ولا تقتلوا انفسكم

مصنف : محمد اكبر

سلسلہ : قرآنیات

شمارہ : مئی 2026

قرآنيات

ولا تقتلوا انفسكم

محمد اكبر

قرآن کریم کا ایک چھوٹا سا جملہ ہے جو ہماری زندگی کی کئی گھتیاں سلجھا دیتا ہے۔ اگر مایوس سے مایوس انسان بھی اس جملے کو سمجھ جائے اور اس کے نور کو حاصل کر لے تو باامید ہو جائے گا، یہ ایسا جملہ ہے جو گرے ہوئے کو اٹھا دیتا ہے، بیمار کو شفا اور مرے ہوئے کو زندگی بخشتا ہے۔ وہ جملہ ہے:

وَلَا تَقْتُلُوا أَنفُسَكُمْ -اور اپنے آپ کو قتل نہ کرو۔ (سورت نساء: 29)

عام طور پر یہ جملہ خود کشی کی ممانعت پر سمجھا جاتا ہے لیکن حقیقت میں اس کا مفہوم بہت گہرا اور وسیع ہے۔ یہ جملہ ہماری زندگی کے بے بس کر دینے والے مسائل کو حل کرتا ہے۔ یہ اُس وقت مرہم بن کر زخموں کو ٹکورتا ہے جب سارا زمانہ زخموں پر نمک چھڑک رہا ہوتا ہے۔ اس جملے میں تدبر کریں تو کئی اسباق حاصل کر سکتے ہیں:

1: اس جملے سے پہلے اللہ تعالی نے حرام مال کھانے سے منع کیا ہے اور پھر اپنے آپ کو قتل نہ کرنے کا حکم دیا۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ جب ہم کسی دوسرے کا ناحق مال کھاتے ہیں تو گویا اپنے آپ کو قتل کر رہے ہیں، کیونکہ ناحق مال کھانے میں انسان کے سکون کا قتل ہو جاتا ہے، حرام پیسوں سے عیاشی انسان کو کسی لمحے سکون کا سانس نہیں لینے دیتی۔ ایک وقت ایسا بھی آتا ہے جب انسان اپنے آپ کو کوسنے لگ جاتا ہے اور اپنے نفس کی بے عزتی شروع کر دیتا ہے۔ یہ قتلِ نفس کی ایک صورت ہے۔

2: بسا اوقات حرام مال حاصل کرنے کی خاطر انسان اپنے ہی کسی مسلمان بھائی کا قتل کر دیتا ہے۔ جیسا کہ عام طور پر سوشل میڈیا پر اس طرح کی خبریں پڑھتے رہتے ہیں کہ ایک دوست نے دوسرے دوست کو صرف پیسوں کی خاطر قتل کر دیا یا کوئی ڈاکو موبائل اور پرس لینے کےلیے دوسرے کو جان ہی سے مار ڈالے۔ اللہ تعالی نے اس کی ممانعت فرمائی ہے کیونکہ یہ چیز پورے معاشرے میں خونریزی کا سبب بن جاتی ہے۔

3: قتلِ نفس کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ انسان اپنے نفس کے حقوق ادا کرنا چھوڑ دے جیسے ہر وقت دوسروں کو خوش کرنے کی فکر میں رہنا چاہے اس کےلیے اپنی خوشیوں کو آگ لگانی پڑ جائے۔ حد سے زیادہ کھانا کھانا جو بیماریوں کا موجب بنتا ہے، وقت پر نہ سونا، نفس کی طرف سے نیند کا اشارہ مل جانے کے باوجود موبائل استعمال کرتے رہنا، گناہوں کے بوجھ تلے نفس کو دباتے جانا ۔ یہ سب قتل نفس کی صورتیں ہیں۔ حدیث میں آتا ہے کہ تیرے نفس کا تیرے اوپر حق ہے۔ لہذا اسے ادا کرنا چاہیے۔

