تائی (پچھلے زمانوں كی مروت اور روايات كی ايك جھلك)

مصنف : واجد امير

سلسلہ : خاكے

شمارہ : مارچ 2026

خاكے

تائی

(پچھلے زمانوں كی مروت اور روايات كی ايك جھلك)

واجدامير

تائی آئیں، تائی آئیں، تائی آئیں؛ ہماری حویلی میں دو ہی مرتبہ بچوں کا شور اُٹھتا تھا، ایک تائی کے دہلی سے آنے پہ دوسرے عید پہ قربانی کی گائے کے آنے پہ؛ گائے آئی، گائے، آئی، گائے آئی- کئی بچے ہڑبڑا کے شور شرابے میں غلط صدا لگا دیتے تھے یعنی تائی کے آنے پہ گائے آئی، گائے آئی اور گائے کی آمد پہ تائی، آئی تائی آئی، اس ہڑبونگ میں کسی کی کچھ سمجھ میں نہیں آتا کہ کیا کہا جائے، سو جس کی جو سمجھ میں آتا وہی کہہ اُٹھتا۔

حشمت تائی بھی کمال عورت تھیں -قیامِ پاکستان سے قبل ان کے شوہر مرزا یوسف بیگ ہمارے دادا حافظ رحیم بخش کے پاس منشی تھے۔ جب منشی گیری نہ رہی تو مرزا یوسف بیگ نے جالندھر چھاؤنی کے اسی محلے میں پرچون کی دکان ڈال لی۔ حشمت تائی اپنے شوہر کے ساتھ انڈیا کی کسی ریاست سے جالندھر آ کے رہی تھیں، اولا د تھی نہیں ان لوگوں کی۔ یہ دونوں میاں بیوی جالندھر چھاؤنی بہت عرصہ رہے۔ تائی کا ہمارے ددھیال کے جالندھر والے گھر میں ہر وقت کا آنا جانا لگا رہتا تھا اور گھر کے ایک فرد کی حیثیت حاصل تھی۔ ہمارے دادا کسی سے تعلق رکھتے تو ہمیشہ نبھاتے تھے۔پھر یہ لوگ کسی وجہ سے جالندھر چھوڑ گئے۔ انہیں اپنے گھر دلی جانا پڑا جو ان کی جنم بھومی تھی -اسی اثناء میں پاکستان معرضِ وجود میں آیا اور ہمارے ددھیال پاکستان آ گئے۔ جب حالات بہتر ہوئے اور قتل و غارت گری کم ہوئی تو ایک دوسرے کو تلاش کیا گیا۔ تبھی حشمت تائی کے کچھ رشتہ دار غالباً کرشن نگر میں رہتے تھے انہی سے یا کسی اور ذريعے سے پتہ چلا کہ حشمت تائی دلی میں ہیں اور زندہ ہیں، اُن کے شوہر کا انتقال ہو گیا ہے۔ چونکہ تائی لاولد تھیں سو انہوں نے ایک بیٹا اور ایک بیٹی پالے ہوئے تھے۔ بیٹے کا نام عامل تھا اور بیٹی کا نام سلطانی تھا، جو بعد ازاں بیاہ کے پاکستان آئیں ان کے شوہر محکمہ موسمیات میں ملازم ہو گئے۔ یہ خاتون نہ صرف پاکستان بلکہ لاہور اور کرشن نگر آن کے آباد ہوئیں۔ ان کے ساتھ بھی خاندانی مراسم تھے بلکہ بہت قریبی تعلق رہا، عامل بھائی پہلے پہل تائی کے ساتھ پاکستان آتے تھے اور مہینوں رہ کے جاتے۔

تائی پرانی دلی میں رہتی تھی انہوں نے کسی اسکول میں آیا کی ملازمت کر رکھی تھی جب گرمیوں کی چھٹیاں ہوتی تھیں تو تائی پاکستان آجاتی تھیں۔حویلی میں وہ دن خوشی کا ہوتا جب خط آتا کہ تائی آنے والی ہیں۔ کئی بار تائی بغیر اطلاع کے ہی پہنچ جاتیں گلی میں تانگہ آتا اور کمروں کے دروازوں سے سب باہر نکلتے خواتین دوپٹے سنبھالتیں اور ہم سب بچے شور مچاتے گلی تک آتے کہ "تائی آئیں، تائی آئیں!"

