تسلی سے بھری ہوئی آیت

مصنف : محمد اكبر

سلسلہ : قرآنیات

شمارہ : جون 2026

قرآنيات

تسلی سے بھری ہوئی آیت

محمد اكبر

اللہ تعالی نے قرآن کریم میں مختلف طریقوں سے ہمیں اپنی محبت، قُربت اور معرفت کی راہیں دکھائی ہیں۔ ہر آیت میں ایک نیا جہاں، نیا زاویہِ زندگی اور نیا لطف موجود ہے۔ ہر آیت کی شان ، جمال اور کمال الگ ہے۔ آج ہم ایک ایسی آیت میں قسط وار تدبر کرتے ہیں جو تسلی اور دلاسوں سے لبالب ہے۔ جس کا ایک ایک جملہ محبتِ الہی کے نور میں گُندھا ہوا ہے ۔ وہ آیت ہے: وَ اِذَا سَاَلَكَ عِبَادِیْ عَنِّیْ فَاِنِّیْ قَرِیْبٌؕ-اُجِیْبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ اِذَا دَعَانِۙ-فَلْیَسْتَجِیْبُوْا لِیْ وَ لْیُؤْمِنُوْا بِیْ لَعَلَّهُمْ یَرْشُدُوْنَ

اور (اے پیغمبر) جب میرے بندے آپ سے میرے بارے میں پوچھیں تو بے شک میں اتنا قریب ہوں کہ جب کوئی مجھے پکارتا ہے تو میں پکارنے والے کی پکار سنتا ہوں۔ لہذا وہ بھی میری بات دل سے قبول کریں اور مجھ پر ایمان لائیں تاکہ وہ راہ راست پر آ جائیں۔ (سورت بقرہ: 186)

1: اگر کوئی مستجاب الدعوات بننا چاہے یعنی ایسا شخص کہ جس کی دعائیں قبول ہوں تو اس کا طریقہ یہ ہے کہ زیادہ دعا کیا کرے۔ کیونکہ بار بار دعا کرنے سے دعائیں قبول ہونے لگتی ہیں۔ ہم صرف اُس وقت دعا کرتے ہیں جب کوئی مصیبت آئے اور پھر شکوے کرنے لگ جاتے ہیں کہ میری دعا قبول کیوں نہیں ہوئی ؟ ہر روز اللہ سے مانگیں تو فرشتوں کو آپ کی آواز سے مانوسیت ہو جائے گی۔ پھر جب مصیبت میں پکاریں گے تو نورانی مخلوق کی آمین کے ساتھ آپ کی دعا آسمان کی طرف بلند ہوگی۔ ہم در اصل موسمی منگتے ہیں۔ جب اپنا مفاد ہو تو مانگ لیتے ہیں، ورنہ دعا سے دور ہی رہتے ہیں۔ ایسے دعا کرنے سے انسان مستجاب الدعوات نہیں بن سکتا۔ مستجاب الدعوات بننے کےلیے مستقل دعا کی عادت اپنانی پڑے گی۔

2: اس آیت میں اللہ تعالی نے بتایا کہ میں تو قریب ہوں۔ مطلب يہ کہ دوری انسان کی طرف سے ہوتی ہے۔ انسان غفلت کا شکار ہو جاتا ہے جس کی وجہ سے قُربِ الہی کو محسوس نہیں کر پاتا اور سمجھتا ہے کہ میرا رب مجھ سے ناراض ہے۔ حالانکہ جو ناراض ہو تو وہ دوری اختیار کر لیتا ہے جب کہ اللہ قریب ہیں۔ مسئلہ ہماری سائیڈ پر ہے، جب بھی ہم اپنی اصلاح کر لیں گے اور اس کی طرف لوٹنے کا ارادہ کریں گے ، وہ فورا آگے بڑھ کر ہمارے رجوع کو قبول کر لے گا۔