4: ہر وقت اپنے آپ کو بے وقعت، کم تر اور بے قیمت سمجھنا، یہ خودی کا قتل ہے۔

5: مستقل وکٹم مائنڈ سیٹ کے ساتھ زندگی گزارنا کہ ہر حالت میں، میں ہی مظلوم ہوں، میں کسی بھی معاملے کی ذمہ داری نہیں لے سکتا۔ یہ شخصیت کو مفلوج اور قتل کرنے کے مترادف ہے۔

6: چھوٹی چھوٹی باتوں کو دل پر لے کر بیٹھ جانا، منہ بسورتے رہنا ، کسی کی بات کو انا کا مسئلہ بنا لینا اور ماضی کے حالات و واقعات کو سوچ سوچ کر اپنے دل اور چہرے کو برباد کر دینا۔ یہ بھی قتلِ نفس کی ایک صورت ہے۔ یہ ایسی صورت ہے کہ جس میں ہم میں سے اکثر لوگ مبتلا ہیں۔ ہر وقت کسی نہ کسی کی باتوں پر پریشان رہ کر اپنے آپ کو برباد کر دیتے ہیں جب کہ دوسرے کو ذرا فرق نہیں پڑتا۔

7: قتل نفس کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ مسلسل گناہ کیے جائیں اور توبہ کےلیے اللہ کی طرف رجوع نہ کیا جائے۔ اس سے روح مر جاتی ہے اور انسان جیتا جاگتا اندر سے ختم ہو جاتا ہے۔ اس لیے اللہ تعالی نے اس آیت کے بعد اگلی دو آیات میں گناہوں سے بچنے کا حکم دیا ہے۔

8: بعض لوگ شیطان کے حملے کا شکار ہو جاتے ہیں اور توبہ کرنے سے کتراتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جب دوبارہ گناہ کرنا ہے تو پھر توبہ کیسی؟ یہ در اصل شیطان کی طرف سے ایک چال ہوتی ہے جس کے ذریعے وہ ہماری امیدوں کا قتل کر دیتا ہے۔ ہم پوری زندگی اللہ سے منہ چھپائے پھرتے رہتے ہیں اور چاہت کے باوجود توبہ نہیں کرتے کہ بار بار کیسے توبہ کروں؟ ارے ! ایک دن میں سو بار ایک ہی گناہ ہو جائے ، تب بھی توبہ کر لیں۔ کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ پریشان و ہلکان ہو کر اپنے آپ کو تکلیف میں مت ڈالیں۔

9: قتل نفس کی ایک صورت یہ ہے کہ دوسروں کی کامیابی یا خوشی کو دیکھ کر دل میں جلن محسوس کی جائے۔ یہ ایسی جلن ہوتی ہے کہ دوسرا تو شاید اس سے نہ جل سکے لیکن ہمارا اپنا نفس جل کر راکھ بن جاتا ہے۔

10: قتل نفس کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ اپنے نفس کا موازنہ دوسروں کے نفوس سے کیا جائے کہ فلاں کو جو صلاحیت میسر ہے، مجھے کیوں نہیں ؟ فلاں کو جو نعمت نصیب ہوئی ہے، مجھے کیوں نہیں؟ موازنے کی بیماری اُس وقت لگتی ہے جب ہم ایک بہت بڑی حقیقت کو بھول جاتے ہیں کہ اللہ تعالی نے ہر نفس کو جدا صلاحیتوں سے نوازا ہے۔ یہ اُس کا فضل ہے کہ وہ کسی کو ہم پر ترجیح دیتا ہے اور کسی پر ہم کو۔ اس لیے سورت نساء کے اس جملے کے تین آیات بعد فرمایا: وَ لَا تَتَمَنَّوْا مَا فَضَّلَ اللّٰهُ بِهٖ بَعْضَكُمْ عَلٰى بَعْضٍؕ

جس چیز میں اللہ نے ایک کو دوسرے پر ترجیح دی ہے، اس کی تمنا نہ کرو۔ (سورت نساء: 32)

