آپ کا CV آپ کا دشمن بھی بن سکتا ہے

مصنف : شيراز دستی

سلسلہ : معلومات

شمارہ : اپريل 2026

معلومات

آپ کا CV آپ کا دشمن بھی بن سکتا ہے

محمد شيراز دستی

حال ہی میں ایک نوجوان نے اپنا سی وی [curriculum vitae] شئیر کیا جسے وہ ایک کینیڈین یونی ورسٹی میں داخلے کی درخواست کے ساتھ بھیجنا چاہتا ہے۔ اس کی 'کلاس' لینے کے بعد خیال آیا کہ میرے اپنے کئی شاگردوں کو بھی اس فیڈبیک کی ضرورت ہو سکتی ہے۔ لہٰذا کچھ مندرجات یہاں شئیر کر رہا ہوں۔

تصویر: سی وی میں تصویر دینے کا مطلب ایمپلائر یا ایڈمشن کمیٹی کی توجہ خواہ مخواہ اپنی مونچھوں وغیرہ پر مبذول کروانے کے مترادف ہے۔ کمیٹی آپ کی تعلیم اور آپ کا ہنر اور تجربہ جاننا چاہتی ہے اور آپ بہ ضد ہیں کہ پہلے وہ ٹائی دیکھیں جو فوٹوسٹوڈیو والے نے ایڈیٹنگ میں اٹکا دی ہے۔ کچھ صورتوں میں [آپ کا رنگ، پگڑی، داڑھی کا ہونا یا نہ ہونا، حجاب کا ہونا یا نہ ہونا، عینک، وغیرہ] تصویر خاموش تعصبات کو دعوت دینے کے مترادف ہوتی ہے۔ اس لیے رضاکارانہ طور پر تصویر ڈالنے کی کوئی ضرورت نہیں۔

نام: وہ لکھیں جو آپ کی اسناد پر لکھا ہے۔

مقصدِ ملازمت [objective]: یہ حصہ عموماً کہیں سے کاپی پیسٹڈ ہوتا ہے: کہ میں کسی ایسے ادارے میں کام کرنا چاہتا ہوں جہاں مجھے اپنی تمام صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کا موقع ملے، وغیرہ۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ آپ یہ سی وی ایم اے میں داخلے کے لیے بھیج رہے ہیں، کسی ادارے میں کام کے لیے نہیں۔ اگر آپ نے یہ سی وی نوکری کے لیے بھی تیار کیا ہوتا تو بھی دنیا کا کوئی بھی ادارہ آپ کو آپ کی 'تمام' صلاحیتیں استعمال کرنے کی اجازت دینے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ یعنی اگر آپ اکاؤنٹنٹ کی نوکری کے لیے اپلائی کر رہے ہیں تو ادارے کو اس میں کوئی دل چسپی نہیں کہ آپ گانا گاسکتے ہیں، تیراکی جانتے ہیں یا الٹی قلابازی لگا سکتے ہیں۔ اس لیے بلاوجہ کاپی پیسٹڈ مقصدِ ملازمت ڈال کر آپ اپنی ریجیکشن خود لکھ رہے ہیں۔ سی وی میں 'ابجیکٹو' لکھنے کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی۔

والد کا نام: سی وی میں ولدیت لکھنا غیر ضروری ہے۔

تاریخ پیدائش: اگر آپ کم عمر ہیں تو آپ کی ایڈمشن کمیٹی یا ایمپلائر آپ کو بچہ سمجھ کر ریجیکٹ کر سکتا ہے، اور اگر زیادہ عمر کے ہیں تو اوورایج جان کر۔ دوسری بات یہ ہے کہ تاریخ پیدائش آپ کی اہم معلومات میں سے ایک ہے جسے آپ کو کسی ایسی جگہ نہیں لکھنا چاہیے جو پبلک ہو۔

شناختی کارڈنمبر: کبھی بھی نہیں لکھنا چاہیے۔

مذہب: سی وی میں مذہب لکھنے کی بھی ضرورت نہیں ہوتی۔

قومیت: بالکل بھی کوئی ضرورت نہیں۔

ای میل ایڈریس: اگر آپ کے پاس بہ طور ملازم یا بہ طور طالبِ علم کوئی تنظیمی ای میل [aaaa.bbbb@qau.edu.pk] ہے تو وہ استعمال کریں۔ اگر نہیں ہے تو اپنے پہلے اور آخری نام کو ملا کر کوئی پروفیشنل سا ای میل ایڈریس بنا کر وہ استعمال کریں۔ تاہم کبھی بھی "دیرےداوڈیرا ایٹ جی میل ڈاٹ کام"، یا "پرنس آف گوجر خان ایٹ یاہو ڈاٹ کام" قسم کا ای میل استعمال نہ کریں۔

موبائل نمبر: کوشش کریں کہ اپنا ای میل باقاعدگی سے دیکھیں تا کہ موبائل دینے کی ضرورت نہ پڑے۔

ازدواجی حیثیت: غیر ضروری۔

تعلیم: اس کے آگے عموماً ایک ٹیبل بنا ہوتا ہے جس میں ڈگری/سرٹیفکیٹ، ادارہ، سال اور حاصل کردہ نمبروں کی پرسنٹیج درج ہوتی ہے۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ سی وی میں ٹیبل دینے سے اجتناب کریں۔ دوسرے یہ کہ پرسنٹیج دینے کی کوئی ضرورت نہیں، خاص طور پر ایسی صورت میں کہ جب آپ کی ہر سطح پر پرسنٹیج کوئی اسی پچاسی فی صد سے اوپر نہ ہو۔

یاد رکھیں کہ سی وی کا مقصد انٹرویو تک پہنچنا ہوتا ہے۔ کوئی بھی ایسی معلومات نہ ڈالیں جن سے کوئی خواہ مخواہ آپ کے خلاف ہو جائے۔ بس اتنی معلومات دیں کہ جن سے آپ کی تعلیم و تربیت اور تجربہ معلوم ہو مگر ساتھ ساتھ آپ کے بارے میں مزید جاننے کا تجسس بھی پیدا ہو اور ملنے کا اشتیاق بھی۔

سہيل مہدی

سب کچھ جو ہٹانے کے لیے کہا ہے درست ہے۔ تاریخ پیدائش نہ لکھیں سن پیدائش درج کردیں کوئی پندرہ سال hiring process کا حصہ رہا ہوں بہت سے اداروں میں کافی ملازمتوں میں کسی خاص عمر کی حد یا کم از کم عمر دونوں کی ضرورت پالیسی کے تحت ملازمت دی جاتی ہے اس میں بہت سی جگہ فون کرکے عمر کا معلوم کرنا کبھی کبھی مشکل ہوجاتا ہے اور درخواست دینے والا سائل مقابلے سے باہر ہوجاتا ہے۔ اس لیے سن پیدايش درج کردیں باقی لوازمات نوکری ملنے کے بعد درکار ہوتے ہیں۔ تصویر ۔ ولدیت ۔ شناختی کارڈ وغیرہ۔