اسلامائزيشن

مصنف : حافظ صفوان

سلسلہ : پاکستانیات

شمارہ : فروری 2026

پاكستانيات

اسلامائزيشن

.حافظ صفوان

پیارے بچو، یہ اُس وقت کی بات ہے جب ہم چھوٹے چھوٹے ہوتے تھے اور مملکتِ خداداد میں مردِ مومن مردِ حق ضیاء الحق کی مجلسِ شوریٰ میں ڈاکٹر اسرار احمد سمیت فلاں فلاں مصلحینِ کرام زندگی کے ہر شعبے کے ختنے کر رہے تھے۔ تعلیم کا شعبہ ختنے کے سب سے زیادہ لائق تھا کیونکہ سارا غیر اسلامی زہر یہیں سے آتا ہے۔ دیکھتے دیکھتے ہر طرف اسلام ہی اسلام ہوگیا۔ الحمدللہ آج ہم وہی بویا کاٹ رہے ہیں۔

حضرت امیر المومنین علیہ السلام نے، ہمراہ دیگر تحفوں کے، انگریزی کے دو لفظوں کا تحفہ بھی دیا۔ Ummah اور islamization وہ دو لفظ ہیں جو آپ نور اللہ مرقدہ نے باقاعدہ سرکاری نوٹیفکیشن کرکے اوکسفرڈ اور دیگر انگریزی لغات میں داخل (penetrate) کرائے۔ اِن دو الفاظ کے دخول کے بعد اردو کی چارپائی میں ایسی کان پڑی ہے کہ، بقول یوسفی صاحب قبلہ، محلے کے لونڈے بھی کدوا دیکھے لیکن یہ نہ نکلی۔

امہ تو چلیے عربی کا مستعار (borrowed) لفظ ہے اِس لیے ہضم ہوچکا ہے، اسلامائزیشن وہ گوہرِ تابدار اور نیرِ تاباں ہے جس کا بدل دنیا کی کسی زبان میں نہیں ہے۔ الحمدللہ آپ سود کو اسلامائز کرسکتے ہیں، آپ سائنس کو اسلامائز کرسکتے ہیں، آپ تعلیم کو اسلامائز کرسکتے ہیں، آپ ماہپارہ صفدر کو دوپٹہ اوڑھا کر ریڈیو ٹی وی کو اسلامائز کرسکتے ہیں، آپ قرآن و حدیث کو اسلامائز کرسکتے ہیں، اور سب چھوڑیے، آپ بفضلِ ربی اسلام کو بھی اسلامائز کرسکتے ہیں۔اِس آخری جملے کی سمجھ مجھے 1999ء میں لاہور میں مولانا علی میاں سے ملاقات میں آئی۔ میں نے اُنھیں شاہ فیصل ایوارڈ اور غالبًا اوکسفرڈ کے کسی علمی اعزاز پر مبارک باد دی تو فرمانے لگے کہ یہ یونیورسٹیاں اور اِن کی یادگاری کرسیاں اِس لیے ہم مسلمانوں کو اپنے ہاں بڑے بڑے مشاہروں پر رکھتی ہیں کہ ہم اسلام کے لیے جو بھی کچھ کر رہے ہوں، وہ ہماری ہر چھوٹی بڑی کوشش سے آگاہ رہیں۔ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ انگریز ہمیں تنخواہیں دے کر اور اسلام پر ڈگریاں پی ایچ ڈیاں کرا کر اسلام کو فائدہ پہنچا رہا ہے؟ عرض کیا کہ پاکستان میں جو اسلامائزیشن ہوئی ہے اُس کی فنڈنگ تو موتمرِ عالمِ اسلامی نے کی ہے۔ فرمانے لگے کہ موتمر کے بننے کے بعد کیا دنیا بھر میں مسلمان پہلے سے زیادہ قتل نہیں ہو رہا؟