3: جب ہم مشکلات کی گھمن گھیریوں میں پھنستے ہیں تو سب سے پہلے اپنے ذہن میں قریبی لوگوں کی ایک فہرست بناتے ہیں کہ اس مشکل میں کس کس سے رابطہ کروں؟ کس سے اپنی بات کہوں؟ کون ہے جو فورا ریساپنس دے گا؟ کس کو میسج یا کال کروں؟ پھر جو زیادہ قریب محسوس ہو تو اس سے بات کرتے ہیں۔ لیکن آج سے آپ نے سیکھنا ہے کہ آپ کا سب سے قریبی، آپ کا رب ہے۔ ربِ محبت جتنا ہمارے قریب ہے، اور کوئی بھی نہیں ہے۔ وہ ہمیں ہم سے بھی زیادہ جانتا ہے۔ ہمارے ماضی حال اور مستقبل سے واقف ہے اور ہمارے غموں کو ہلکا کرنے پر مکمل قدرت بھی رکھتا ہے۔ اس لیے پہلے ہمیشہ اس سے بات کریں پھر لوگوں سے۔ لوگوں سے بات کرنا منع نہیں ہے لیکن عقیدہ اور طریقہ یہی ہو کہ سب سے پہلے " اِنِّیْ قَرِیْبٌؕ " کہنے والے سے رابطہ کرنا ہے اور پھر دوسروں سے ۔ ایسی صورت میں ظاہری مسئلہ حل ہو یا نہ ہو، اللہ سے محبت سلامت رہتی ہے۔

4: اگر کوئی ایسی دعا ہوتی جو قبول نہ ہوتی تو اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ میں ہر دعا کرنے والے کی دعا کو سنتا ہوں سوائے فلاں دعا کے۔ لیکن اللہ تعالی نے کسی بھی دعا کا استثناء نہیں کیا۔ کیونکہ جب بھی دعا کی جائے ، ضرور شنوائی ہوتی ہے اور جواب ملتا ہے۔ پھر یہاں نہ تو متقیوں کا ذکر ہے اور نہ ہی تہجد گزاروں کا۔ بلکہ عبادی کے الفاظ ہیں جو عموم پر دلالت کرتے ہیں کہ اس کے بندوں میں سے کوئی بھی ، کسی بھی وقت ، کوئی بھی دعا مانگ سکتا ہے۔

5: اس آیت میں الداع کا لفظ بہت معنی خیز ہے کیونکہ اس کے شروع میں الف لام ہے جو دعا کرنے والے کو خاص بنا رہا ہے یعنی عام سے عام شخص بھی جب دعا کےلیے ہاتھ اٹھاتا ہے تو ربِ محبت کے ہاں وہ خاص بن جاتا ہے۔ اب وہ عام اور معمولی نہیں رہا۔ اس لیے اپنی حیثیت کو لوگوں کے جملوں میں نہ تولا کریں، دعا میں تولا کریں۔ اگر دعا کرتے ہیں تو آپ بہت خاص ہیں اور اگر دعا نہیں کرتے تو مخلوق کے ہاں خاص ہو کر بھی خالق کے ہاں عام ہیں۔

6: پھر اس آیت میں اذا کا لفظ بھی محبت سے بھرا ہوا ہے کیونکہ یہ لفظ بتا رہا ہے کہ جب بھی چاہیں، ربِ محبت کی رحمت کا دروازہ کھٹکھٹا سکتے ہیں۔ عام طور پر جب کسی بادشاہ یا مالدار شخص سے کچھ مانگنا ہو تو اس کے دیے گئے اسکیجول کے مطابق بات کرنی پڑتی ہے۔ اگر لیٹ ہوگئے تو وہ صاحب منہ نہیں لگاتے کہ وقت پر کیوں نہیں آئے ۔ دوسری بار ملاقات کےلیے وقت لینا پڑ جاتا ہے لیکن اذا کا لفظ بتا رہا ہے کہ جس ذات نے زمین و آسمان اور بر و بحر کو وجود دیا، اس سے بات کرنے کےلیے آپ کو کسی اپائنمنٹ کی ضرورت نہیں ہے ، جس حالت میں بھی ہیں، بس آ جائیں۔

