گڈ طالبان اور بيڈ طالبان

مصنف : سید مہدی بخاری

سلسلہ : پاکستانیات

شمارہ : دسمبر 2025

پاكستانيات

گڈ طالبان او ربيڈ طالبان

مہدی بخاری

خوشا وہ دور کہ افغانستان کی جنگ کو یہ کہہ کر جہاد کا نام دیا گیا کہ یہ ہماری اپنی جنگ ہے جس کا مقصد روس کو ہمارے گرم پانیوں تک پہنچنے سے روکنا ہے۔ افغانستان کی جنگ کو اپنی جنگ کہہ کر طالبان پیدا کیئے گئے۔مدارس سے جہادی نکلتے رہے۔ امریکی ڈالرز اور سٹنگ میزائلز وافر ملتے رہے۔ پھر وہ دور آیا جب پاکستان کا کوئی شہر، بازار، مسجد و امام بارگاہ خود کش حملوں سے محفوظ نہ رہے۔ لیکن ہمیں بتایا جاتا رہا دراصل یہ ٹی ٹی پی ہے جو بیڈ طالبان ہیں۔ افغانستان میں ٹی ٹی اے گڈ طالبان ہیں۔ جب گڈ طالبان اقتدار میں آئیں گے سب ویل ڈن ہو جائے گا۔ اب جب کہ لگ بھگ نوے ہزار عام افراد تا فورسز کے جوان پاکستانی یوں اُڑ چکے ہیں جیسے وہ روئی کے گولے تھے اب ریاست گڈ اور بیڈ طالبان کو ایک سکے کے دو رخ قرار دے رہی ہے۔ یہی بات جب ہم کیا کرتے تھے ہم کو طرح طرح کے القابات سے نوازا جاتا تھا۔

سوچنا تو یہ ہے کہ انتہاپسندی کیسے ہماری سرشت میں داخل ہوئی کہ جس نے گھریلو معاملات سے لے کر ہر شعبہ ہائے زندگی میں قدم قدم ڈیرے ڈالے ؟ اور اس زہر کا تریاق کیا ہے ؟۔ پہلے میں یہ سوچا کرتا تھا ملائیت و جہالت کے گٹھ جوڑ نے اس قوم کو وحشی ہجوم میں بدل کر رکھ دیا ہے، مگر، نہیں، ایسا صد فیصد بھی نہیں۔

سنہ 2013 میں لاہور میں واقع پنجاب یونیورسٹی کے ہاسٹل سے ا ل ق ا ع د ہ کے دہشتگردوں اور لاہور ہی کی ایک اور یونیورسٹی سے ان کے کچھ اور ساتھیوں کی گرفتاری کی خبر آئی تو اکثر آنکھوں میں حیرت اور ہونٹوں پر سوال تھا کہ کیا اب یونیورسٹیوں میں بھی؟۔ اس حیرت کی ایک بڑی وجہ ہماری اجتماعی یادداشت کی کمزوری ہے۔ ہم نے برادر اسلامی ملک سے درآمد کردہ مذہبی انتہاپسندی کی پنیری صرف پہاڑوں سے گھرے مدرسوں میں ہی نہیں لگائی اس کی بارآور نسلیں تیار کرنے کو ہماری یونیورسٹیاں ہی لیبارٹری کے طور پر استعمال ہوتی رہی ہیں۔

کس کس بات کا رونا رویا جائے ؟۔ وہ "مرد مومن مرد حق" اور افغان جنگ ہی کا زمانہ تھا جب عبداللہ عظام نامی حضرت اسلام آباد میں بننے اور برادر اسلامی ملک کے ریالوں پر چلنے والی ایک یونیورسٹی میں پڑھانے آئے تھے۔جیسے ہی افغان جنگ کی آگ تیز ہوئی، عظام صاحب پڑھانا وڑھانا چھوڑ چھاڑ افغان مہاجرین کی خدمت کا عزم لیے پشاور جا پہنچے اور وہاں ایک بم دھماکے کا نشانہ بن گئے۔ نہیں نہیں، ان پر حملہ نہیں ہوا تھا۔ وہ تو کیمپ میں کچھ "تیار" کر رہے تھے کہ تیار شدہ سامان وہیں پھٹ پڑا۔ رہا بن لادن کی جانب سے عبداللہ عظام کی یاد میں قائم ہونے والا ال ق ا ع د ہ کا عبداللہ عظام گروپ تو وہ آج بھی اسلامی دنیا اور عہدِ کفار کے متعلق کاروبارِ تحقیق میں مصروف ہے!۔