ہم سے بڑی بہنوں نے بتایا کہ بہت پہلے ہمارے گھر کی خواتین بھی تائی کو لینے اسٹیشن جایا کرتی تھیں اور جب تائی آجاتیں تو تانگے کے گرد ہجوم اکٹھا ہو جاتا۔ محلے دار بھی تائی کا استقبال کرنے آ جاتے، جانیے ایک ہنگامہ ہوتا۔ اسی میں تائی کے ٹرنک، بستر بند، صراحی اور دوسرے سامان کی ٹوکریاں ہاتھوں ہاتھ صحن میں پہنچا دی جاتیں- دادی جنہیں سب بُوا جی کہتے تھے بچوں کو ڈانٹتیں اور ہمیشہ غُل کو غلو ہی کہتیں، یہ ہنگامہ سرد ہوتا تو تائی کا سامان ان كے مخصوص کمرے میں پہنچایا جاتا جو سب سے اُوپر سیڑھیوں کے اختتام پہ تھا۔ یہ ایک قسم کی راہداری بھی تھی اور کمرہ بھی۔ جس سے ہو کے اُوپری منزل کے صحن تک جایا جاتا تھا، گزرنے کے لیے اگرچہ باہری دیوار پہ بنے شیڈ (چھجا مع جنگلے) سے بھی گزرا جاتا تھا جہاں سے گھر کی خواتین بھی دوپٹہ کا پلو منہ پہ ڈال کے گزر جاتی تھیں۔ اوپری منزل ہی وہ جگہ تھی جہاں سب بڑے رہتے تھے دادا، دادی، پھوپھیاں، چھوٹے، چچا، چچیاں، اور بچے رہتے تھے۔

حویلی میں خوشی کی لہر یں دوڑی رہتیں اور ان میں تیزی تب آتی جب تائی کا صندوق کھُلتا اور سب کو انڈیا سے آئی سوغاتیں ملتیں۔ ہر خاندان کو لکڑی کی کھڑاویں، پلاسٹک اور کانچ کی چوڑیاں، آم پاپڑ، ململ، کیلے، پان چھالیہ، تمباکو، اور اسی قسم کے دوسری چیزیں تحفتاً ملتیں۔ تائی سب سے پہلے دادا کے کمرے میں جاتیں، پھر فرداً فرداً سب کے کمروں میں پھیرا ڈالا جاتا۔ اگر ایک دن میں یہ ممکن نہ ہوتا تو دوسرا دن اسی کام کے لیے وقف ہوتا۔ گھر سے فراغت انہیں محلے کے سب لوگوں کے حال احوال پوچھنے لے جاتی۔

جب تائی کو فراغت ملتی تو سب اپنی اپنی طرف سے کھانے کی دعوت دیتے جو قبول کر لی جاتی۔ یوں سب گھروں میں پکوان بنتے اور بچوں کی بھی موج ہو جاتی اس موج کو آج کے بچے کیسے سمجھیں گے جنہیں ہر آسائش قدرت نے ان کی جنم کے ساتھ ہی ودیعت کردی ہے- بس یہ سمجھ لیں اپنی من مرضی کا کھانا اُس زمانے میں ممکن ہی نہیں تھا، بس جو بھی پکایا گیا ہے زہر مار کرنا پڑتا تھا۔ نہ کہیں شوارما، نہ برگر، نہاری، پائے مل سکتے تھے۔ اور اگر کہیں چنے (چکڑ چھولے) ہوتے بھی تھے تو صبح کے وقت۔ بازار سے سوائے دہی کے کچھ نہیں ملتا تھا بہت ہوا تو انڈا کھایا جاسکتا تھا۔

خیر بات ہو رہی تھی حشمت تائی کی۔ تائی کسی بھی معاملے پہ لجاجت یا درخواست کی قائل نہ تھیں بلکہ تحکمانہ طرزِ عمل سے اپنی بات منوانے کی عادی تھیں- مجال کیا کہ گھر کے کسی چھوٹے بڑے میں حکم عدولی کی روش دکھائی پڑے۔ جو خود سر تھے وہ بھی اس تحکمانہ لہجے کو سر جھکا کے اور مسکرا مسکرا کے سنتے تھے سر ہلانا اُس زمانے میں یوں بھی واجب تھا۔