7: قریب کے لفظ سے معلوم ہوا کہ دعا کرنے میں آواز بلند نہیں کرنی چاہیے۔ بلکہ حضرت زکریا علیہ السلام کے طرح آہستہ آہستہ آواز سے مانگنی چاہیے( سورت مریم: 3) کیونکہ ہمارا رب دور نہیں ہے ، شہ رگ سے بھی قریب ہے اور وہ ایسے لوگوں کو پسند نہیں کرتا جو حد سے گزرنے والے ہوں۔ چنانچہ سورت اعراف میں فرمایا:

اُدْعُوْا رَبَّكُمْ تَضَرُّعًا وَّ خُفْیَةًؕ-اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الْمُعْتَدِیْنَۚ (55)

تم اپنے رب کو عاجزی کے ساتھ چپکے چپکے پکارا کرو۔ یقینا وہ حد سے گزرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔

اسی طرح ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: لوگو! اپنی جانوں پر رحم کرو، تم کسی بہرے یا غائب خدا کو نہیں پکار رہے بلکہ جسے تم پکار رہے ہو وہ سننے والا ، بہت قریب ہے۔ تمہاری سواریوں کی گردنوں سے بھی زیادہ تمہارے قریب ہے۔ (صحابہ کرام کسی غزوے سے واپس پر سواریوں پر بیٹھے بیٹھے اونچی آواز میں تکبیر پڑھ رہے تھے۔)

8: جب اللہ تعالی کی ذات ہم میں سے ہر ایک کے قریب ہے تو پھر سب سے پہلے خود اپنے لیے دعا کرنی چاہیے۔ یہ عادت صحیح نہیں ہے کہ بندہ خود تو دعا نہ کریں اور دوسروں کو کہے کہ میرے لیے دعا کرنا۔ اپنے رب کے قُرب کو محسوس کریں اور خود دعا کریں۔ کیونکہ جو درد آپ کا ہے، وہ آپ ہی سمجھ سکتے ہیں، کوئی اور نہیں۔

9: اس آیت میں اللہ تعالی نے آخر میں فرمایا کہ لوگوں کو چاہیے کہ وہ بھی میری بات کو دل سے قبول کریں، ایمان لائیں اور ایمان پر ثابت قدم رہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ جب دل میں ایمان ہو اور اعضاء عمل کرنے والے ہوں تو پھر دعاؤں کی قبولیت بڑھ جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عمل کرنے والے انسان سے اس کی دعاؤں کے بارے میں پوچھیں تو وہ کہے گا کہ میری تو ساری دعائیں قبول ہو جاتی ہیں۔ کیونکہ وہ مانگتا ہی وہی ہے جو رب چاہتا ہے تو پھر اسے وہ کیوں نہ ملے جو اس نے مانگا؟

10: بچہ ماں سے دور ہو جائے تو اس کی ہچکیاں بندھ جاتی ہیں، گلا رُندھ جاتا ہے اور سسکیاں لے لے کر روتا ہے لیکن جونہی ماں قریب آتی ہے، انگلی پکڑتی ہے، اٹھا کر گلے سے لگاتی ہے تو آنسوؤں سے تر چہرے پر فوراً اطمینان کی مسکراہٹ آ جاتی ہے کیونکہ دنیاوی رشتوں میں سب سے قریب رشتے کی گود مل گئی ہے ۔ یہی حال بندے کا بھی ہونا چاہیے کہ اگر وہ گناہوں کی وجہ سے ربِ قریب سے تھوڑا سا بھی دور چلا جائے تو اس کی آنکھوں میں آنسو بھر آئیں، بدن کپکپانے لگے اور فوراً توبہ کے ذریعے ربِ قریب کے دامن رحمت میں سر آ چھپائے کیونکہ ربِ محبت سے زیادہ ہمارے قریب اور کوئی نہیں ہے اور اس کی قُربت سے زیادہ اطمینان کہیں نہیں ہے۔

