پاكستانيات
جھوٹ اور سوشل ميڈيا
عامر عبداللہ
رات ایک رفیقِ دیرینہ کے ہاں پہنچا تو تین مہمانوں سے ملاقات ہوئی۔ تینوں جوان اپنے شعبے کے گُرو ہیں او ر ماضی قریب میں ایک جماعت کے ڈیجیٹل میڈیا پروپیگنڈے کے کرتا دھرتا۔ معلوم ہوا اب تائب ہوکر دوسرے دھندوں میں مشغول ہوچکے ہیں۔ اپنے پرانے کارنامے ہنس ہنس کر بتاتے رہے اور دیگر حاضرینِ مجلس ششدر۔
بتایا کہ کیسے وہ سوشل میڈیا پراپیگنڈے کے زور پر سیاہ کو سفید ثابت کرتے۔ بھینسوں کے نیلام سے لے کر ٹوائلٹ اور باتھ ٹبوں کے نام پر کرپشن کے جھوٹے سکینڈل کیسے وائرل کیے جاتے۔ لوگوں کی پگڑیاں کیسے اچھالی جاتیں۔ اس کے لیے باقاعدہ سائنسی انداز کے منصوبے بنتے، روز اجلاس ہوتے اور کارکردگی ماپی جاتی۔ دروغ گوئی کے نیٹ ورکس کو کیسے متحرک کیا جاتا اور معصوم لوگوں کو کیسے manipulate کیا جاتا۔ جھوٹی خبروں، سپن ڈاکٹرنگ spin doctoring ، فیک تصویروں پر مشتمل ایک جہانِ حیرت تھا۔
اس نیٹ ورک کے تمام سرخیلوں کو شاندار تنخواہیں دی جاتیں ۔سیٹھ (عرفِ عام میں اے ٹی ایم) سیاست دان ادائیگیاں کرتے۔بین الاقوامی اداروں کے میڈیا ڈیپارٹمنٹس سے لوگوں کو اس “کام” کے لیے توڑا جاتا۔
ایک عملی مظاہرہ انہوں نے ہمارے سامنے کرکے دکھایا۔ ان میں سے ایک نے ہمارے سامنے ایک ٹویٹ کی اور منٹوں میں اس کے نیچے گالیوں اور بدتمیزی کا طوفان آگیا۔ جن صاحب کی ٹویٹ تھی انہیں انہی کے پرانے ہم جماعت ننگی گالیاں دے رہے تھے۔ وہ صاحب باآوازِ بلند خود کو پڑنے والی گالیاں سناتے اور قہقہوں کے ساتھ باقی لوگ پیٹ پکڑ لیتے۔ مجھے حیرت زدہ دیکھ کر انہوں نے “سمجھایا” کہ اب سوشل میڈیا پر جتنے لوگ آپ کی ٹویٹ کے نیچے جواب دیں ، آپ کے ویوز اور نتیجتاً آپ کی اِنکم میں اضافہ ہوتا ہے۔ جو لوگ گالیاں دے رہے ہیں وہ اپنے جوش ، جھنجھلاہٹ اور غصے میں بالواسطہ ہمیں ڈالروں سے نواز رہے ہیں۔
میزبان پرانے دوست ہیں۔ میری خاموشی اور کیفیت بھانپ کر انہوں نے موضوع بدل دیا۔ تیلی لگا کر اور گالیاں کھا کر کمائی کرنے کا یہ ڈھنگ اپنی جگہ افسوسناک ہے۔ میرے لیے لیکن صدمے اور افسوس کا باعث وہ tone deaf بے حسی تھی جس میں نئی نسل کے یہ “سرخیل “ مبتلا تھے۔ سیاسی نقصان اپنی جگہ لیکن وہ جلد ٹھیک ہو سکتا ہے۔ سماج میں جس تقسیم ، نفرت اور پولرائزیشن کا باعث ان لوگوں کا “کام” بنا ہے اس خسارے کا احساس ہے اور نہ کوئی جلد نظر آنے والا تدارک۔