سورۃ یوسف کی بعض لفظی خصوصیات

مصنف : محمد مشتاق

سلسلہ : قرآنیات

شمارہ : مئی 2026

قرآنيات

سورۃ یوسف کی بعض لفظی خصوصیات

محمد مشتاق

ہر بار سورۃ یوسف کی تلاوت میں بعض نئے پہلو سامنے آتے ہیں۔ سقایہ اور صواع پر ہم پہلے ہی بحث کرچکے ہیں۔ اس بار تلاوت میں ان الفاظ کی طرف توجہ رہی جو قرآن کریم میں صرف سورۃ یوسف میں ہی آئے ہیں اور اس کے علاوہ کسی اور سورۃ میں نہیں آئے۔ ان الفاظ کی دلالات پر بعد میں بات کریں گے، ان شاء اللہ، لیکن سرِ دست یہ الفاظ نوٹ کرلیتے ہیں۔

آیت 9: اطرحوہ أرضاً۔

ط-ر-ح سے صرف یہی ایک لفظ قرآن میں آیا ہے۔

آیت 10: غیٰبت الجبّ۔

یہ دونوں الفاظ صرف اسی سورۃ میں آئے ہیں، یہاں اور آیت 15 میں۔ غ-ی-ب سے دیگر الفاظ قرآن میں آئے ہیں، لیکن غیٰبت صرف اسی سورۃ میں دو دفعہ آیا ہے۔

آیت 10: سیارۃ۔

یہ لفظ آگے آیت 19 میں بھی آیا ہے۔ صرف ایک جگہ اور سورۃ المآئدۃ، آیت 96 میں یہ لفظ استعمال ہوا ہے۔

آیت 13: الذئب۔

یہ لفظ اس آیت میں اور آیات 14 اور 17 میں آیا ہے؛ باقی قرآن میں کہیں نہیں آیا۔

آیت 18: قمیص۔

یہ لفظ آیات 25، 26، 27، 28 اور 93 میں بھی آیا ہے، لیکن قرآن میں یہ لفظ یا اس مادے سے کوئی اور لفظ کہیں نہیں آیا۔

سیدنا یوسف علیہ السلام کی قمیص کے متعلق مفسرین نے اس لطیف نکتے کا بھی ذکر کیا ہے کہ آپ کی قمیص پر جھوٹ موٹ جو خون لگایا گیا تھا، اس سے آپ کے والد نے اندازہ لگایا کہ آپ کو قتل نہیں کیا گیا؛ پھر آپ کی دوسری قمیص تھی جو پیچھے سے پھاڑ دی گئی تھی، اور وہ آپ کی بے گناہی کا ثبوت بن گئی؛ پھر آپ کی تیسری قمیص تھی جو آپ کے والدکے چہرے پر ڈال دی گئی، تو آپ کی بینائی لوٹ آئی۔

سوّلت لکم أنفسکم أمراً۔

یہ ترکیب آیت 83 میں بھی آرہی ہے۔ اس کے علاوہ سورۃ طٰہٰ، آیت، 96 میں سامری کے یہ الفاظ آئے ہیں: وکذلک سوّلت لي نفسي۔ نیز سورۃ محمد، آیت 25 میں یہود کے متعلق ہے: الشیطٰن سوّل لھم۔

آیت 19: دلو۔

یہ لفظ صرف اسی مقام پر آیا ہے۔

آیت 20: بضاعۃ۔

یہ لفظ آیات 62، 65 (دو بار) اور 88 میں بھی آیا ہے۔ قرآن میں یہ لفظ کسی اور سورۃ میں نہیں آیا۔ ب-ض-ع سے بضع سنین آیت 42 میں بھی آیا ہے اور اس کے علاوہ صرف ایک جگہ، سورۃ الروم، آیت 4 میں، آیا ہے۔

آیت 23: راودتہ۔

ر-و-د کے باب مفاعلہ سے کئی مشتقات اس سورۃ میں آیات 26، 30، 51 (دو بار) اور 61 میں آئے ہیں۔ ایک مثال سورۃ القمر، آیت 37، میں بھی ہے: ولقد راودوہ عن ضیفہ۔ سورۃ الطارق میں رویداً کی دلالت بھی دلچسپ ہے۔

آیت 25: سیّدھا۔

شوہر کےلیے قرآن میں سیّد کا لفظ صرف اسی مقام پر آیا ہے۔ (قبطی زبان میں شوہر کےلیے، بالخصوص حکمران طبقے میں جو لفظ مستعمل تھا، اس کا عربی ترجمہ سیّد ہی ہوسکتا تھا، یعنی آقا۔ یہ پہلو بہت دلچسپ ہے اور اس پر بات کریں گے، ان شاء اللہ۔

آیت 25۔ یسجن۔

جیل کا ذکر اس سورۃ میں آیات 32، 33، 35، 36، 39، 41، 42 اور 100 میں بھی ہے۔ اس کے علاوہ اس کا ذکر سورۃ الشعرآء، آیت 29 میں ہے اور وہ بھی مصر کے سیاق میں ہے جب فرعون نے موسیٰ علیہ السلام سے کہا: لأجعلنک من المسجونین۔ سورۃ المطففین، آیات 7 اور 8 میں ”سِجّین“ کا تعلق بھی اس سے ہے۔

آیت 31: سِکّین۔

یہ لفظ پورے قرآن میں صرف اسی ایک مقام پر آیا ہے۔

آیت 33: أصبُ۔

یہ لفظ صرف یہیں آیا ہے۔

آیت 35: أعصر۔

اس مادہ سے آیت 49 میں یعصرون بھی آیا ہے۔ نیز ”والعصر“ (سورۃ العصر، آیت 1) اور ”إعصار“ (سورۃ البقرۃ، آیت 266)، نیز ”المعصِرات“ (سورۃ النبأ، آیت 14) بھی اسی مادہ سے ہیں۔ بہت دلچسپ!