11: اللہ کے قُرب کا احساس ہو جائے تو پھر یہ فکر نہیں رہتی کہ دعا قبول ہوئی یا نہیں؟ ہوگی یا نہیں؟ کیونکہ قُرب کا شعور ہی اتنا پُرلطف و پُرکیف ہوتا ہے کہ دل اور روح اسی میں ڈوب کر رہ جاتے ہیں، بلکہ سچ تو یہ ہے کہ بسا اوقات انسان اپنی دنیاوی حاجات ہی کو بھول جاتا ہے کہ میں مانگنے کیا آیا تھا؟ خدا ہمیں قُرب کا شعور بخشے۔

12: دعا مانگتے وقت ہم اللہ تعالی کے کئی اسماء و صفات کا ذکر کرتے ہیں لیکن بہت کم لوگوں کو لفظ "قریب" سے دعا کرتے ہوئے سنا ہے حالانکہ یہاں دعا کے مقام پر اس کو ذکر کیا گیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ دعا میں زیادہ سے زیادہ یا رب، یا قریب کا ورد کریں، دعا قبول ہو جائے گی۔

13: ہمیں ہر دن دو آپشنز میں سے ایک کا انتخاب کرنا ہوتا ہے: اللہ کا قُرب یا دنیا کا قُرب۔ ہم اکثر دنیا کے قُرب کو پسند کر لیتے ہیں جس کی وجہ سے اللہ سے دور ہو جاتے ہیں اور بسا اوقات یہ دوری اتنی بڑھ جاتی ہے کہ ایسے لگتا ہے جیسے خدا ہے ہی نہیں۔ خدا تو اب بھی قریب ہے ، تم ہی کہیں دور نکل گئے ہو۔ اس لیے کبھی بھی اللہ کے قُرب پر کسی اور چیز کے قُرب کو ترجیح نہ دیں۔

14: حسن بصری رحمہ اللہ فرمایا کرتے تھے کہ سمندروں کو کشتیاں چیرتی ہیں، زمین کو راستے چیرتے ہیں اور آسمان کو دعا چیر جاتی ہے۔

15: امام رازی رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ دعا کرنے والا لازماً اپنی دعا کا کوئی نہ کوئی بدلہ پاتا ہے۔ یا تو اس کی وہ حاجت پوری کر دی جاتی ہے جس کے لیے اس نے دعا کی تھی، اور یہ اُس وقت ہوتا ہے جب دعا تقدیرِ الٰہی کے موافق ہو۔ اور اگر تقدیر اس کے موافق نہ ہو، تو پھر اسے اپنے دل میں سکون، سینے میں کشادگی، اور ایسا صبر عطا کر دیا جاتا ہے جس کے ساتھ موجودہ آزمائش برداشت کرنا آسان ہو جاتا ہے۔ اور یہ اطمینان بھی اجابتِ دعا کی ہی ایک صورت ہے ۔

 

اب ہم اس آیت کے الفاظ میں تدبر کرتے ہیں:

اِذَا:

یہاں لفظ اِن ذکر نہیں فرمایا کیونکہ اِن میں امید اور توقع کا پہلو نہیں ہوتا، اس میں احتمال ہوتا ہے کہ شاید یہ کام ہو جائے یا نہ ہو۔ جب کہ اذا میں امید کا پہلو ہے ، اذا میں شفقت اور رحمت ہے، اذا میں کسی کام کے ہونے کا یقین ہے۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے کسی ماں کا بچہ باہر کسی ملک میں رہتا ہو تو وہ یہ نہیں کہتی ہے کہ اگر میرا بیٹا آیا تو میں اسے اپنے ہاتھ سے کھانا بنا کر دوں گی۔ بلکہ کہتی ہے: جب میرا بچہ آئے گا تو میں اسے اپنے ہاتھ سے کھانا بنا کر دوں گی۔ کیونکہ اسے بیٹے کی آمد کا انتظار اور امید ہے، اس لیے وہ "اگر" کے بجائے "جب" کا لفظ استعمال کرتی ہے۔ اس آیت میں بھی اللہ تعالی نے اِن (یعنی اگر) کے بجائے اذا (یعنی جب) کا لفظ ذکر کیا کیونکہ اللہ تعالی کی رحمت ہر وقت بندے کی منتظر ہوتی ہے کہ وہ کبھی بھی میری طرف لوٹ سکتا ہے۔