11: سوشل میڈیا کی وجہ سے لوگ اپنی حقیقی دنیا کا قتل کر رہے ہیں۔ فیس بک چلانے کےلیے سب کے پاس وقت ہے لیکن کسی رشتہ دار یا دوست سے ملنے کےلیے بالکل وقت نہیں ہے۔ کیا یہ اپنے نفوس کا قتل نہیں ہے؟ پھر بعض لوگ دکھاوے اور ویوز کی خاطر اپنے نفس کو ذلیل و رسوا کر دیتے ہیں۔ جیسا کہ ٹک ٹاک ، یوٹیوب وغیرہ پر لوگوں کو اوچھی حرکتیں کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ بعض اچھے گھرانوں کے لوگ بھی اب کمینگی پر اتر آئے ہیں۔ یہ نفس کی تذلیل ہے ۔

12: بغیر مقصد کے زندگی گزارنا بھی قتلِ نفس ہے۔ کیونکہ جس نے جانوروں کی طرح زندگی گزاری ، وہ آخرت میں بہت سخت سزا پائے گا اور یہ سزا اس کے نفس کو ملے گی۔

13: بسا اوقات ہم سے کوئی غلطی ہو جاتی ہے اور اللہ یا بندے سے معافی بھی مانگ لیتے ہیں لیکن پھر بھی اپنے آپ کو معاف نہیں کرتے۔ میرے سامنے ایسے کئی کیسز ہیں کہ کسی سے کوئی غلطی ہوئی ، اب وہ توبہ کر چکا ہے یا کر چکی ہے لیکن پھر بھی ہر وقت پریشان ہوتے ہیں ، کوئی مضبوط اور مثبت کام نہیں کر پاتے کیونکہ پچھلی غلطی یاد آنے لگتی ہے۔ اس طرح کے قتلِ نفس سے بھی اپنے آپ کو بچائیں۔

14: قتل نفس کی مزید کئی صورتیں بھی ہیں جیسے: ہر فیصلہ دوسروں کی اپروول پر کرنا (یہ آزادی رائے کا قتل ہے) ، ہر چیز میں برائی دیکھنا ( یہ سوچ اور امید کا قتل ہے)، تنہائی میں اپنی ذات کو بند کر لینا ( یہ تعلقات کا قتل ہے)، سچ جانتے ہوئے بھی خاموش رہنا (یہ ضمیر کا قتل ہے)، نماز، روزہ ، قرآن اور دعا جیسے اعمال سے دور ہو جانا (یہ روحانیت کا قتل ہے)، ہر وقت مستقبل کے خوف میں رہنا ( یہ حال کی خوشی کا قتل ہے) ۔

اللہ تعالی نے قتل نفس کی ممانعت کے بعد ایک ایسا جملہ ذکر کیا ہے جو آپ کے نفس کی حفاظت کر سکتا ہے، اُسے برباد ہونے سے بچا سکتا ہے، اندھیرے میں روشنی کی کرن بن سکتا ہے، مایوسی و اداسی کے سیاہ بادلوں میں بارش کی ٹھنڈی ہوا بن سکتا ہے اور آپ کی دم توڑتی زندگی کو نہ صرف کھڑا کر سکتا ہے بلکہ ہر لمحہ اسے کسی تعمیری کام میں لگانے کی قوت بھی رکھتا ہے۔ وہ جملہ یہ ہے: اِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِكُمْ رَحِیْمًایقین جانو اللہ تم پر بڑا مہربان ہے۔ (سورت نساء: 29)

اس جملے میں تاکیدی الفاظ (اِنَّ، كَانَ بِكُمْ) سے ایسے محسوس ہوتا ہے جیسے کوئی سب سے قریب رہنے والا دل سے سرگوشی کر رہا ہے ، اپنی رحمت اور شفقت کی یاد دہانی کرا رہا ہے، سارے زمانے اور ساری پریشانیوں کے مقابل، کافی ہونے کی خوشخبری سنا رہا ہے۔ مدھم سی مدھر آواز میں سنا رہا ہے کہ اپنے نفس کو تکلیف مت پہنچائیں کیونکہ میں تم پر بڑا مہربان ہو۔ میری رحمت نے تمہیں چہار جانب سے حصار میں لے رکھا ہے۔ میری رحمت کو محسوس کریں تاکہ تکلیفوں کا مداوا ہو۔ یا سبحان !!!!