تائی خاندان کے ہر معاملے میں دخل اندازی بھی کرتی تھی۔ کس کا رشتہ کہاں ہوا ہے۔ کون کسی کی بیٹی ہے، کس کا کس سے کیا تعلق ہے، سب خبر رکھتی تھیں۔ بہت سی باتوں کو سنی ان سُنی کر دیتی تھیں تاکہ متنازع نہ بنیں، جو ان کا حکم مانتے انہی پہ حکمرانی چلاتیں۔ جو آمادۂ بغاوت ہوتے ان سے باز پُرس نہ ہوتی بلکہ صرف نظرانداز کر دیے جاتے۔ شکایت یا سازش کہیں دکھائی نہ دیتی تھی بس بلا وجہ کا رعب تھا جسے جھاڑنے کی عادت تھی تو بھئی اسے سہنے والے بھی تھے۔

تائی کے انڈیا جانے کی تیاری بھی بہت ہوتی سب اپنی اپنی طرف سے تحائف لے کے آتے کچھ نہ کچھ انہوں نے منگوا کے بھی رکھا ہوتا، کسی کو حکم بھی دیا ہوتا کہ تُم میرے لیے یہ لے کے آنا- یقیناً جاتے سَمے پاکستانی کرنسی انڈین کرنسی میں بھی تبدیل کروا کے ہمراہ کی جاتی ہو گی۔عامل بھائی کے لیے الگ سے کپڑے وغیرہ ہوتے۔ اس کے علاوہ جب وہ تائی سے علیحدہ کراچی جانے کے لیے آتے تو کچھ دن ضرور ہماری حویلی میں ٹھہرتے۔ تب بھی دعوتیں ہوتیں کوئی ناشتہ کروا رہا ہوتا کوئی دوپہر کا کھانا کھلاتا کوئی رات کا۔

تائی کا انڈیا سے آنا ہمارے لیے خوشیوں بھرا پیغام ہوتا تھا پھر یہ سُنا کہ تائی نے دلی کے اسکول کی نوکری چھوڑ دی تب ہی ادا جی نے انہیں کہا کہ بس اب حشمت تم یہیں پاکستان آ جاؤ یہیں رہ لو یہ سب تمہارے اپنے ہیں کل تُمہاری میت کو غیر کاندھا دیں گے تو کیا تمہیں اچھا لگے گا؟ یہ ادا جی سے شاید آخری ملاقات تھی پھر پینسٹھ کی جنگ چھڑ گئی جس کے بعد کچھ عرصہ راستے بند رہے اسی زمانے میں ادا جی کا انتقال ہو گیا۔ پھر جب راستے کھلے اور تائی پاکستان آئیں تو یہیں کی ہو رہیں۔

تائی نے پاسپورٹ پھاڑ دیا ہو گا کیوں کہ کسی نے دیکھا ہی نہیں البتہ شٹل کاک بُرقعے میں ایک عدد تصویر مع جاہ و جلال کے اب بھی کسی کے پاس ہو گی۔ اُنہیں سیڑھیوں والا کمرہ مل گیا۔ ان کی گرجدار آواز ساری حویلی میں کہیں نہ کہیں سے سنائی دیتی رہتی۔ کبھی کسی کے کمرے میں داخل ہورہی ہوتیں، کبھی کسی کے کمرے سے نکل رہی ہوتیں۔ سرگوشیوں میں بات کرنا ان کی فطرت کے خلاف تھا۔ راز کی باتوں کے لیے اُن کا والیم کم کروایا جاتا تھا۔ سارے محلے میں تائی کا پھیرا رہتا خاص طور پہ سامنے شیخوں کی پرانی ملازمہ جینبا (زینب) سے گاڑھی چھنتی تھی۔ بہت بوڑھی زینب کے لیے کھانے دانے کا خیال رکھنا تائی نے اپنے ذمہ لے رکھا تھا- اُسے شیخوں کے گھر سے جو بھی کھانے کو ملتا ہو تو ملے مگر تائی اپنے تئیں کچھ نہ کچھ لے کے پہنچ جاتیں اس میں نقدی بھی ہوتی تھی، اور پھر وہ گلی میں کھڑے ہوکے؛ جینبے، جینبے کے آوازیں لگاتیں- ہر دکان دار سے ان کی واقفیت تھی، ہر گھر سے تعلق تھا، کبھی کسی کے گھر میں ہوتیں کبھی کسی کے گھر۔ کمائی کرنے والوں سے پیسے لینا نہ بھولتیں۔ اسی لیے صبح صبح حمید چچا سے پیسے لے لیتیں اور سارا دن بازار میں ماموں پرچون والے یا پھجو برف والے کے پھٹے پہ بیٹھ کے آتے جاتے صدا لگاتے ہوؤں کے کشکول میں سکّے ڈالتی رہتیں۔ عجیب بات تو یہ تھی کہ لگائی بجھائی کرنے کی عادت بھی نہیں تھی۔ نہ اپنی شان و شوکت دکھانے کا خبط تھا بس رعب ڈالنے کی عادت تھی اور تحکمانہ اندازِ تخاطب ہی پسند تھا۔

