پھر كر لينا

مصنف : يمين الدين احمد

سلسلہ : اصلاح و دعوت

شمارہ : جون 2026

اصلاح و دعوت

پھر كر لينا

يمين الدين احمد

یہ شاید شیطان کے سب سے مؤثر ہتھیاروں میں سے ایک ہے۔آج کل مکہ میں کئی عمر رسیدہ حجاج سے ملاقات ہو رہی ہے۔ابھی ایام حج شروع نہیں ہوئے ہیں، صرف عمرہ ہوا ہے، اور لوگ پاکستان، امریکہ، کینیڈا، یو کے سے ہمارے گروپ میں شامل ہیں۔ تقریبًا 70 فیصد گروپ ممبران بیرون ممالک سے ہیں۔ایک بزرگ حاجی صاحب نے وہیل چیئر پر بیٹھے ہوئے کہا: “کاش میں جوانی میں آ جاتا…”ایک بزرگ بولے:“صحت تھی، طاقت تھی، آمدنی بھی تھی، مگر ہر بار کوئی نہ کوئی دنیاوی مصروفیت سامنے آ گئی۔کسی نے سوچا کہ پہلے اپنا گھر بن جائے، پھر حج کرلیں گے۔کسی کا خیال تھا کہ پہلے کاروبار جم جائے تو پھر حج کرلیں گے۔کسی نے پہلے بچوں کی شادیوں اور ذمہ داریوں کو مکمل کرنے کو ترجیح دی، اور اب عمر مبارک 70 برس کے لگ بھگ ہوگئی ہے۔ بیماریاں ہیں، کمزوری ہے، مختلف مسائل کا شکار ہیں۔یہ سب ضروری تھا اور ہے، لیکن یہ سب زندگی کا حصہ ہے۔ لیکن اصل بات ترجیحات کی ہے۔

اب بہت سے لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ حج کے لیے اب آ تو گئے ہیں، مگر وہ طاقت، وہ چلنے کی ہمت، وہ عبادت کا لطف، وہ جسمانی توانائی باقی نہیں رہی جو جوانی میں تھی۔یہاں بعض بزرگ طواف اور سعی کے بعد تھکن سے بے حال ہوئے جاتے ہیں۔کئی لوگ شدید گرمی میں چند قدم چلنے میں مشکل محسوس کررہے ہیں۔کئی بڑی عمر کے حجاج حسرت سے نوجوان حجاج کو دیکھتے ہیں جو آسانی سے عمرہ، طواف، سعی اور عبادات کر رہے ہوتے ہیں۔آپ کو یہاں آ کر احساس ہوتا ہے کہ زندگی میں کچھ عبادات ایسی ہیں جن کو اچھی طرح کرنے کے لیے صرف پیسہ نہیں، صحت، توانائی اور وقت بھی چاہیے ہوتا ہے۔

اور میری زندگی کا مشاہدہ یہ ہے کہ یہ تینوں ہمیشہ ساتھ نہیں رہتے۔دنیا کی ضروریات اور کام کبھی ختم نہیں ہوتے۔ایک ہدف پورا ہوتا ہے، دوسرا سامنے آ جاتا ہے۔پہلے نوکری مل جائے، پروموشن ہو جائے، یا کاروبار جم جائے۔اب یہ ہوگیا تو شادی کرنی ہے۔شادی ہوگئی تو برسوں تک بچوں کی تعلیم اور ضروریات کی مصروفیت رہتی ہے۔پھر اس کے ساتھ اپنے ذاتی گھر کی ضرورت آن پڑتی ہے۔جب تک گھر بنا، تو بچے بچیاں بڑے ہوگئے۔ اب ان کی یونیورسٹی اور پھر شادی کرنے کی فکر لاحق ہوتی ہے۔اب بچوں کی شادی ہے تو ظاہر ہے سب کی شادی ہوگی، تو اس کے بعد ہی حج ہوگا، کیونکہ ہمارے ہاں شادیوں پر حج سے زیادہ پیسے چاہیے ہوتے ہیں۔یہ ہمارے معاشرے کی افسوسناک ترین حقیقت ہے جس سے ہم صرف نظر نہیں کرسکتے۔ہم سب یہ جانتے ہیں کہ 98 فیصد سے زیادہ لوگ اسی ڈیفالٹ سوچ کے قیدی ہوتے ہیں۔

زندگی میں جب بھی استطاعت موجود ہے، تو اپنے رب کے گھر کی حاضری کو مسلسل “بعد میں کر لیں گے” پر مت ڈالیے۔کیونکہ ایک وقت ایسا بھی آتا ہے جب انسان کے پاس پیسہ تو ہوتا ہےمگر جسم ساتھ نہیں دیتا۔اور بعض اوقاتنیتیں رہ جاتی ہیں، لیکن موقع نہیں رہتا۔پھر صرف افسوس اور پچھتاوا رہ جاتا ہے۔