پھر "اذا" میں کثرت پائی جاتی ہے اور" اِن "اُن کاموں کےلیے استعمال ہوتا ہے جو کم وقوع پذیر ہوں۔ اس سے اشارہ کر دیا کہ بندوں کو چاہیے کہ وہ کثرت سے مجھ سے دعا مانگیں، میرے بارے میں پوچھیں، میری معرفت حاصل کریں، میری قرُبت کو محسوس کریں۔

سَاَلَكَ :

یہ ماضی کا لفظ ہے جو کسی کام کے ایک مرتبہ ہونے پر دلالت کرتا ہے جیسے آپ کہیں: میں نے کھانا کھا لیا۔ میں نے واک کر لی۔ میں نے سوال پوچھ لیا، یہ سب کام ایک مرتبہ ہوئے ہیں۔ تو یہاں مطلب یہ ہوا کہ اے پیغمبر ﷺ! میرا بندہ اگر ایک مرتبہ بھی میرے بارے میں آپ سے پوچھے تو میں اس کے قریب ہوں۔

عِبَادِیْ:

یہاں عبادِ یعنی ی کے بغیر بھی لفظ ہو سکتا تھا( جیسا کہ قرآن کریم میں کئی مقامات پر ہے) لیکن اللہ تعالی نے "عبادی" فرمایا۔ اور عربی کا قاعدہ ہے کہ جب کسی لفظ کے حروف زیادہ ہوں تو اس کے معنی و مفہوم میں بھی زیادتی و کثرت پائی جاتی ہے۔ گویا یہاں عبادی کا لفظ وسیع مفہوم رکھتا ہے۔ اس میں ہر طرح کے بندے آگئے اور مطلب یہ ہوا کہ کوئی ایمان و یقین کی کسی بھی حالت میں ہو، جب مجھ سے مانگتا ہے تو میں اس کی پکار کا جواب دیتا ہوں۔

عَنِّیْ:

یہاں عَنَّا نہیں فرمایا بلکہ عَنِّیْ یعنی "ی" ضمیر ذکر کی کیونکہ اس پوری آیت میں "ی" ضمیر کا بار بار ذکر ہوا ہے جو دلالت کرتی ہے کہ بات کرنے والا سامنے والے کو اپنا بہت قریبی سمجھتا ہے۔ ربِ محبت کی محبت پورے جوش میں ہے۔

فَاِنِّیْ قَرِیْبٌؕ:

عام طور پر قرآن کریم کا اسلوب یہ ہے کہ جب نبی کریم ﷺ سے لوگ سوال کرتے ہیں تو اللہ تعالی فرماتے ہیں: اے نبی! آپ انہیں جواب دیجیے۔ لیکن اس آیت میں "قُل یعنی جواب دینے" کا لفظ نہیں ہے۔ اس سے اشارہ کر دیا کہ اللہ تعالی سے مانگنے اور بات کرنے کےلیے سارے راستے کھلے ہیں، اللہ تعالی ہر انسان کے اتنے قریب ہیں کہ درمیان میں کسی واسطے کی بھی ضرورت نہیں ہے۔ بعض اہل علم نے لکھا ہے کہ "قُل" نہ کہنے سے اشارہ ہے کہ اللہ تعالی فورا ًدعا قبول کرتے ہیں جیسے یہاں فوراً فرمایا کہ بے شک میں قریب ہوں۔ پھر یہ جملہ یوں بھی ہو سکتا تھا: فاَنَا قریب کہ میں قریب ہوں لیکن فَاِنِّیْ قَرِیْبٌؕ فرمایا کیونکہ اس میں زیادہ تاکید ہے۔ گویا ہمیں اللہ کی قُربت کا بھرپور یقین دلایا جا رہا ہے۔ اس جملے کو پڑھنے اور سمجھنے کے بعد شک کرنے والا انسان بھی اللہ کی قربت کو اپنے اور دل کے درمیان محسوس کر سکتا ہے۔

