قرآنيات
عيسی عليہ السلام كی قوم كيا تھی؟
ثنا ءا للہ حسين
قرآن نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کی کوئی "قوم" نہیں تھی!
اللہ تعالیٰ کی کتاب میں کیسی بے مثال لسانی درستگی اور نفاست جلوہ گر ہے! ہم انبیاء کے قصص میں دیکھتے ہیں کہ اکثر انبیاء نے اپنی قوم کو "یا قومِ" (اے میری قوم) کہہ کر مخاطب کیا۔حضرت نوح علیہ السلام فرماتے ہیں:(لَقَدْ أَرْسَلْنَا نُوحًا إِلَى قَوْمِهِ فَقَالَ يَا قَوْمِ اعْبُدُوا اللَّهَ) "بے شک ہم نے نوح کو ان کی قوم کی طرف بھیجا، تو انہوں نے کہا: اے میری قوم! اللہ کی عبادت کرو۔" [الاعراف: 59]حضرت ہود علیہ السلام اپنی قوم سے کہتے ہیں:(وَإِلَى عَادٍ أَخَاهُمْ هُودًا قَالَ يَا قَوْمِ اعْبُدُوا اللَّهَ)"اور عاد کی طرف ان کے بھائی ہود کو بھیجا، انہوں نے کہا: اے میری قوم! اللہ کی عبادت کرو۔" [ہود: 50]
اسی طرح حضرت صالح علیہ السلام اپنی قوم سے فرماتے ہیں:(وَإِلَى ثَمُودَ أَخَاهُمْ صَالِحًا قَالَ يَا قَوْمِ اعْبُدُوا اللَّهَ) [ہود: 61]حضرت لوط علیہ السلام کے بارے میں بھی ہے:
(وَلُوطًا إِذْ قَالَ لِقَوْمِهِ...) [الاعراف: 80]یہی حال تمام انبیاء کا رہا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام بھی بہت سی آیات میں اپنی قوم کو "یا قومِ" کہہ کر پکارتے ہیں، جس سے مراد "بنی اسرائیل" ہوتے ہیں کیونکہ وہ بنی اسرائیل کی طرف بھیجے گئے تھے۔
لیکن حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا معاملہ کیا ہے؟
حالانکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی بنی اسرائیل کی طرف ہی مبعوث ہوئے تھے، مگر ان کا معاملہ مختلف ہے۔ پورے قرآن میں ایک بھی ایسی آیت نہیں ہے جہاں لفظ "عیسیٰ" یا "مسیح" کو لفظ "قوم" کے ساتھ جوڑا گیا ہو۔ وہ انہیں ہمیشہ "یا بنی اسرائیل" کہہ کر پکارتے تھے، بغیر قوم کا ذکر کیے۔مسیح علیہ السلام فرماتے ہیں:(وَقَالَ الْمَسِيحُ يَا بَنِي إِسْرَائِيلَ اعْبُدُوا اللَّهَ رَبِّي وَرَبَّكُمْ) [المائدہ: 72]اور فرمایا:(وَإِذْ قَالَ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ يَا بَنِي إِسْرَائِيلَ إِنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُمْ) [الصف: 6]پورے قرآن میں کہیں بھی "عیسیٰ کی قوم" کا ذکر نہیں ملتا! واحد آیت جس میں حضرت عیسیٰ کے ساتھ لفظ "قوم" آیا ہے وہ یہ ہے:
(وَلَمَّا ضُرِبَ ابْنُ مَرْيَمَ مَثَلًا إِذَا قَوْمُكَ مِنْهُ يَصِدُّونَ) [الزخرف: 57]یہاں "قَوْمُكَ" (آپ کی قوم) سے مراد حضرت عیسیٰ کی قوم نہیں، بلکہ حضرت محمد ﷺ کی قوم ہے، کیونکہ اس آیت میں خطاب نبی کریم ﷺ سے ہے!
اس کا راز کیا ہے؟حتیٰ کہ جب قرآن نے حضرت مریم (علیہا السلام) کا ذکر کیا، تو انہیں ان کی قوم کی طرف منسوب کیا:(فَأَتَتْ بِهِ قَوْمَهَا تَحْمِلُهُ...) "پھر مریم اس (بچے) کو اٹھائے ہوئے اپنی قوم کے پاس لائیں۔" [مریم: 27]مگر مسیح علیہ السلام کو قرآن میں کسی قوم کی طرف منسوب نہیں کیا گیا۔ کیوں؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ انسان کی نسبت ہمیشہ اس کے باپ سے ہوتی ہے۔ باپ ہی کسی قبیلے، قوم یا ملک سے تعلق رکھتا ہے، اور اسی بنا پر بیٹا بھی اسی قبیلے یا قوم کا حصہ کہلاتا ہے۔
حضرت نوح علیہ السلام اپنے باپ کی وجہ سے اپنی قوم سے تھے، اس لیے ان کی طرف منسوب ہوئے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنے باپ (آزر) کی وجہ سے اپنی قوم کی طرف منسوب ہوئے۔
لیکن مسیح علیہ السلام کا تعلق کس سے ہے؟ظاہر ہے وہ کسی (نسبی) قوم سے تعلق نہیں رکھتے کیونکہ وہ ایک معجزے کے طور پر بغیر باپ کے اس دنیا میں تشریف لائے! اسی لیے لسانی طور پر یہ غلط ہوتا کہ حضرت عیسیٰ بنی اسرائیل کو "یا قومِ" (اے میری قوم) کہہ کر پکارتے۔ ان کے لیے مناسب پکار "یا بنی اسرائیل" ہی تھی، اور قرآن نے یہی کیا۔
حضرت آدم علیہ السلام کا معاملہ اگر اسی منطق کو دیکھیں تو حضرت آدم علیہ السلام، جو نہ باپ سے پیدا ہوئے نہ ماں سے بلکہ مٹی سے تخلیق ہوئے، کیا قرآن میں ان کی "قوم" کا ذکر ہے؟یقیناً نہیں! پورے قرآن میں کہیں "آدم کی قوم" کا ذکر نہیں ملتا، بلکہ "بنی آدم" (آدم کی اولاد) کا ذکر ملتا ہے۔ یہ قرآن کریم کی حیرت انگیز باریکی اور محکم ہونے کی دلیل ہے۔
پس، تمام انسانوں کی کوئی نہ کوئی قوم ہے سوائے دو برگزیدہ ہستیوں کے: آدم اور عیسیٰ علیہما السلام۔کیا قرآن نے اس حقیقت کی طرف اشارہ کیا؟جی ہاں! قرآن نے اس مماثلت کو ایک ہی آیت میں سمو دیا ہے:(إِنَّ مَثَلَ عِيسَى عِنْدَ اللَّهِ كَمَثَلِ آدَمَ خَلَقَهُ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ قَالَ لَهُ كُنْ فَيَكُونُ)"بے شک اللہ کے نزدیک عیسیٰ کی مثال آدم کی سی ہے، اسے مٹی سے پیدا کیا پھر فرمایا 'ہو جا' تو وہ ہو گیا۔" [آل عمران: 59]
پورے قرآن میں یہ واحد آیت ہے جہاں آدم اور عیسیٰ کے نام ایک ساتھ آئے ہیں۔ اس عظیم کتاب کی درستگی اور باریک بینی ملاحظہ فرمائیں!سبحان اللہ الحكيم العليم!