یہ جملہ وہ نقطہ تھا جہاں سے میں نے خود کو نئے فریم آف ریفرنس میں پایا۔ مجھے اسلامائزیشن کی سمجھ آنا شروع ہوئی اور معلوم ہوا کہ اسلام کو کس طرح اسلامائز کیا گیا ہے۔ سود کی اسلامائزیشن یعنی اسلامی بینکاری کو سمجھا۔ ایک وقت تھا کہ بھائی عبدالوہاب صاحب سمیت سب یہ بتاتے تھے کہ بینک کی عمارت کے سائے میں کھڑے ہونا بھی حرام ہے۔ پھر چشمِ فلک آج آنکھیں پٹ پٹا کر دیکھ رہی ہے کہ مدارس کے اندر اسلامی بینکنگ کے کورس چل رہے ہیں۔ تعلیم کی اسلامائزیشن کو سمجھنا شروع کیا تو یہ راز کھلا کہ کس طرح اسلامیات ایک کتاب سے نکل کر اردو و انگریزی کی گرامروں اور فزکس کیمسٹری بیالوجی تک پر پیرِ تسمہ پا بن کر چمٹی ہوئی ہے۔ مجھے یاد آیا کہ چودھری خوشی محمد ناظرؔ کی “جوگی” جسے ہم لہک لہك کر پڑھتے تھے، آج وہ کسی کتاب میں نہیں ہے۔ اِس نکتے پر کچھ عرض معروض۔

نظم جوگی جس کا پہلا حصہ “نغمۂ حقیقت” اور دوسرا “ترانۂ وحدت” ہے، آج ہمارے ہاں اِس لیے چھانٹی کا نشانہ بن چکی ہے کہ یہ اُس پیغام کی پرچارک ہے جو ہندوستانیوں کو اکٹھے رہنے کا درس دیتا تھا۔ نظریاتی سرحدوں پر تعینات سرخ شرٹوں اور پیلی پتلونوں والے پراپرٹی ڈیلروں نے جب دیکھا کہ یہ مائنڈسیٹ اُس سوچ کو ڈائنامائیٹ کرتا ہے جو “ہندو سے رشتہ کیا؟ نفرت کا انتقام کا” سے پیدا کرنا مقصود ہے تو نصابِ تعلیم کی اسلامائزیشن کے دوران یہ شاندار نظم بھی قربان ہوگئی۔

سو اے پیارے بچو، امہ کی طرح لفظ اسلامائزیشن کا بھی ایک ورلڈ ویو ہے اور یہ لفظ اِسی کے اندر سمجھ میں آتا ہے۔ امید ہے کہ اسلامائزیشن کا لفظ تمھیں آئندہ نہیں بھولے گا۔ مزید یاد رہے کہ اسلامائزیشن کا ترجمہ “اسلام کاری” ہی درست ہے۔

ویسے اصول کی بات ہے کہ جو چیز انڈیا میں درست ہے اُسے پاکستان میں قابلِ نفرت گردانا جانا چاہیے تبھی دونوں طرف کے چوکیداروں کے پیٹوں کا دوزخ بھرتا رہے گا۔ سیکولر ازم انڈیا میں عین شعائرِ اسلامی اور طریقۂ نبوی ثابت کیا جاتا ہے، پاکستان میں اِس کا بڑی حے سے حرام ہونا شرعی و معاشی ضرورتوں کے تحت فرضِ عین ہے۔ مولانا وحید الدین خاں کا مسئلہ بھی بالکل اِسی طرح واضح ہے۔ چونکہ پاکستان کا مولوی، نیم مولوی، فیشنی مولوی، پارٹ ٹائم مولوی، رمضانی مولوی، قل خوانی مولوی، حلالہ باز مولوی، محرم الحرامی مولوی، اسلامی بینکار مولوی، مضاربہ مولوی، وغیرہ وغیرہ، مولانا وحید الدین خاں کے خلاف ہے اِس لیے اِن کا ہندوستان میں حق پر ہونا نصِ صریح سے ثابت ہوا۔ فہو المراد۔ مضمون ختم ہوا۔ اب نظم جوگی کے یہ شعر پڑھ لیجیے:

پرماتما کی وہ چاہ نہیں اور روح کو دل میں راہ نہیں

ہر بات میں اپنے مطلب کے تم گھڑ لیتے ہو خدا بابا

تن من کو دھن میں لگاتے ہو ہرنام کو دل سے بھلاتے ہو

ماٹی میں لعل گنواتے ہو تم بندۂ حرص و ہَوا بابا

دھن دولت آنی جانی ہے یہ دنیا رام کہانی ہے

یہ عالَم عالَمِ فانی ہے باقی ہے ذاتِ خدا بابا