوں ڈالرز کے مال و متاع کا نقصان ھوا۔اس کے بعد اپنے پراکسیز بنائے،حزب اللہ بنایا۔حماس کو مسلح کیا۔عراق شام اور یمن میں پراکسیز بنائے اور پھر شام،عراق اور یمن میں جو قتل و غارتگری ھوئی وہ کل کی بات ہے جس میں لاکھوں لوگ ھلاک ھو گئے۔صرف شام کی فگر پندرہ لاکھ کے قریب ہے۔عراق اور یمن میں بھی ھلاک شدگان کی تعداد لاکھوں میں پہنچ گئی۔ایران کے IRGC کے سربراہ قاسم سلیمانی فخریہ کہتے تھے کہ چار دار الحکومتوں تہران(ایران)دمشق(شام )بغداد(عراق )اور صنعا(یمن)ھمارے قبضے میں ہیں اور یہ تعداد بہت جلد بڑھ جائے گی۔یاد رھےکہ انقلاب ایران کے بعد جماعت اسلامی کا ایک وفد اس وقت کے سابق امیر میاں طفیل محمد صاحب کی سربراہی میں امام خمینی کو مبارکباد دینے تہران چلے گيا۔میاں طفیل محمد نے اپنے ایک تحریر یا انٹرویو میں اس میٹنگ کا ذکر کرتے ھوئے کہاکہ میں نے امام خمینی سے پوچھا کہ آپ شام کے حافظ الاسد کی کیوں حمایت کر رھے ہیں جس نے ایک ھی شہر میں اخوان المسلمین کے تیس ہزار سے زائد آدمی مارے ہیں لیکن امام خمینی نے اس کا کوئی جواب نہیں دیا۔کچھ عرصہ کے بعد میاں طفیل صاحب کہتے تھے کہ میں ایران کے انقلاب سے نا امید ھو گیا ھوں یہ اسلامی انقلاب نہیں بلکہ شیعہ انقلاب ھے۔(یہ واقعہ کا ذکر جملہ معترضہ کے طور پر کیا گیا ھے )
اللہ تعالٰی اپنے سنت کے مطابق جب کوئ قوم ظلم اور سرکشی پر اتر جائے تو اللہ تعالٰی اس پر اپنے طاقتور بندے مسلط کر دیتا ھے جیسے سورہ بنی اسرائیل میں اس کا ذکر کیا گیا ھے۔بنی اسرائیل كو پہلے بخت نصر اور پھر ٹائٹس رومی کو حوالے کیا۔اسی طرح مسلمانوں كو چنگیز خان اور ھلاکو کے حوالہ کیا۔اس وقت لگتا ھے کہ ٹرمپ کو ھلاکو خان بنا کر بھیجا گیا ھے۔
امریکہ۔
اللہ تعالٰی کے اس قانون کے تحت جب ایک قوم بہت طاقتور ھوجاتئ ھے تو اللہ تعالٰی اس کو دوسری قوموں سے بدل دیتا ھے۔اس پر عمل درآمد شروع ھو چکا ھے۔جو کام سو سال میں ھوجانا تھا وہ ٹرمپ کی وجہ سے دس بیس سال میں ھو جائے گا۔اس پروسس پر عمل درآمد ھونے سے پہلے ان اقوام سے بڑی بڑی غلطیاں سرزد ھوتی ھے جو اللہ کو ناراض کرنے والی ھوتی ہیں اور پھر ان کا زوال شروع ھو جاتا ھے۔مغربی ممالک جس میں امریکہ بھی شامل ھے انہوں نے ایسے قوانین بنائے جس میں شادی کے بعد بیوی خودبخود جائیداد کی آدھی مالکن بن جاتی ہے۔اس قانون سے فائدہ اٹھا کر خوبصورت اور تیز طرار لڑکیوں نے امیر اور ادھیڑ عمر کے مردوں سے منصوبے کے تحت شادیاں کرنی شروع کیں۔ اس کے بعد اپنے شوہروں کے لئے حالات مشکل بنا کر ان سے طلاق لے لیں اور بیٹھے بٹھائے کروڑ پتی بن گئیں۔اس ڈر کے مارے مردوں نے شادیاں کرنی چھوڑ دیں۔ اس سے دو نقصانات ھوئے ایک عورتوں کے لیے بچے پیدا کرنا بہت مشکل ھو گیا۔اگر بچے کو سنبھالنے کے لئے گھر میں بیٹھ جائیں تو کھائیں کہاں سے تو انہوں نے بچے پیدا کرنا ھی بند کر دیا۔یہ ترقی یافتہ ممالک تھے ان کو کارخانے چلانے کے لئے آدمیوں کی ضرورت تھی اور بچے مطلوبہ تعداد میں پیدا نہیں ھورھے تھے تو انہوں نے باہر سے امیگریشن کھول دی۔ باہر سے آنے والے اپنی عادتوں کے ساتھ آگئے ان میں اس طرح کے ترقی یافتہ ممالک کو چلانے اور ترقی کو برقرار رکھنے کی سکت ھی نہیں۔ ان ترقی یافتہ ممالک میں یہ قانون ھے کہ جتنے زیادہ بچے اتنے زیادہ گورنمنٹ الاؤنس۔اس سے امیگرينٹس نے زیادہ بچے پیدا کرنے شروع کیا۔اس سے سفید فام اور غیر سفید فام آبادی کا تناسب تیزی سے بگڑنےلگا۔اب آھستہ آھستہ مغربی ممالک میں سفید فام لوگوں کی تعداد تیزی سے گھٹ رھی ھے۔اس وقت لندن جیسے بین الاقوامی شہر میں سفید فام آبادی سکڑ کر تیس فیصد رہ گئی ھے اور لندن کا مئير بھی غیر سفید فام ھے۔ یہی صورتحال امریکہ میں ھے۔نیویارک کا مئيربھی غیر سفید فام ھے۔
ان قوانین کی وجہ سے ایک تو زنا عام ھونے لگا جو اللہ کے ھاں اکبر الکبائر گناھوں میں سے ایک ھے۔اس پر بھی انہوں نے بس نہیں کیا بلکہ ھم جنس پرستی کو قانونی شکل دے دی یہ اللہ کے نزدیک اتنا بڑا جرم ھے کہ لوط علیہ السلام کی قوم کو اس جرم کی پاداش میں اللہ تعالٰی نے صفحہ ہستی سے مٹا ديا -
اب اسرائیل اور امریکہ کو کچھ نہ بھی كريں تو وہ ويسے ہی سنت اللہ کے تحت زوال کا شکار ھو جائینگے۔جس دن سے اسرائیل کا قیام عمل میں آچکا ھے اس وقت سے اس نے ایک دن سکون کا نہیں دیکھا ھے۔شروع میں عرب ممالک سے جنگ۔ابھی اس سے فارغ ھی نہیں ھوا تھا کہ حماس نے زور پکڑ لیا۔یہ سلسلہ جاری تھا کہ حزب اللہ اور ایران میدان میں آگئے اور یہ سلسلہ ختم ھوتا نظر نہیں آرھا۔بھلے اسرائیل جتنا طاقتور ھو لیکن اس کا رقبہ اور آبادی اتنا کم ھے اور واسطہ پر عزم(committed)دشمنوں سے ھے۔اسرائیل کو اگر کچھ بھی نہ کیا جائے تو اللہ کے اس فیصلے کے مطابق جو قرآن میں بیان ھوا اسرائیل پر ایک بڑی افتاد کسی وقت آسکتی ھے۔
