انسانوں والی چھوٹی چھوٹی باتيں

مصنف : سكندر حيات بابا

سلسلہ : اصلاح و دعوت

شمارہ : جون 2026

اصلاح و دعوت

انسانوں والی چھوٹی چھوٹی باتيں

سكند ر حيات بابا

1-کسی کے گھر مہمان جائیں تو دستک دینے کے بعد دروازے کے عین سامنے یوں جم کر کھڑے نہ ہوں جیسے محکمۂ احتساب کے سرکاری گواہ ہوں۔ تھوڑا اوٹ میں رہیں تاکہ گھر والوں کا پردہ قائم رہے-

2-کوئی صاحب خوش اخلاقی میں اپنا فون آپ کے ہاتھ میں تھما دیں تو اس کے تصویری خانے میں دائیں بائیں انگلیاں پھیرنے کی مہم جوئی سے پرہیز کریں۔ دوسروں کے ذاتی معاملات میں جھانکنا بھی ایک طرح کی نقب زنی ہے-

3-گفتگو کے دوران سامنے والے کے اتنے قریب نہ ہو جائیں کہ اسے پیچھے ہٹنے کے لیے الٹے قدموں چلنا پڑے۔ سانس کا فاصلہ اور گفتگو کا زاویہ دونوں مناسب ہونے چاہئیں-

4-عوامی سواری پر یا کسی محفل میں بیٹھ کر اپنے کاروباری معرکے یا خاندانی جھگڑے اتنی اونچی آواز میں نہ نپٹائیں کہ آس پاس بیٹھے معصوم لوگ مفت میں آپ کے مشیرِ قانون بننے پر مجبور ہو جائیں-

5-کسی سے عرصے بعد ملاقات ہو تو "آپ پہلے سے کافی بوڑھے لگ رہے ہیں" یا "وزن بہت زیادہ بڑھ گیا ہے" جیسے حکیمانہ تبصرے فرما کر اس کا دن اور اپنا وقار دونوں داؤ پر نہ لگائیں-

6-گاڑی چلاتے ہوئے سڑک پر اشارہ توڑنا یا یک طرفہ راستے کی خلاف ورزی کرنا بہادری نہیں، بلکہ عوام کو یہ بتانے کا سستا طریقہ ہے کہ آپ ابھی تک تمیز کی پہلی سیڑھی پر قدم رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں-

7-برقی زینہ یا لفٹ کا دروازہ کھلتے ہی اندر موجود مسافروں کو پہلے باہر نکلنے کا موقع دیں، خود صفِ اول کے مجاہد کی طرح اندر گھسنے کی کوشش نہ کریں۔ جو پہلے پہنچا ہے، حق بھی پہلے اسی کا ہے-

8-محفل میں بیٹھے ہوں تو بار بار اپنی گھڑی دیکھنا یا فون کی سکرین روشن کرنا سامنے والے کے لیے واضح پیغام ہے کہ "آپ کی گفتگو اکتا دینے والی ہے اور میرا وقت قیمتی ہے"۔ یہ صریحاً بے ادبی ہے۔

9-کسی کے گھر کھانے پر بلائے جائیں تو سالن کے برتن میں سے بوٹیاں چن چن کر الگ کرنے کا باریک بین آپریشن نہ کریں۔ جو سامنے آئے، اسے غنیمت اور نعمت سمجھ کر تناول فرمائیں-

10-سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر کسی کی تحریر پسند نہ آئے تو وہاں اختلافِ رائے ضرور کیجیے، مگر اس انداز میں نہیں کہ اگلا بندہ سوچنے پر مجبور ہو جائے کہ آپ کی پرورش کسی درس گاہ میں ہوئی ہے یا کسی اکھاڑے میں-

11-کسی دکان یا کاؤنٹر پر کھڑے ہوں تو قطار توڑنے کی نئی سائنس ایجاد نہ کریں۔ آپ کی باری اپنے وقت پر ہی آئے گی، خواہ آپ کتنے ہی بااثر کیوں نہ ہوں-

12-جب کوئی شخص اپنے کسی دکھ یا پریشانی کا ذکر کر رہا ہو، تو فوراً اپنی زندگی کی اس سے بڑی بپتا سنا کر اس کے غم کو چھوٹا ثابت کرنے کی کوشش نہ کریں۔ کبھی کبھی صرف خاموشی سے سن لینا ہی بہترین مرہم ہوتا ہے-

13-کسی کے دفتر یا کمرے میں داخل ہونے سے پہلے اجازت طلب کرنا لازم ہے، خواہ سامنے والا آپ کا کتنا ہی قریبی دوست کیوں نہ ہو۔ ہر انسان کی ایک ذاتی خلوت ہوتی ہے جس کا احترام فرض ہے-

14-راستے میں کھڑے ہو کر گروپ کی شکل میں گفتگو کرنے سے پرہیز کریں کہ گزرنے والوں کے لیے راستہ تنگ ہو جائے۔ اگر بات کرنا ناگزیر ہو تو سڑک یا گلی کا ایک کنارہ پکڑیں-

15-کہیں بھی بیٹھتے وقت اپنی ایٹمی تنصیبات کے پردے کا خیال رکھیں ، ایسے بیہودہ انداز میں نہ بیٹھیں کہ لوگ آپ کو کسی ملک کا جنگی نمائندہ خیال کریں -

16-تہذیب کا کل اثاثہ بس یہی ہے کہ آپ کی موجودگی سے کسی دوسرے کی آسودگی میں خلل نہ پڑے-

17- کسی کے گھر کے ساتھ گاڑی لگا کر تشریف نہ لے جایا کریں بیل بجا کر بتا دیا کریں کہ ہم اتنے ٹائم کے لیے گاڑی لگا کر جا رہے ہیں اگر اپ کو کوئی پریشانی نہ ہو -يا كم از كم اپنا موبائل نمبر لكھ كر ڈيش بورڈ پر ركھ ديا كريں-

18- کسی بیمار کی عیادت کے ليے جائیں تو اسے اس بیماری کے خطرناک ہونے کے سندیسے سنا کر اور یہ بتا کر کہ فلاں کو یہ بیماری تھی تو وہ مر گیا۔۔یا یہ علامات تھیں تو کینسر نکلا ۔۔پریشان مت کریں۔۔اور اسکے طبیب بننے کی کوشش نہ کریں بلکہ اسکا حوصلہ بڑھائیں۔

19-لوگوں كو ہميشہ ان كے اچھے ناموں سے پكاريں-