اصلاح و دعوت
وہ جن كی باتوں نے زندگی بدل دی
نامعلوم
"میری بیٹی آج اسکول سے آئی اور اس نے بتایا کہ اس کی ٹیچر کلاس میں رو پڑیں۔ میں نے سوچا کچھ برا ہوا ہوگا، مگر جب وجہ سنی تو مجھے بیٹھنا پڑ گیا۔" میرا نام کیرن ہے، میری عمر 43 سال ہے۔میری بیٹی للی نو سال کی ہے۔ وہ بہت بولتی ہے، اتنا کہ اسکول سے آتے ہی باتیں شروع کرتی ہے اور سوتے سوتے بھی جملہ ادھورا چھوڑ دیتی ہے۔لیکن میں ایک بات سیکھ چکی ہوں۔ اس کی مسلسل باتوں میں کچھ جملے ایسے ہوتے ہیں جن کا وزن الگ ہوتا ہے۔پچھلے جمعرات وہ گاڑی میں بیٹھی اور بولی،“مِسز ہینسی آج رو پڑیں۔”میں نے آئینے میں دیکھا،“سب ٹھیک ہے نا؟”وہ بولی،“ہاں وہ ٹھیک ہیں، وہ اس لیے روئیں كیونکہ ہم نے کچھ کیا۔”مِسز ہینسی 61 سال کی ٹیچر ہیں، 34 سال سے پڑھا رہی ہیں۔ وہ ٹیچر جنہیں والدین چاہتے ہیں کہ ان کے بچوں کو ملے، اور ڈرتے ہیں کہ شاید نہ ملے۔
میں نے احتیاط سے پوچھا،“تم لوگوں نے کیا کیا؟”للی ہلکا سا مسکرائی اور بولی،“آئیڈیا میرا تھا۔”پھر اس نے بتایا۔ تین ہفتے پہلے مِسز ہینسی نے بتایا تھا کہ یہ ان کا آخری سال ہے، وہ جولائی میں ریٹائر ہو جائیں گی۔ انہوں نے اسے کوئی خاص بات نہیں بنایا، لیکن للی نے اسے دل میں رکھ لیا۔
اگلے دو ہفتے اس نے چپکے چپکے پوری کلاس کو organize کیا۔ لنچ بریک میں، فری پیریڈ میں، سرگوشیوں میں۔اس نے ہر بچے سے کہا،“تم ایک چیز لکھو، کوئی ایک خاص بات جو مِسز ہینسی نے تمہارے لیے کی اور تم کبھی نہیں بھولو گے۔”عام تعریف نہیں، خاص باتیں۔پھر اس نے سب کو اکٹھا کیا، ایک چھوٹی سی ہاتھ سے بنی کتاب میں۔28 بچے، 28 یادیں۔
“آپ نے دیکھا تھا میں اداس ہوں اور بغیر بتائے میری سیٹ بدل دی۔”
“آپ نے کہا تھا میری کہانی سب سے اچھی ہے، اس کے بعد میں نے 6 اور کہانیاں لکھیں۔”
“آپ نے میری امی کو کال کی مگر مجھے نہیں بتایا تاکہ مجھے شرمندگی نہ ہو۔”
“آپ ہمیشہ ہمارا نام ایسے لیتی ہیں جیسے ہم اہم ہوں۔”
مِسز ہینسی نے صرف تین صفحے پڑھے، اور رک گئیں۔للی کہتی ہے، انہوں نے کتاب میز پر رکھی، کھڑکی کی طرف دیکھا، پھر کلاس کی طرف دیکھا اور بس اتنا کہا،“مجھے نہیں پتا تھا کہ تم لوگ نوٹس کرتے ہو۔”28 نو سال کے بچے، سب کچھ دیکھ رہے تھے۔
میں گاڑی میں بیٹھی رہ گئی۔ للی گھر جا چکی تھی، لیکن میں وہیں بیٹھی سوچتی رہی۔ ہماری زندگی میں کتنے ایسے لوگ ہوتے ہیں جو quietly ہمیں بدل دیتے ہیں، اور خود کبھی نہیں جان پاتے کہ ان کے الفاظ کہاں تک پہنچے۔
میں نے اسی دن اسکول کی ویب سائٹ سے مِسز ہینسی کا ای میل نکالا اور انہیں لکھا کہ انہوں نے ایک بار للی سے کہا تھا،“اگر تم فیل ہو جاؤ تو دوبارہ کوشش کرو، یہی اصل راز ہے۔”للی آج بھی وہی جملہ بولتی ہے، کل بھی بول رہی تھی ہوم ورک کرتے ہوئے۔
اگلی صبح ان کا جواب آیا، صرف دو لائنیں:“شکریہ، آپ کو اندازہ نہیں کہ ٹیچرز کو یہ سننے کی کتنی ضرورت ہوتی ہے کہ ان کے الفاظ کہاں تك گئے۔”34 سال، وہ الفاظ دیتی رہیں اور کبھی نہیں جانا کہ وہ کہاں پہنچے۔
اگر آپ کی زندگی میں بھی کوئی ایسا ٹیچر ہے جس نے آپ کو یا آپ کے بچے کو بدل دیا، تو آج ہی اسے بتائیں۔ ایک میسج، ایک کال، ایک خط۔کیونکہ کچھ لوگ ہماری زندگی بدل دیتے ہیں، اور خود کبھی نہیں جان پاتے۔