آیت 36: خبز۔

یہ لفظ صرف یہیں آیا ہے۔ اس مادہ سے اور کوئی لفظ بھی قرآن میں نہیں آیا۔

آیت 43: بقرات۔

یہ جمع صرف اس آیت اور آیت 46 میں آئی ہے۔ سورۃ البقرۃ، آیت 70 اور سورۃ الأنعام، آیت 144 میں ”البقر“ آیا ہے۔

عجاف۔

یہ لفظ بھی صرف یہاں اور آیت 46 میں آیا ہے۔ اس مادہ سے اور کوئی لفظ قرآن میں نہیں آیا۔

سنبلٰت۔

یہ جمع بھی صرف یہاں اور آیت 46 میں آئی ہے۔ آیت 47 میں مفرد ”سنبل“ آیا ہے۔

سورۃ البقرۃ، آیت 261 میں جمع ”سنابل“ اور مفرد ”سنبلۃ“ آیا ہے۔

آیت 59: جھّزھم بجھازھم۔

یہ ترکیب یہاں اور آیت 70 کے علاوہ اور کہیں نہیں آئی، نہ ہی اس مادہ (ج-ھ-ز) سے کوئی اور لفظ قرآن میں آیا ہے۔

آیت 65: نمیر۔

یہ لفظ صرف اسی ایک مقام پر آیا ہے۔ اس مادہ سے بھی کوئی اور لفظ کہیں نہیں آیا۔

بعیر۔

یہ لفظ آگے آیت 72 میں بھی آیا ہے۔ قرآن میں یہ لفظ کسی اور مقام پر نہیں آیا۔

آیت 66۔ موثق۔

مادہ و-ث-ق سے تو قرآن میں بہت سے الفاظ آئے ہیں، لیکن موثق صرف اس آیت میں (دو بار) اور آیت 80 میں ہی آیا ہے۔

آیت 70:رحل۔

یہ لفظ آیت 75 میں بھی آیا ہے۔ پیچھے آیت 66 میں اس کی جمع رحال بھی آئی تھی۔ اس مادہ سے صرف ایک اور لفظ رحلۃ، سورۃ قریش، آیت 2 میں آیا ہے۔

العیر۔

یہ لفظ آیات 82 اور 94 میں بھی آیا ہے، لیکن کسی اور سورۃ میں نہیں آیا۔

آیت 76: وعاء۔

دو بار مفرد اور ایک بار جمع أوعیۃ آیا ہے۔ اس مادہ و-ع-ی سے 4 دیگر الفاظ دیگر مقامات پر آئے ہیں، اور ہر جگہ بحث میں یہود شامل ہیں: وتعیھا أذن واعیۃ (سورۃ الحآقۃ، آیت 12)وجمع فأوعیٰ (سورۃ المعارج، آیت 18)واللہ أعلم بما یوعون (سورۃ الانشقاق، آیت 23)

آیت 80۔ استیأسوا۔

ویسے تو ی-ء-س سے کئی مشتقات قرآن میں آئے ہیں، لیکن باب استفعال سے صرف دو مقامات پر ہی لفظ آیا ہے۔ ایک یہ ہے، جمع، اور ایک آیت 11ہ میں آرہا ہے، مفرد: استیأس ۔

فلن أبرح۔

یہ الفاظ دو دیگر مقامات پر استعمال ہوئے ہیں، ان دونوں مقامات پر بھی بات یہود ہی کو سنائی جارہی ہے:سورۃ الکہف، آیت 60 میں موسیٰ علیہ السلام اپنے ساتھی سے کہتے ہیں: لا أبرح حتیٰ أبلغ مجمع البحرین أو أمضي حقباً۔ سورۃ طٰہٰ، آیت 91، میں بنی اسرائیل نے ہارون علیہ السلام سے کہا: لن نبرح علیہ عٰکفین حتیٰ یرجع إلینا موسیٰ۔

آیت 84: أسفیٰ۔

أ۔س۔ف سے چار مقامات پر مشتقات آئے ہیں۔ دو بار موسیٰ علیہ السلام کے بارے میں: غضبان أسفاً (سورۃ الأعراف، آیت 150 اور سورۃ طٰہٰ، آیت 86)آل فرعون کےلیے: فلما آسفونا انتقمنا منھم (سورۃ الزخرف، آیت 55) رسول اللہ ﷺ کو تسلی کہ آپ ان یہود کے ایمان نہ لانے پر خود کو ہلکان نہ کریں: فلعلک باخع نفسک علی آثارھم إن لم یؤمنوا بھذا الحدیث أسفاً (سورۃ الکہف، آیت 6)

آیت 85: تفتؤ۔

یہ واحد مقام ہے جہاں یہ لفظ آیا ہے۔ (اصل میں ’لا تفتؤ ‘ہے۔ لا کے حذف کا معاملہ بھی دلچسپ ہے۔)

آیت 87: رَوح اللہ۔

دو دفعہ اسی آیت میں یہ ترکیب آئی ہے، اور کہیں نہیں آئی۔ رَوح، نکرہ، ایک جگہ اور ہے، سورۃ الواقعۃ، آیت 89: فرَوح وریحان وجنۃ نعیم۔

آیت 92: تثریب۔

یہ لفظ یا اس مادہ سے کوئی اور لفظ قرآن میں کسی اور مقام پر نہیں آیا۔

آیت 94: تفنّدون۔

اس مادہ سے یہی ایک لفظ اسی ایک مقام پر آیا ہے۔