تائی درمیانے قد کی پکے رنگ کی تھیں، چہرہ جھریوں سے بھرا، ناک بڑا اور بہت پھیلا ہوا اور سارے چہرے پہ نمایاں لگتا- دہن کی باچھیں کھلی ہوئیں، بال کھچڑی، کانوں میں بالیاں تھیں جن کے سوراخ بڑھتے بڑھتے لَووں کو چیرتے آخری حد تک آ گئے تھے، آواز پھٹی ہوئی تھی، تائی ململ کا سفید کرتا، چوڑی پاجامہ اور سفید ہی دوپٹہ اوڑھتی تھی۔ پہلے پہل شٹل کاک بُرقعہ بھی پہنتی تھیں مگر جب کئی بڑی بوڑھیوں نے برقع کے جھنجھٹ سے چھٹکارا حاصل کیا تو تائی بھی اس صف میں شامل ہو گئیں۔ البتہ ہماری دادی نے برقع نہ اُتارا۔

دوسروں کے معاملات میں اس حد تک اختیارِ کلی حاصل تھا کہ اللہ جانے کب اباجی امی سے بات ہوئی بڑے بھائی طارق امیر کا رشتہ خود ہی ہماری چچی کی بھتیجی پہ ڈال آئیں جہاں پہلے ہی ہمارے پھوپھی زاد بھائی کی منگنی ہو چکی تھی۔ جب اپنا حکم نامہ ابا جی اور امیّ کو سنایا تو دونوں خوشی بھری مسکراہٹ سے کھل اُٹھے اور بس زبان ہو گئی تو سمجھ بات پکی ہو گئی، کوئی منگنی، نہ رسم ایک دن بس شادی ہی ہوئی- ایسا ہی کوئی پروگرام تائی کا ہمارے متعلق بھی تھا۔ مگر ہمارے گھر والوں نے تعلیم، نوکری، اور عمر کی کمی کا کہہ کے منع کر دیا۔

گرمیوں کی دوپہر تائی ہمیشہ ہمارے کمرے میں گزارتیں۔ کمرے کے اکلوتے پنکھے کے نیچے بڑے پلنگ پہ پائنتی کی طرف آڑھی لیٹتیں، سو کسی کے لیے کوئی جگہ نہ بچتی پنکھے سے استفادہ کی، مگر کسی کی کیا مجال جو لب کھولے۔ ایک مرتبہ امی کی غیر موجودگی میں ہم بہن بھائی کمرہ بند کر کے سو گئے، تائی دروازہ پیٹ کے چلی گئیں۔کئی ایک نے اپنے کمرے میں سونے کی دعوت بھی دی مگر گئی نہیں۔ گھر کے کسی دوسرے کمرے میں نہ سونے کی عادت کی وجہ سے تائی کو پریشانی تو ہوئی ہو گی۔ ہمیں یہ بات ہماری سگی تائی نے بتائی ہم سب بہن بھائی نادم ہوئے لہٰذا پھر ہم نے ایسی غیر ذمہ دارانہ حرکت نہیں کی۔