استطاعت کا مطلب ہے کہ آپ کے پاس اپنے حج کے سفر کے لیے زاد راہ ہو، اور جتنے روز آپ سفر پہ ہوں گے، اتنے دنوں کے لیے پیچھے اہل خانہ کے اخراجات کرنے کے پیسے ہوں۔

حج کے لیے استطاعت کی شرط یہ نہیں ہے کہ آپ کے پاس A+ کیٹیگری کے پرائیویٹ حج کے 35 لاکھ روپے ہوں۔ پاکستانی گورنمنٹ کی حج اسکیم کے 12 لاکھ روپے ہوں (اس سال کے مطابق) اور کچھ رقم اوپر رکھنے کے لیے ہو، تو آپ صاحب استطاعت ہوگئے ہیں اور حج کی فرضیت ہوگئی ہے، اس لیے درست ترجیح یہ ہونی چاہیے کہ حج کر لیا جائے۔

الحمد للہ، ہماری اور ہم سے پچھلی جنریشن کے مقابلے میں نوجوان نسل مجھے اس معاملے میں زیادہ واضح نظر آتی ہے، اور نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد کو دیکھ کر اور ان سے بات کرکے یہ خوشی ہورہی ہے کہ وہ ان ڈیفالٹ سوچوں کے قیدی نہیں ہیں۔کئی نوجوان حجاج بھی گروپ میں ہیں جو اکیلے آئے ہیں اور اپنی بیویوں کو بھی لے کر نہیں آئے ہیں۔

ان سے بات کرکے اور ان کی کلیرٹی کو دیکھ کر خوشی ہوئی کہ سر، مجھ پر اپنا حج فرض ہے وہ تو میں کم از کم کرلوں۔ بیوی کو حج کروانا مجھ پر فرض نہیں ہے، احسان کے درجے میں ہے۔ البتہ جب پیسے ہوں گے تو انہیں بھی کروا دوں گا، ان شاء اللہ۔

کیونکہ حج استطاعت کے ساتھ انفرادی طور پہ فرض ہے۔ ہاں، اللہ نے اتنی وسعت دی ہے کہ اہلیہ کو بھی کروا دیں اور بچوں کو بھی کروا دیں، اور والدین کو بھی کروا دیں تو کیا ہی بات ہے۔

رات کھانے پر ایک ایسے 30 سالہ نوجوان سے بھی ملاقات ہوئی جو اپنی اہلیہ اور والدین کو بھی حج کروا رہا ہے، کیونکہ ماشاءاللہ، اللہ نے اسے اتنی مالی فراخی عطا فرمائی ہے کہ وہ چار لوگوں کا A کیٹیگری کا حج آرام سے افورڈ کرسکتا ہے، اور کررہا ہے۔

آج سے 50 برس پہلے کے مقابلے میں حج کا سفر بہت سی سہولیات کے ساتھ آسان ہوگیا ہے، لیکن چونکہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہماری مشقّت برداشت کرنے کی صلاحیت بہت کم ہوتی جارہی ہے، اس لیے تمام تر سہولیات کے باوجود، حج کے سفر کی مشقّت بہرحال موجود ہے، اور ہمارے دور کے انسان کے لیے یہ مشقّت ہی ہے۔

اس لیے اگر آپ نے حج نہیں کیا ہے تو اپنی استطاعت کا جائزہ لیجیے اور اگلے سال حج کرنے کی نیت کرلیجیے۔گھر بنانے، بچوں کی شادی کرنے، ان کی یونیورسٹی کے خرچے، اور دیگر دنیاوی ضروریات کی وجہ سے حج کو بالکل بھی موخر نہ کریں۔

ویسے بھی ہماری تمام ضروریات کو اللہ سبحانہ و تعالٰی ہی پورا کرنے والے ہیں، اور حج پر آ کر ہم نے اللہ ہی سے تو مانگنا ہے، تو سب کچھ مانگ لیں، اور اللہ تعالٰی تو دینے کے لیے انتظار کر رہے ہیں کہ بندہ میرے پاس آئے تو۔۔۔۔ آکر مانگے تو۔۔۔۔ ساری ضروریات تو میں نے ہی پوری کرنی ہیں۔اور یقین کیجیے کہ اللہ تعالٰی اس بات پر مکمل قدرت رکھتے ہیں کہ وہ حج کرنے کا بھی بہترین انتظام فرما دیں اور شاندار میزبانی کے لیے اپنے بندے لگا دیں اور تمام دیگر ضروریات زندگی کا بھی ایسا انتظام و انصرام کردیں کہ آپ کو پتا بھی نہ چلے کہ اللہ نے کیسے سارے کام کروا دیئے۔بس یقین چاہیے۔۔۔۔ زبان سے نہیں، دل سے۔