ايف آئ  آر اور كيريكٹر سرٹيفكيٹ

مصنف : محمد رضوان

سلسلہ : معلومات

شمارہ : مارچ 2026

معلومات

ايف آئ  آر اور كيريكٹر سرٹيفكيٹ

محمد رضوان

عبدالرحمٰن فریاد پر لاہور کے تھانہ نوانکوٹ کی پولیس نے ایف آئی آر درج کی، الزام یہ تھا کہ وہ ایک ایسے رکشہ میں سوار تھا جس میں پتنگ بازی کا سامان موجود تھا۔ تاہم جب کیس عدالت میں چلا تو عدالت اس نتیجے پر پہنچی کہ ملزم کیخلاف کوئی ٹھوس ثبوت موجود نہ ہیں اور اسے ضابطہ فوجداری کی دفعہ 249-اے کے تحت بَری کردیا، یہ دسمبر 2024ء کی بات ہے۔

مارچ 2025ء میں عبدالرحمٰن کو برطانیہ جانے کیلئے 'کریکٹر سرٹیفکیٹ' کی ضرورت پڑی۔ پولیس نے اسے مذکورہ بالا ایف آئی آر میں بریت کی کریمنل ہسٹری درج کرکے سرٹیفکیٹ جاری کردیا، عبدالرحمٰن نے اس پر اعتراض کیا کہ جب وہ بری ہوگیا ہے تو پھر اس کا ذکر کیوں؟ اس نے ہوم سیکرٹری پنجاب کو درخواست دی کہ اسے اس FIR کو مینشن کیے بغیر سرٹیفکیٹ جاری کیا جائے۔ مگر درخواست یہ کہہ کر مسترد کر دی گئی کہ پولیس رولز کے مطابق ایک دفعہ FIR ہوجائے تو اسکا ریکارڈ 60 سال تک محفوظ رکھا جاتا ہے، لہذا کسی بھی ایف آئی آر میں ملوث شخص کا ریکارڈ ڈیلیٹ نہیں کیا جا سکتا۔ البتہ اگر کوئی ملزم عدالت سے بری ہوجائے تو اسکا ریکارڈ اپڈیٹ کرکے "بری" لکھ دیا جاتا ہے اور اسکے ذکر کے ساتھ ہی کریکٹر سرٹیفکیٹ جاری ہوتا ہے۔

عبدالرحمٰن نے اس فیصلے کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کیا جہاں جسٹس عبہر گل صاحبہ نے گذشتہ سال جولائی میں فیصلہ سنایا۔عدالت نے کہا کہ سائل کیخلاف کوئی مخرب اخلاق یا ریاست کیخلاف جرم کا الزام نہیں تھا۔ اسکی بَریت کیخلاف سرکار نے اپیل بھی نہیں کی۔ محض FIR کے درج ہونے پر ایک ایسے شخص پر کریمنل ہسٹری کا داغ لگا دینا غیر منصفانہ ہے جو باقاعدہ ٹرائل کے بعد بری ہو چکا ہو۔ ایف آئی آر کا ریکارڈ ضرور رکھیں لیکن صرف محکمہ کے اندرونی ریکارڈ اور محدود استعمال کیلئے۔ کریکٹر سرٹیفکیٹ میں بریت کے باوجود پچھلی ایف آئی آر کا ذکر کرنا آئین کے آرٹیکل 14 کے تحت انسانی وقار کے بنیادی حق کی بھی واضح خلاف ورزی ہے ۔

عدالت نے عبدالرحمٰن کی رِٹ پٹیشن منظور کرتے ہوئے سیکرٹری داخلہ کو ہدایت کی کہ سائل کو ایک نیا پولیس کریکٹر سرٹیفکیٹ جاری کیا جائے جس میں مذکورہ بالا ایف آئی آر کا کوئی ذکر نہ ہو۔ مزید حکم دیا کہ اس فیصلہ کی کاپی آئی جی اور چیف سیکرٹری پنجاب کو بھی بھجوائی جائے تاکہ آئندہ بھی اس فیصلے روشنی میں کریکٹر سرٹیفکیٹ جاری کیے جائیں۔

لاہور ہائیکورٹ نے حال ہی میں ایک اور فیصلہ میں قرار دیا ہے کہ جس ملزم کو بطور سزا پروبیشن پر بھی بھیج دیا جائے اس FIR کا ذکر بھی کریکٹر سرٹیفکیٹ میں نہ کیا جائے۔