گھر کے بچے تائی سے مذاق کرتے ہی تھے۔ ہر کوئی چھیڑ خانی کرتا اور ان کے غصے بھر  ے

جملے سن کے محظوظ ہوتا، نماز پڑھنے کے بعد تائی بچوں کو پکڑ پکڑ کے پھونکیں مارتیں اور بچے بچ نکلتے، جل دے جاتے اور تائی کی پھونکیں ہواؤں کو بابرکت کرتی رہتیں۔

اللہ بخشے ابّا جی کہتے تھے کہ ہم نے بچپن سے تائی کو اسی حالت میں ہمیشہ دیکھا۔ اتنے ہی بال سیاہ اور اتنے ہی سفید تھے ابا جی کہتے کہ ہم بوڑھے ہو گئے مگر تائی ویسے کی ویسی ہیں۔ اندازے لگانے والے تائی کی عمر کو سینچری سے اُوپر دیکھتے تھے۔ افسوس کسی نے تائی کا پاسپورٹ نہ دیکھا جسے تائی نے اللہ جانے کہاں غائب کیا، تائی کی جو لے پالک بیٹی سلطانی آپا تھیں اس سے بھی تائی کا کوئی خاص لگاؤ  نہیں تھا۔ اُن کے لیے تو بس کرشن نگر کا بازار، گلیاں اور ہماری حویلی ہی سب کچھ تھی ایک روٹی سے آدھی روٹی اور پھر چپا (چوتھائی) روٹی اور تھوڑا سا سالن کھانے والی کا خرچہ بھی کتنا ہو گا۔ جو پیسے بڑوں کی جیبوں سے نکلواتی تھیں وہ بچوں پہ لگا دیتی تھیں علی (چچا زاد) بہت چھوٹا تھا اس کی من مرضی کی چیزیں دور دراز سے لے آتی تھیں -یوں بھی ہمارا بھرا پُرا گھر تھا کاروبار، گاڑیاں اور سب کچھ تھا۔

تائی کبھی بیمار نہ پڑیں البتہ ایک رات جب سب گرمیوں میں چھتوں پہ سو رہے تھے تبھی تائی کے چیخنے کی آوازیں سُنائی دیں سب دوڑتے ہوئے تائی کے کمرے میں چارپائی تک پہنچے تو تائی کی آنکھیں کھلی تھی اور وہ کہہ رہی تھیں۔ تم آ گئے مجھے لینے؟ چلو چلتی ہوں! لے چلو مجھے۔۔۔۔ ہڑبڑا کے، چھتیں پھلانگ کے، تائی کے گرد اکٹھے ہونے والے سب ہی یہ سمجھے کہ آخری وقت آن پہنچا اور تائی کو فرشتۂ اجل دکھائی دے گیا ہے۔ مگر ایسا نہ ہوا تائی اس کے بعد بھی بہت عرصہ زندہ رہیں اور پھر ہمارے تایا زاد فرخ کے ولیمے کے اگلے دن جب ولیمے کی دیگیں ابھی گھر ہی میں پڑی تھیں، حشمت تائی نے فرشتۂ اجل کو لبیک کہا۔ خدا کا شکر ہے حشمت تائی پہ رونے والیاں تھیں ورنہ لاوارثوں پہ کون روتا ہے۔ ہائے میرا خاندان کتنا اور کیسا دل والا تھا۔ وہ لوگ کیسے تھے! اپناتے تھے تو قبر تک آنسوؤں کے ساتھ چھوڑ کے آتے تھے۔

تائی کو محلے داروں کی خواہش پہ کرشن نگر کے قبرستان میں دفن کیا گیا ورنہ ہمارا سارا خاندان میانی صاحب میں آسودۂ خاک ہے۔ تائی کی قبر کی دیکھ بھال ہم سے زیادہ محلے داروں نے کی- جب تک رانا مقبول ایڈووکیٹ زندہ رہے قبر سلامت رہی، وہی تائی کی برسی کا ختم بھی دلاتے تھے۔ ادا جی کی یہ بات پوری ہوئی کہ وہاں غیروں کے کاندھوں پہ جانے کی بجائے اپنوں کے کاندھوں پہ جانا۔