اُجِیْبُ :

یہاں یہ نہیں فرمایا کہ میں سنتا ہوں بلکہ فرمایا : میں جواب دیتا ہوں۔ یہ سننے کی بنسبت زیادہ یقین دلانے اور اُنس و محبت پیدا کرنے والا جملہ ہے۔ پھر اس اجابت کو اپنی مشیت کے ساتھ مشروط نہیں کیا کہ اگر میں چاہوں تو جواب دیتا ہوں۔ جیسے مصائب کے بارے میں فرمایا: بَلْ اِیَّاهُ تَدْعُوْنَ فَیَكْشِفُ مَا تَدْعُوْنَ اِلَیْهِ اِنْ شَآءَ وَ تَنْسَوْنَ مَا تُشْرِكُوْنَ۠

بلکہ اسی کو پکارو گے۔ پھر جس پریشانی کےلیے تم نے اسے پکارا ہے، اگر وہ چاہے تو اسے دور کر دے گا اور جن (دیوتاؤں) کو تم اللہ کے ساتھ شریک ٹھہراتے ہو (اس وقت ) ان کو بھول جاؤ گے۔ (سورت انعام: 41)

یہاں مصیبت دور ہونے کو مشیت کے ساتھ مشروط کیا ہے کہ اگر میں نے چاہا تو مصیبت دور ہوگی لیکن جس آیت میں ہم تدبر کر رہے ہیں، وہاں مطلق دعا کی قبولیت کی بات کی ہے کہ ہر صورت میں دعا قبول ہوگی۔

دَعْوَةَ:

اگر " دَعْوَةَ " کے لفظ کو ہٹا دیا جاتا تو سارا فوکس دعا مانگنے والے پر ہو جاتا اور اس صورت میں دعا مانگنے والے کو بہت اچھے طریقے سے دعا مانگنی پڑتی لیکن یہاں دعا کرنے والے پر فوکس نہیں ہے بلکہ صرف دعا پر فوکس ہے۔ جس کا سادہ مطلب یہ ہے کہ اللہ دعا مانگنے والے کو نہیں دیکھتا، دعا کو دیکھتا ہے اور قبول کر لیتا ہے۔ محبت کی انتہا ہے۔

الدَّاعِ :

یہاں داع کے شروع میں الف لام لگا کر دعا کرنے والے کو عام سے خاص انسان بنا دیا۔ پھر داع کہہ کر یہ بتا دیا کہ دعا کی قبولیت کےلیے متقی، محسن، صابر، شاکر، متوکل وغیرہ ہونا ضروری نہیں، بس صرف دعا کرنے والا ہونا ضروری ہے۔

اِذَا دَعَانِۙ:

عربی گرائمر کے اعتبار سے اس جملے کو " اُجِیْبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ " سے پہلے ہونا چاہیے تھا کیونکہ یہ شرط ہے اور شرط پہلے ہوتی ہے لیکن اللہ تعالی نے " اُجِیْبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ " کو پہلے ذکر کیا تاکہ دعا مانگنے والا یہ یقین کر لے کہ اللہ کے فضل سے اس کی دعا قبول ہو چکی ہے ، بس انسان کا مانگنا باقی ہے۔

اے انسان! ذرا دیکھ تو سہی کہ تیرا ربِ محبت کس کس انداز اور کن کن لفظوں سے تجھے اپنی قُربت اور محبت کا احساس دلانا چاہتا ہے؟! لیکن تُو پھر بھی اس سے غفلت برتنا ہے۔

لوٹ آؤ اپنے رب کی طرف، وہ تم سے بہت محبت کرتا ہے۔