امریکہ کو بھی نہ چھيڑا جائے۔جس حساب سے سفید فام اور غیر سفید فام آبادی میں تناسب بڑھ رھا ھے اس حساب سے ساٹھ ستر سال میں سفید فام آبادی اقلیت میں بدل جائے گی۔سفید فام آبادی یہ کبھی نہیں چاہے گی کہ غیر سفید فام ان پر حکومت کریں۔اس سے خطرہ ھے ان میں خانہ جنگی ھو گی اور ساری ترقی کا دھڑن تختہ ھو جائے گا اور خطرہ ھے کہ مختلف ٹکڑوں میں تقسیم ھو جائے اور اس کے بعدقوموں کی تاریخ میں ان کا کوئی خاطر خواہ مقام نہیں رھے گا جیسے اس وقت کے مسلمانوں کی حیثیت من حیث القوم بن چکا ھے جو اپنے عروج کے بعد زوال کا شکار ھوئے۔
جہاں تک خلیجی ممالک کا تعلق ھے تو اس سلسلے میں عرض ھے کہ ارض فلسطین اور جزیرةالعرب کو اللہ تعالٰی نے اپنے لئے مختص کیا ھےجن کو ارض مقدسہ کہتا ھے دوہزار سال تك مرکز تو فلسطین رھا لیکن بنی اسرائیل کی سرکشی اس حد تک بڑھ گئی کہ انہوں نے انبیاء تک کو قتل کرنا شروع کیا۔حضرت یحی علیہ السلام کا سر ایک رقاصہ کے کہنے پر اتار کر بادشاہ کے سامنے پیش کر دیا گیا۔انہوں نے اپنی طرف سے حضرت مسیح علیہ السلام کو سولی پر چڑھا ديا لیکن اللہ تعالٰی نے ان کو اوپر اٹھا لیا۔ان جرائم کی وجہ سے اللہ تعالٰی نے سیادت بنی اسرائیل سے بنی اسماعیل کی طرف منتقل کر دی اور ان کو اپنے نعمتوں سے خوب نوازا۔شروع کے دور میں قيصر و قصری کو ان کے سامنے سرنگوں کر دیا اور ایک ہزار سال تک وہ مقام دیا جو اس وقت امریکہ،روس یا چین کا ھے۔پھر ان کی اپنی نااہلی اور عیش و عشرت میں پڑ جانے کی وجہ سے اللہ تعالٰی نے ان سے یہ سیادت چھین لی اور سب مسلمانوں کو سوائے ایک آدھ ملک کے غلام بنا دیا۔لیکن اللہ تعالٰی نے حالات ایسے بنائے اور جنگ عظیم چڑھ گئی جس کی وجہ سے یورپی اقوام کو مسلمانوں کے مقبوضہ علاقوں کو چھوڑنا پڑا ۔لیکن ان پر ایک دفعہ پھر اللہ تعالٰی نے کرم کیا کہ ان کی سرزمین سے تیل نکالا۔اس دولت کا بجائے مسلمانوں کے بہبود پر خرچ کرنے کے انہوں نے عیاشیوں اور بلند و بالا عمارتوں کی تعمیر اور ایک دوسرے کے مقابلے پر خرچ کیا۔ اربوں ڈالرز کے تحفے تحائف امریکی صدور کو دیتے رھے اور اربوں ڈالرز خرچ کر کے ان کو اڈے بنانے کی اجازت دے دی کہ وہ ھمیں بچا لے گا۔اب الٹا یہ ان کے گلے پڑ گیاھے۔اس سے بڑا ظلم انہوں نے یہ کیا کہ دبئی کو دنیا کے زنا اور عیاشیوں کا اڈہ بنادیا۔ابو ظہبی اور بحرین میں مندر کھولے سرزمین حجاز میں شراب اور جوئے کی اجازت دی۔دنیاجہاں کے گانے والوں اور ڈانسرز کو سعودی بلایا۔حج کو اتنا مہنگا کر دیا کہ غریب آدمی کے لئے اس فرض کو نبھانا مشکل ھو گیا۔اللہ تعالٰی کے نزدیک یہ بڑے بڑے جرائم تھے جن کی سزا ان کو جلد یا بدیر ملنی تھی۔ ایسا لگتا گے کہ اس سزا کا آغاز ھو چکا ھے۔واللہ اعلم بالصواب