اسی یونیورسٹی میں آگے چل کے ارتیاض گیلانی نام کے ان صاحب نے تدریس کے فرائض سنبھالے جو اسلام آباد کے سیکٹر جی پندرہ میں اپنے گھر پر پڑنے والے چھاپے کے بعد سے بوجوہ آج تلک دفتر نہیں آ سکے۔ کہنے والے کہتے ہیں کہ ان کی غیر حاضری کی وجہ وہ چند آر پی جی راکٹ اور دو چار فضائی نگرانی کے لیے استعمال ہونے والے ڈرون تھے۔لاہور کی یونیورسٹی میں جس تنظیم نے ا ل ق ا ع د ہ کے مجاہدوں کو قیام و طعام کی سہولت صرف مشرقی آداب میزبانی نبھانے کے لئے دے رکھی تھی اس تنظیم کے کشمیر میں جا کر غائب ہوجانے والے مجاہدوں کی غائبانہ نماز جنازہ یونیورسٹی کے سبزہ زاروں میں دس سال پیچھے تک بہت باقاعدگی سے ادا کی جاتی تھی۔

چلیئے سرکاری یونیورسٹیوں اور اسلامی جماعتوں کو جانے دیجیے کہ ان دونوں میں متوسط طبقے کے مذہبی رجحان رکھنے والے لوگوں کے سوا ہوتا ہی کون ہے۔ ڈینئیل پرل کے قتل میں سزا پانے اور جیل کی کوٹھڑی سے پرویز مشرف کو دھمکی آمیز فون کرنے والے عمر سعید شیخ لیکن ذرا مختلف بیک گراؤنڈ سے تھے۔ان حضرت نے لاہور کے اس تعلیمی ادارے میں پڑھا تھا جس کی کرکٹ ٹیم میں ہمارے چکری کے چوہدری اور بنی گالا کے چئیرمین اکھٹے کرکٹ کھیلا کرتے تھے۔ لندن میں پیدا ہونے والے عمر سعید شیخ کو ان کے والد غیر شرعی مشاغل سے بچانے کو لاہور لائے تھے لیکن لاہور میں انہیں جو شوق چرایا اس سے وہ لندن واپس لے جائے جانے کے باوجود بچ نہیں پائے۔امریکی صحافی کے اغواء اور قتل سے پہلے لندن سکول آف اکنامکس میں زیر تعلیم رہنے والے عمر شیخ ہندوستان میں ایک امریکی اور تین برطانوی شہریوں کو اغوا کر کے جہاد کشمیر کے جانے پہچانے کردار مولانا مسعود اظہر کو رہا کروانے کی ناکام کوشش کر چکے تھے۔

تعلیمی اداروں کو اگر کچھ دیر کے لیے بھول کر سکیورٹی کے اداروں پر نظر ڈالی جائے تو وہاں بھی صورتحال کچھ بہت اچھی نظر نہیں آتی۔ سول اداروں کی بات کریں تو کوئٹہ میں ڈی آئی جی پر حملہ کرنے والے حضرت کا پولیس لائنز کی مسجد میں قیام ہو یا بھارہ کہو میں پنجاب پولیس کے ایک ایس پی کے بھائی کے گھر سے بارود بھری گاڑی کی برآمدگی۔ اور پھر کیپٹن عثمان نامی اس شخص کا کیا کریں جو جی ایچ کیو حملہ کیس کا ماسٹر مائنڈ اور خود فوجی ملازمت سے باغی ہوا شخص تھا ؟۔

انتہاپسندی کا جن بڑا ہوتا ہوا دیو بن چکا ہے۔ وہ بی ایل اے کی مجید بریگیڈ ہو یا ٹی ٹی پی نیا لبادہ اوڑھ کر آ جائے۔ دہشت گردی بنام سرزمین ہو یا بنام مذہب ہو وہ صرف دہشت گردی ہی ہوتی ہے۔ دکھ تو یہ ہے کہ ابھی تک ہمارے کچھ مذہبی اور سماجی حلقے جو کسی سبب فوج سے نفرت میں مبتلا ہو چکے ہیں ان کو اس پر دکھ بھی نہیں۔ وہ دہشت گردانہ حملوں کی خبروں پر پھبتیاں کستے ہیں اور جوانوں کی شہادتوں کا مزاق اڑانے میں مگن ہیں۔

ریاستی کرتے دھرتوں سے گزارش کرنا چاہوں گا براہ مہربانی اپنے نلکوں کی لیکج بھی چیک کر لیں۔ ایک بار یونیوسٹیوں ، ہوسٹلز اور تنظیموں کی سکروٹنی بھی کر لیں ۔ پاکستان میں بہت لوگ ابھی بھی افغان حکومت کا درد رکھتے ہیں۔ وہ درد سیاسی ہو یا طالبانی مائنڈ سیٹ کے سبب ہو۔۔اس کے واسطے دوا دارو بھی کریں۔ عین نوازش ہو گی۔